مسلمانوں کیخلاف اشتعال انگیزی کے معاملہ میں سپریم کورٹ کا اتراکھنڈ سرکار کو نوٹس

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 14th January 2022, 10:24 AM | ملکی خبریں |

 

نئی دہلی 14 جنوری (ایس او نیوز)  سپریم کورٹ نے ہری دوار کے ’دھرم سنسد‘ پروگرام میں مسلمانوں کے خلاف کی گئی  انتہائی قابل اعتراض اور اشتعال انگیز تقاریرکے خلاف دائرعرضیوں پر بدھ کو اتراکھنڈ حکومت کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا ہے ۔  چیف جسٹس این وی رامنا، جسٹس سوریہ کانت اورجسٹس  ہیما کوہلی کی بنچ نے متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد اتراکھنڈ حکومت کو نوٹس جاری کر کے اپنا جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ چیف جسٹس رامنا نے کہا کہ ’’  ہم ابھی صرف نوٹس جاری کر رہے ہیں۔ اگلی سماعت ۱۰؍دنوں کے بعد ہوگی ۔‘‘

اس سے قبل سینئر وکیل کپل سبل نےعرضی گزار کی طرف سے دلیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ معا ملہ انتہائی سنگین ہے ۔ اس طرح کی ’دھرم سنسدوں‘ کا انعقاد بار بار کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے استدعاکی کہ اگلا پروگرام ۲۴؍جنوری کو علی گڑھ میں ہے  اس لیے اس تاریخ سے پہلے اگلی شنوائی کی جائے ۔انہوں نے بنچ کے روبرو کہا کہ قابل اعتراض اشتعال انگیز تقاریر کو روکنے کے لئے اگرجلد اقدامات نہیں  کئےگئے تو اونا، ڈاسنا اورکروکشیتر وغیرہ میں بھی اسی طرح کی ’دھرم سنسدیں‘ ہوں گی جہاں سے مسلمانوں کیخلاف اور بھی زیادہ اشتعال انگیزی کی جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں سے پورے ملک کا ماحول خراب ہورہا ہے ۔ یہ پروگرامس نہ صرف جمہوریت کے لئے سخت نقصاندہ ہیں بلکہ اس سے قومی یکجہتی اور آپسی بھائی چارہ بھی متاثر ہوتا ہے جو اس  بہترین جمہوریت کو تباہ کردے گا۔ 

ان دلائل کو سننے کے بعد عدالت عظمیٰ کی بینچ نے سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید، پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج اور وکیل انجنا پرکاش، سینئر صحافی قربان علی اور دیگر کی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے اتراکھنڈ حکومت کو جلد از جلد اپنا جواب داخل کرنے کا حکم جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے  ساتھ ہی  انجنا پرکاش اور صحافی قربان علی کو دیگر مقامات پر ’دھرم سنسد‘ منعقد کرنے کی اجازت کا معاملہ متعلقہ علاقے کےحکام کے نوٹس میں لانے کی اجازت دے دی ۔عرضیوں کی سماعت کے دوران سینئر ایڈوکیٹ اندرا جئے سنگھ نے تشار گاندھی کی طرف سے دائر مداخلت کی عرضی کا حوالہ بھی  دیا۔ انہوں نے بینچ کے روبرو دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ تشار گاندھی کی عرضی پر  ۲۰۱۹ءمیں عدالت نے ہجومی تشدد سے متعلق احکامات جاری کئے تھے ۔ اگر اس فیصلے پر عمل درآمد کیا جاتا تو ایسی ’دھرم سنسد‘ کا انعقاد نہیں ہوتا جہاں قابل اعتراض تقاریر کی گئیں ۔  واضح رہے کہ  سپریم کورٹ میںعرضیاں دائرکرنے والوں میں 

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی میں شامل ہونے والے اسیم ارون پر اکھلیش یادو کا حملہ ’کیسے کیسے لوگ وردی میں چھپے بیٹھے تھے‘

اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل سابق آئی پی ایس اسیم ارون کے بی جے پی کی رکنیت حاصل کرنے پر سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو افسران پانچ سال تک بی جے پی کے لئے کام کر رہے تھے آج انہوں نے اپنی اصلیت ظاہر کر دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس ...

دارا سنگھ سماجوادی پارٹی میں شامل، یوگی کے تیسرے وزیر اکھلیش کی سائیکل پر سوار

 سوامی پرساد موریہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو خیر آباد کہنے والے یوگی حکومت کے سابق وزیر دارا سنگھ چوہان نے اتوار کے روز سماج وادی پارٹی (ایس پی) کا دامن تھام لیا۔

جیل سے رہا ہونے کے بعد رامپور پہنچے عبد اللہ اعظم ’ہم پر جتنا ہو سکتا تھا ظلم ہوا، میرے والد کی جان کو خطرہ‘

اتر پردیش میں انتخابات سے قبل سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو بڑی راحت ملی ہے۔ تقریباً 23 مہینے بعد جیل سے رہا ہونے کے بعد عبد اللہ اعظم نے حکومت اور انتظامیہ پر جم کر نشانہ لگایا۔