مخلوط حکومت کی بقا کا سسپنس برقرار آج بھی اسمبلی میں تحریک اعتماد پر ووٹنگ کا امکان،باغیوں کو واپس لانے کیلئے سدارامیا کو وزیر اعلیٰ بنانے کی پیش کش

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 22nd July 2019, 11:42 AM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بنگلورو،22؍جولائی (ایس او نیوز) ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کوبچانے کے لئے اتحادی جماعتوں کے قائدین کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف اپوزیشن بی جے پی اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح پیر کے روزتحریک اعتماد پر اسمبلی میں ووٹنگ ہو جائے لیکن خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ باغیوں سے مصالحت نہ ہونے کی صورت میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کی طرف سے یہ کوشش کی جاسکتی ہے کہ ووٹنگ کو ٹال دیا جائے -بتایا جاتا ہے کہ اتحاد کے قائدین سپریم کورٹ میں وہپ کے متعلق دائر عرضی کے متعلق فیصلے کے انتظار میں بھی ہیں تاکہ عدالت عظمیٰ سے اگر فیصلہ سیاسی پارٹیوں کے حق میں صادر ہوتا ہے تو باغی اراکین کو اسمبلی اجلاس میں شریک ہو کر حکومت کی حمایت کے لئے مجبور کیا جاسکے-حکمران اتحاد کی طرف سے یہ کوشش بھی ہو رہی ہے کہ کسی طرح باغیوں کو سمجھا بجھا کر واپس لایا جا سکے-حالانکہ ریاستی گورنر واجو بھائی والا نے ریاسی حکومت کو جمعہ کے روز پہلے یہ ہدایت دی کہ اعتماد کاووٹ دوپہر 1.30بجے تک لے لیا جائے اس کے بعد دوسری بار شام6بجے تک کی مہلت دی گورنر کے اس اقدام کی پرواہ کئے بغیر ریاستی حکومت نے اسمبلی میں تحریک اعتماد پر بحث کاسلسلہ جاری رکھا اور واضح کردیا کہ اسمبلی کی کارگزاری میں مداخلت کرنے کا گورنر کو کوئی اختیار نہیں ہے-جمعہ کے روز اجلاس کے اختتامی مراحل میں کانگریس لیجس لیچر پارٹی لیڈر سدارامیا نے اسپیکر رمیش کمار کو یہ تیقن دیا کہ پیر کے روز ہر حال میں تحریک اعتماد پر ووٹنگ کرائی جائے گی- لیکن اس کے بعد بھی اتحادی قائدین کو باغی اراکین کومنانے کی کوشش میں کوئی کامیابی نہ مل پائی- اس دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ کانگریس نے باغی اراکین اسمبلی کے افراد خانہ کے ذریعے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ انہیں اس بات کے لئے منایا جا سکے کہ کل اسمبلی اجلاس کی کارروائی میں وہ حاضر رہیں -کانگریس - جے ڈی ایس قائدین نے اب بھی یہ یقین برقرار رکھا ہے کہ حکومت ایوان میں اعتماد کا ووٹ ثابت کردے گی تو دوسری طرف بی جے پی کو اس بات کا یقین ہے کہ پیر کا دن ریاست میں کمارسوامی حکومت کا آخری دن ہوگا اور اگلے دو تین دن میں ریاست میں ایک نئی حکومت قائم ہوگی-

آزاد اراکین سپریم کورٹ سے رجوع:اس دوران اسمبلی میں تحریک اعتمادپرووٹنگ کو ٹالنے کے لئے حکمران اتحاد کی کوششوں کو دھکا پہنچ سکتا ہے کیونکہ ایوان میں تحریک اعتمادا پر فوراً ووٹنگ کروانے کا مطالبہ لے کر دوآزاد اراکین اسمبلی سپریم کورٹ سے رجوع ہو گئے ہیں - اگر عدالت عظمیٰ کی طرف سے اس ضمن میں کل کوئی حکم صادر ہو جاتا ہے تو اس سے حکمران کانگریس اور جے ڈی ایس اتحاد کی پریشانی میں اضافہ یقینی ہے-ان دونوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ اسمبلی اسپیکر کو یہ ہدایت دی جائے کہ 22جولائی (پیر) کی شام 5بجے تک اسمبلی میں تحریک اعتماد پر ووٹنگ کرائیں -
جے ڈی ایس قربانی دینے تیار:اس دوران باغی کانگریس اراکین اسمبلی کو واپس آکر تحریک اعتماد پر ووٹنگ میں حصہ لینے کے لئے آمادہ کرنے کی ایک اور کوشش کے تحت آج ریاستی جنتا دل (ایس) قیادت نے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے دستبردار ہونے کی پیش کش کردی- ریاستی وزیر آبی وسائل ڈی کے شیو کمار نے جے ڈی ایس کی طرف سے ایسی پیش کش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جے ڈی ایس قیادت نے حکومت کو بچانے کی خاطر وزیر اعلیٰ کے عہدے سے دستبردار ہونے کی پیش کش کی ہے اور کانگریس پارٹی سے کہا ہے کہ وہ اپنے کسی بھی رہنما کو وزیر اعلیٰ منتخب کرلے جے ڈی ایس ان کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہے- انہوں نے کہا کہ جے ڈی ایس سربراہ اور سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا نے کانگریس اعلیٰ کمان کو یہ پیغام روانہ کردیا ہے کہ کانگریس کے تین رہنماؤں سدارامیا،جی پرمیشور یا ڈی کے شیوکمار میں سے کسی کو بھی وزیر اعلیٰ بنایاجائے تو جے ڈی ایس ان کی قیادت والی حکومت کی حمایت کرنے کیلئے تیار ہے-

