مسلم حکمران اور ذرائع ابلاغ اخلاقیات کا درس دیں: خطبہ حج

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 21st August 2018, 12:28 AM | خلیجی خبریں |

مکہ المکرمہ،20؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) ڈاکٹر شیخ حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرو اور تمام انبیاء نے اپنی قوموں سے بھی یہ کہا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو۔

سعودی عرب میں حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کی ادائیگی کے لیے لاکھوں عازمین میدان عرفات میں موجود ہیں جہاں مسجد نبوی کے امام شیخ حسن بن عبدالعزیز آل الشیخ نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے قرآن میں کہا ہے کہ تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم فلاح پاسکو۔

خطبہ حج میں کہا گیا کہ اے مسلمانوں میں نصیحت کرتا ہوں کہ تقویٰ اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کریں کیونکہ جس نے تقویٰ اختیار کیا وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوگا اور جو اللہ تعالیٰ سے ڈرا اللہ اس کو سیدھے راستے پر گامزن کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اے ایمان والوں تم تقویٰ اختیار کرو اور جب تم ایسا کروگے تو اللہ تمہیں کامیاب کرے گا، اللہ نے ایک اور جگہ یہی ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ جو اللہ اور اس کے نبی کے حکم پر جواب دیتے ہیں ان کے لیے اجر عظیم کا وعدہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر کرتے ہوئے انہیں حکم دیا کہ اللہ کی عبادت کریں اور تقویٰ اختیار کریں، تقویٰ میں یہ بھی شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرے، اللہ نے حکم دیا کہ ’ اے لوگوں تم اس کی عبادت اختیار کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے آنے والے انسانوں کو پیدا کیا، جس نے تمہارے لیے زمین و آسمان بنائے، آسمان کو تمھارے لیے چھت اور زمین کو فرش بنادیا اور تمہارے لیے ہر طرح کی نعمتیں اور پھل اور رزق نازل کیا، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ‘۔

خطبہ حج میں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ میں نے انسان اور جن کو اس لیے پیدا کیا تاکہ وہ میری عبادت کریں اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں، اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ برملا اعلان کیا کہ صرف میں ہی واحد الاحد ہوں اور میں ہی خدا ہوں اور صرف میری ہی عبادت کرو۔

شیخ حسین بن عبدالعزیز نے کہا کہ ’تمام انبیاء نے جو تعلیمات دیں، ان کا بنیادی نقطہ توحید تھا، جس میں حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی تعلیمات دیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل توحید کے لیے جنت کا وعدہ کیا ہے اور شرک کرنے والوں کو تنبیہ کی ہے کہ ان کا خاتمہ برا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ خالص توحید کا پیغام یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد و لاشریک ہے، اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ کہہ دیجیے کہ میرا ایک ہی رب ہے اور وہ واحد ہے اور میں اسے پر توکل اختیار کرتا ہوں اور اسی کی عبادت کرتا ہوں۔

خطبہ حج میں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کوئی دو خدا نہیں ایک خدا ہے اور اسی کی پیدا کردہ آسمان اور زمین ہیں، تمہارے لیے جو بھی نعمت دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ہے اور جب تمہیں کوئی مشکل یا پریشانی درپیش ہوتی ہے تو تم اللہ کی طرف لوٹتے ہو اور جب تم اس پریشانی سے نکل جاتے ہو، تو تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو دوبارہ شرک کرنے لگتے ہیں۔

شیخ حسین بن عبدالعزیز نے کہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں اور اللہ نے قرآن میں بتا دیا کہ رسول اللہ کو تمام انسانوں کے لیے بھیجا تاکہ وہ انہیں بشارت دے سکیں۔

خطبہ حج میں کہا گیا کہ اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں کیونکہ نماز برائیوں اور بے حیائیوں سے روکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ ہم کسی بھی نیک عمل کو ضائع نہیں ہونے دیں گے، اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ جو ہم عمل کریں گے روز قیامت اس کا صلح پائیں گے۔

خطبہ حج میں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے 5 ویں رکن میں جج کا ذکر کیا اور حج اس صاحب استطاعت پر فرض کیا گیا، رسول اللہ نے فرمایا کہ جس نے حج ادا کیا اور کوئی غلط کام نہیں کیا تو جب وہ واپس لوٹتا ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے ابھی آیا ہو۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علی وسلم کے اخلاق کے حوالے سے مفتی اعظم نے اپنے خطبے میں حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو اللہ کے نبی کے اخلاق کے بارے میں معلوم کرنا ہے تو وہ قرآن کی تلاوت کرے۔

احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بہترین شخص وہ ہے جس کا اخلاق سب سے بہتر ہے، جو لوگو قرآن و حدیث کی پیروی کرتے ہیں، شریعت میں بدعت سے دور رہتے ہیں ان کے لیے آخرت میں بہترین صلح ہے۔

انہوں نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کا ارشاد ہے کہ ہمیشہ صادقین کا ساتھ دو، کسی جھوٹے کا ساتھ نہ دو اور ایسا کرو گے تو کامیابی تمھارے قدم چومے گی۔

خطبہ حج میں کہا گیا کہ اللہ کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ اپنے والدین، پڑوسیوں، رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک رکھنا اور اپنی رعایا کے ساتھ بھی اچھا معاملہ رکھنا، اللہ کی جانب سے یہ بات واضح کر دی گئی کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھی گفتگو کرنا اور ان کے ساتھ اف بھی نہیں کرنا اور ان کے لیے دعا کرتے رہنا۔

