دو دنوں کے وقفے کے بعد بھٹکل میں پھر زبردست بارش؛ راستے تالاب میں تبدیل؛ درختوں کے گرنے سے مزید کئی مکانوں کو نقصان؛ 18 الیکٹرک کھمبے گرنے سے دو لاکھ کا نقصان

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 10th August 2019, 9:48 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل 10/اگست (ایس او نیوز)  گذشتہ دو دنوں تک  تھوڑی بہت راحت دینے کے بعد آج سنیچر کو پھر ایک بار بھٹکل میں زبردست بارش شروع ہوگئی جس سے نہ صرف عام زندگی  درہم برہم ہوگئی بلکہ  کئی راستے تالاب میں تبدیل  ہوگئے۔ رنگین کٹہ نیشنل ہائی وے کے ساتھ ساتھ ، پٹرول پمپ کے سامنے اور شمس الدین سرکل پر بھی کثیر مقدار میں پانی جمع ہوگیا، اسی طرح نشیبی علاقوں بالخصوص اولڈ بس اسٹائنڈ کے قریب،  مین روڈ اور ماری کٹہ روڈ پر بھی  نالے  بھرجانے  کی وجہ سے  کافی وقت تک  پانی سڑکوں پر سے  گذرتا ہوا دیکھا گیا۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے  آج بھی اسکولوں اور کالجوں میں پہلے ہی چھٹی کا اعلان کیا گیا تھا اس بنا پر تمام تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ انجمن نے مسلسل ہورہی بارش کو دیکھتے ہوئے اور عید الاضحیٰ کےایام قریب آنے کے مد نظر  تین روز پہلے ہی  اپنے تمام تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کردیا تھا۔

آج صبح سے جاری طوفانی  اور مسلسل بارش کے نتیجے میں  تین جگہوں پر مکانوں پر درخت گرنے سے مکانوں کو نقصان ہونے کی اطلاع ملی۔ بھٹکل تعلقہ کے بیلکے دیہات میں ماستی سومیا موگیر، مُنڈلی میں  سمپران ڈیسوزا اور ہیبلے ہیرتار میں سومی کوپّیا گونڈا کے مکان پر درخت گرنے سے مکانوں کی چھتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

آج ہوئی زبردست بارش سے تعلقہ کے مختلف علاقوں میں جملہ 18 الیکٹرک کھمبے گرنے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ ہیسکام انجینر نے بتایا کہ   نیرگیدے میں پانچ، آتیباراور آشیکان میں تین، تین، کنڈک اور فردوس نگر میں دو،  دو، تینگار اور مڈل ہتلو میں ایک،ایک کھمبا گرا ہے۔ ہیسکام ذرائع کے مطابق  جملہ 2.05 لاکھ مالیت کا نقصان ہوا ہے۔ مسلسل برستی بارش اور  کھمبوں اور الیکٹرک وائروں پر درختوں کے گرنے سے  بجلی کی انکھ مچولیاں بھی صبح سے شام تک جاری رہی۔

شام کے بعد بارش میں تھوڑی بہت کمی دیکھی جارہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل: مرڈیشور میں راہ چلتی خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش ہوگئی ناکام؛ علاقہ میں تشویش کی لہر

تعلقہ کے مرڈیشور میں ایک خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش اُس وقت  ناکام ہوگئی جب اُس نے ہاتھ پکڑ کھینچتے وقت چلانا اور مدد کے لئے پکارنا شروع کردیا،  وارات  منگل کی شب قریب نو بجے مرڈیشور کے نیشنل کالونی میں پیش آئی۔واقعے کے بعد بعد نہ صرف مرڈیشور بلکہ بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر ...

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

ساگر مالا منصوبہ: انکولہ سے بیلے کیری تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے خاموشی کے ساتھ کیاجارہا ہے سروے۔ سیکڑوں لوگوں کی زمینیں منصوبے کی زد میں آنے کا خدشہ 

انکولہ کونکن ریلوے اسٹیشن سے بیلے کیری بندرگاہ تک ’ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت ریلوے رابطے کے لئے لائن بچھانے کا پلان بنایا گیا اور خاموشی کے ساتھ اس علاقے کا سروے کیا جارہا ہے۔

ماڈرن زندگی کا المیہ: انسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ضلع شمالی کینرا میں درج ہوئے ڈھائی سال میں 641معاملات!

جدید تہذیب اور مادی ترقی نے جہاں انسانوں کو بہت ساری سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں پر زندگی جینا بھی اتنا ہی مشکل کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور خاص کرکے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

منگلورو پولیس نے ایک اور مشکوک کار کو پکڑا؛ پنجاب نمبر پلیٹ والی کار کے تعلق سے پولس کو شکوک و شبہات

دو دن دن پہلے لٹیروں اور جعلسازوں کی ایک ٹولی کے قبضے سے منگلورو پولیس نے ایسی کار ضبط کی تھی جس پر نیشنل کرائم انویسٹی گیشن بیوریو، گورنمنٹ آف انڈیا لکھا ہوا تھا۔اب مزید ایک مشکوک کار کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ جس پر بھی گورنمینٹ آف انڈیا لکھا ہوا ہے۔

بھٹکل: مرڈیشور میں راہ چلتی خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش ہوگئی ناکام؛ علاقہ میں تشویش کی لہر

تعلقہ کے مرڈیشور میں ایک خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش اُس وقت  ناکام ہوگئی جب اُس نے ہاتھ پکڑ کھینچتے وقت چلانا اور مدد کے لئے پکارنا شروع کردیا،  وارات  منگل کی شب قریب نو بجے مرڈیشور کے نیشنل کالونی میں پیش آئی۔واقعے کے بعد بعد نہ صرف مرڈیشور بلکہ بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر ...

کاروارمیں ریڈ الرٹ کے باوجود کوسٹل سیکیوریٹی پولیس کی انٹر سیپٹر کشتیاں نہیں اتریں سمندر میں!

ابھی دو دن پہلے ملک کی خفیہ ایجنسی نے سمندری راستے سے دہشت گردانہ حملہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا جس کے بعد پوری ریاست کرناٹکا میں اور بالخصوص ساحلی کرناٹکا میں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