ریاست میں پانی کی صورتحال مخدوش: وزیر اعلیٰ کمار سوامی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th June 2019, 10:55 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،13؍جون (ایس اونیوز) مانسون کی غیر معمولی تاخیر کے سبب ریاست میں پانی کی صورتحال مخدوش ہوگئی ہے- اس سلسلے میں نہ صرف تملناڈو بلکہ ریاست کے اندر اضلاع بھی اپنا کوٹہ طلب کر رہے ہیں - محکمہ آبی وسائل کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے کہا ”2007 میں نظر ثانی عرضی داخل کرنے کے بعد گو ہمیں کاس کاویری 14ٹی ایم سی افزود پانی ملا ہے مگر ریاست کے مختلف اضلاع سے اس کے کئی دعویدار ہیں - ریاست کرناٹک کے قدرتی آفات نگرانی مرکز (کے ایس این ڈی ایم سی) کے مطابق اس سال 11جون تک آبی ذخائر میں ایک ٹی ایم سی سے کم پانی بہا ہے- کے ایس این ڈی ایم سی کے ڈائرکٹر جی سرینواس ریڈی ے کہا گو ساحلی حصوں اور ملناڈ کے علاقوں میں بارش ہوئی ہے، یہ مانسون کی آمد کیلئے درکار تمام ضوابط کو پورا نہیں کرتی، ایک دہے میں کم از کم پہلی مرتبہ مانسون کی آمد میں اس قدر تاخیر ہوئی ہے اور اسے پوری ریاست کا احاطہ کرنے میں مزید کچھ دن لگیں گے- جائزہ میٹنگ میں کمار سوامی نے منتخب نمائندوں پر الزام لگایا اور کہا ”ہم ووٹ کے لئے افسروں پر دباؤ ڈالتے ہیں اور حکومت کے پیسے کا غلط استعمال کرتے ہیں، یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ صرف ان پراجکٹوں کے لئے رقم جاری کی جائے جو نتیجہ دیتے ہیں - انہوں نے کہا کہ افسروں کو مضبوط رہنا چاہئے اور انہیں اس پر آمادہ کرنا چاہئے کہ رقم کا صحیح استعمال ہو“ انہوں نے کہا ”اندھرا پردیش کو دیکھو کہ انہوں نے کرشنا کا پانی ہندوپوراور مڈاکاسرا تک لایا ہے جو ہمارے پاؤگڈھ اور ملباگل کے بعد ہے- اگر ہم کرشنا کا پانی ٹمکورو یا کولار کو لاناچاہئیں تو خود ہمارے اپنے لوگ مخالفت کریں گے- ریاست میں مانسون کی تاخیر پر وضاحت کرتے ہوئے ریڈی نے کہا کہ سیلابی آندھی ”وایو“ بادلوں کو جنوب سے گجرات کے ساحل لے گئی ہے، ایسے کئی واقعات ہیں کہ کرناٹک کے ساحلوں تک مانسون آنے کے بعد اسے پوری ریاست کا احاطہ کرنے ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت لگا ہے-انہوں نے کہا ”حالیہ یادداشت میں مانسون اتنا موخر نہیں ہوا- وایو کے تھمنے پر 16/جون کے بعد اندرونی علاقوں میں اچھی بارشیں ہوں گی-

ایک نظر اس پر بھی

آئی ایم اے میں سرمایہ کاری کرکے دھوکہ کھانے والے متاثرین کی قانونی مدد کے لئے اے پی سی آر کی خدمات دستیاب

آئی ایم اے میں سرمایہ کاری کرکے دھوکہ کھانے والے متاثرین کی قانونی رہنمائی اور اُن کی  مدد کے لئے  اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس  (اے پی سی آر)  کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہے۔جن  لوگوں نے  اپنی چھوٹی چھوٹی سرمایہ  کاری  اس کمپنی میں کی تھی اور اب وہ کنگال ہوچکے ہیں، اے پی ...

جندال اسٹیل کمپنی معاملہ سے متعلق حکومت نے سب کمیٹی تشکیل دی، کے پی سی سی سے استعفیٰ دینے کی خبرو ں میں کوئی سچائی نہیں: دنیش گنڈو راؤ

پردیش کانگریس کمیٹی(کے پی سی سی) صدر دنیش گنڈو راؤ نے کہا کہ جندال کمپنی کے لئے زمین فروخت کرنے کے معاملہ میں ریاستی حکومت نے سب کمیٹی تشکیل دی ہے۔

آئی ایم اے معاملہ میں نرم رویہ اختیار کرنے کاسوال پیدا نہیں ہوتا: ضمیر احمد خان

آئی مانیٹری اڈوائزری (آئی ایم اے) نامی پونزی کمپنی کے دھوکہ دہی معاملہ میں نرم رویہ اختیار کئے جانے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔اس پس منظر میں بی جے پی کی جانب سے عائد کئے جارہے الزامات بکواس ہیں۔