سدارامیا کی تاج پوشی؟؟شیو کمار کے اس اعلا ن کے فوراً بعد جے ڈی ایس کے سینئر رہنماؤں کے ایک وفد نے سدارامیا سے ملاقات کی اور ان سے گزارش کی کہ وہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ منظور کرلیں -بتایا جاتا ہے کہ سابق وزیر اعظم دیوے گوڈا نے کسی بھی حال میں سدارامیا کو بطور وزیر اعلیٰ تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا لیکن موجودہ سیاسی صورتحال میں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ریاست میں جو سیاسی بحرا ن کھڑا ہوا ہے اس کے لئے سدارامیا کافی حد تک ذمہ دار ہیں اسی لئے اسے ختم کرنے کی ذمہ داری بھی انہیں کو دی جائے اور اس کے بعد حکومت کی باگ ڈور بھی انہیں سونپ دی جائے تو ممکن ہے کہ باغیوں میں شامل سدارامیا کے وفاداروں کو واپس لایا جا سکتا ہے-دیوے گوڈا نے سدارامیا کے نام پر رضامندی ظاہر کردی - اس دوران شیو کمار نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا کہ اسمبلی میں پیر کو بھی تحریک اعتماد پر ووٹنگ کو ٹالنے کی کوشش کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ کل ایوان میں ضرور ووٹنگ کروادی جائے گی- انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمران اتحاد کو بی ایس پی رکن این مہیش کی حمایت بھی حاصل رہے گی-دوسری طرف مہیش نے شیوکمار کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہیں اپنی پارٹی سے اس ضمن میں کوئی ہدایت نہیں ملی ہے اسی لئے پیر کے دن بھی وہ اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے-

مہیش تائید کے لئے رضامند:اس دوران ریاستی اسمبلی میں بی ایس پی کے واحد رکن اور سابق وزیر این مہیش نے کمارسوامی حکومت کی حمایت کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے انہیں آج یہ ہدایت جاری کی کہ وہ اسمبلی اجلاس میں حاضر ہوں اور کرناٹک کی سکیولر حکومت کی حمایت کریں۔ پارٹی صدر کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے وہ کل اسمبلی میں موجود رہیں گے-

کمارسوامی کی خراب صحت سے بی جے پی خوفزدہ:اس دوران جے ڈی ایس کے ذرایع سے ملنے والی یہ خبر کہ وزیر اعلیٰ کمارسوامی کی صحت خراب ہے بی جے پی کے خیمے میں دہشت کاسبب بن گئی کیونکہ صحت کی خرابی کے سبب اگر کمارسوامی کل اسمبلی اجلاس میں شریک نہ ہو پائے تو تحریک اعتماد اس وقت تک ٹل سکتی ہے جب تک کہ وزیر اعلیٰ صحت یاب نہ ہوجائیں۔وہ اس لئے کہ اسمبلی میں تحریک اعتماد پر جو بحث جاری ہے اس کا وزیر اعلیٰ کے جواب کے بغیر تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو پائے گی-

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو: نشے میں دھت شخص نے فٹ پاتھ پر 7 لوگوں کو کچل دیا

شراب کے نشے میں دھت ایک شخص نے بہت تیز رفتار کار فٹ پاتھ پر چڑھا دی اور فٹ پاتھ پر چل رہے 7 افراد اس کار کی زد میں آ گئے۔ زخمیوں کو فوراً اسپتال پہنچایا گیا اور خبر لکھے جانے تک ان لوگوں کی حلات نازک بنی ہوئی ہے۔ یہ واقعہ بینگلورو کے ایچ ایس آر لے آؤٹ علاقے کا ہے۔

سناتن سنستھا کی شائع کردہ کتاب نے ملزموں کو ایم ایم کلبرگی کے قتل پر اکسایاتھا۔ایس آئی ٹی نے کیا اپنی چارج شیٹ میں دعویٰ

تقریباً چار سال قبل مبینہ طور پر ہندوتوا وادی شدت پسندوں نے مصنف اور دانشور ایم ایم کلبرگی کاجو قتل کیا تھا اس کی تحقیقات کرنے والی خصوصی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے چارج شیٹ داخل کردی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جس ملزم نے صحافی و دانشور گوری لنکیش کے گھر تک قاتل کو اپنی موٹر بائک پر پہنچایا ...

امیت شاہ کی ہری جھنڈی۔ریاستی کابینی میں منگل کو توسیع

ریاستی وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے آج شام دہلی میں مرکزی وزیر برائے داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی۔ امیت شاہ نے آخر کار ریاستی کابینہ میں پہلے مرحلہ کی توسیع کے لئے گرین سگنل دے دیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں 11تا13وزراء کو کابینہ میں شامل کیاجائے گا۔

ریزرویشن سے متعلق آر ایس ایس اور بی جے پی کے ارادے ٹھیک نہیں: تیجسوی یادو

  بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے ریزرویشن کے معاملے پر راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) کے چیف موہن بھاگوت کے حالیہ بیان پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ ریزرویشن کو لے کر آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں۔