شیخ حسین بن عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ اللہ کے نبیﷺ نے عرفات میں جو خطبہ دیا اس میں کہا گیا کہ اپنی بیویوں کے ساتھ نرم سلوک روا رکھنا، اللہ نے ارشاد فرمایا کہ انصاف کرنا، اور ناپ تول میں کمی نہ کرنا، کیونکہ یہ جہنم میں لے جانے والی چیزیں ہیں۔

خطبہ حج دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ کا ارشاد ہے کہ اپنے آپ کو غیبتوں سے بچنے، تکبر سے بچنے کی کوششیں کرنی چاہیے،یہ قرآن ہمیں راہِ حق کی جانب گامزن کرتا ہے ، جس کی ہمیں تلاوت کرنی چاہیے اور اسے اپنے نظام میں شامل کرنا چاہیے۔

اخلاق کے حوالے سے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا گیا کہ لوگوں کو اچھے اخلاق کی وجہ سے بہت سے کامیابیاں حاصل ہوئیں، میں مسلم حکمرانوں، والدین، اساتذہ، ذرائع ابلاغ کو نصیحت کروں کا کہ آپ اخلاق کی بات کریں اور اخلاقیات کا درس دیں، ایسے اخلاق جس سے ہم دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرسیں۔

انہوں نے کہا کہ اے دنیا بھر کے بزرگوں، ماؤں، بہنوں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ ہم اپنے اخلاق کو بہتر کر لیں۔

خطبہ حج دیتے ہوئے کہا گیا کہ اللہ کے نبیﷺ نے عرفہ کے دن حضرت بلالؓ کو آذان دینے کا حکم دیا اور ظہر کے وقت 2 رکعات قصر ادا کی اور پھر عصر کے وقت اذان کا حکم دیا اور 2 رکعات قصر ادا کی اور پھر مغرب کے وقت تک اپنی اونٹنی پر بیٹھے رہے۔

مناسک حج

مناسکِ حج کی ادائیگی کا سلسلہ 8 ذوالحج سے شروع ہوتا ہے جو 12 ذوالحج تک جاری رہتا ہے۔

8 ذوالحج کو عازمین مکہ مکرمہ سے منیٰ کی جانب سفر کرتے ہیں اور رات بھر عبادت کرتے ہیں۔

9 ذوالحج کو فجر کی نماز کے بعد عازمینِ حج منیٰ سے میدانِ عرفات کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جہاں وقوفہ عرفہ کی ادائیگی کی جاتی ہے۔

عرفات میں غروبِ آفتاب تک قیام لازمی ہے اور اس کے بعد حجاج کرام مزدلفہ کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جہاں پر مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کی جاتی ہیں اور رات بھر یہاں قیام لازم ہوتا ہے۔

10 ذوالحج قربانی کا دن ہوتا ہے اور عازمین ایک مرتبہ پھر مزدلفہ سے منیٰ آتے ہیں، جہاں قربانی سے قبل شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔

مزدلفہ سے منیٰ کا فاصلہ تقریباً نو کلو میٹر ہے اور یہاں پر عازمین مخصوص مناسک کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس کے بعد حجاج کرام مکہ مکرمہ جاکر ایک طوافِ زیارت کرتے ہیں اور منیٰ واپس آجاتے ہیں۔

11 اور 12 ذوالحج کو تمام مناسک سے فارغ ہونے کے بعد عازمین ایک مرتبہ پھر مکہ مکرمہ جا کر مسجد الحرم میں الوداعی طواف کرتے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

جدہ میں بھٹکل کمیونٹی کی جانب سے "پیغام انسانیت اور دورِحاضر میں ہماری ذمہ داریاں" کے موضوع پر خوبصورت پروگرام

معروف عالم دین ، داعی اور کل ہند تحریک پیام انسانیت کے جنرل سکریٹری  مولانا بلال حسنی ندوی کی عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ کی آمد پر  پیر  17فروری کو بھٹکل کمیونٹی جدہ کی جانب سے جدہ میں "پیغام انسانیت اور دورِحاضر میں ہماری ذمہ داریاں" کے موضوع پر ایک پروگرام منعقد کیا گیا جس ...

سعودی عرب: ٹرانسپورٹ سے متعلق جُرمانوں کی نئی فہرست میں 221 خلاف ورزیوں کا تعین

سعودی عرب میں ٹریفک کے نظام کی بہتری کے لیے نئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین پیش رفت میں ٹرانسپورٹ اور بسوں کو کرائے پر دیے جانے کی سرگرمیوں سے متعلق 221 خلاف ورزیوں کا تعین کیا گیا ہے۔ ٹریفک کے نظام کے تحت ان میں سے بعض خلاف ورزیوں پر جرمانے کی رقم 5 ہزار ریال تک ...

 کیا نئے قطری وزیراعظم بدعنوانی کے کیس میں ماخوذ ہیں؟

قطر کے نئے وزیراعظم شیخ خالد بن خلیفہ آل ثانی کامبیّنہ طور پر ملک میں کھیلوں کے عالمی مقابلوں کے انعقاد کے لیے بدعنوانی کی ایک ڈیل سے تعلق رہا ہے۔شیخ خالد قطر کے شاہی خاندان کے رکن ہیں۔وہ ملک کے وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں۔فرانسیسی آن لائن تحقیقاتی جریدے میڈیا پارٹ اور برطانوی ...

سعودی وزارت ثقافت کی جانب سے’نیشنل تھیٹر پروجیکٹ‘کا آغاز

سعودی عرب میں وزارت ثقافت کے زیر انتظام ’نیشنل تھیٹر پروجیکٹ‘ کا آغاز ہو گیا ہے۔ پروجیکٹ کے آغاز کا اعلان منگل کی شام درالحکومت ریاض کے ’کنگ فہد کلچرل سینٹر‘ میں وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان کی سرپرستی میں ہوا۔ اس موقع پر نامور فن کاروں، دانش وروں اور سعودی عرب ...