سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف گلبرگہ میں لاکھوں عوام کی للکار

Source: S.O. News Service | Published on 22nd January 2020, 11:15 AM | ریاستی خبریں |

گلبرگہ،22/جنوری (ایس او نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی کو معلوم ہے کہ گلبرگہ کیا شہر ہے؟ اور ہندوستان کیا ہے؟ یہاں کے دلت ، پسماندہ طبقات ، مسلمان اور سیکولر ذہن رکھنے والے اعلیٰ ذات کے ہندو سب ہی ایک ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز قائدمسٹر پرکاش مول بھارتی نے 21جنوری کو پیر بنگالے گرائونڈ گلبرگہ میں منعقد کئے گئے لاکھوں احتجاجی عوام پر مشتمل ایک زبردست بین الاضلاع جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ایک اور مقررر نے ان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر نے ملک کا دستور بنایا تھا ۔ آ ج اس دستور کے خلاف کام ہورہا ہے ۔ لہٰذا تمام دلتوں ، اقوام و قبائل درج فہرست مسلمانوں اور تمام سیکولر ذہن رکھنے والے ہندو ئوں کو مل کر اس دستور کو بچانے کے لئے متحد ہوکر جدو جہد کرنی ہوگی ۔

محترمہ کے لیلا نے کہا کہ اس دیش کے عام لوگوں کا د ل بیمار ہے ، ہمیں دیش کو بچانے ،سیکولر ازم کو بچانے اور دستور کو بچانے کے لئے متحد ہوکر لڑنا ہوگا۔ ممتاز کمیونسٹ قائد مسٹر ماروتی مان پاڑے نے بھی سی سی اے، این سی آر اور این پی آر کے حکمران طبقہ کے مقاصدپر روشنی ڈالتے ہوئے ملک کے دستور کو بچانے پر زور دیا ۔

انھوں نے کہا کہ دستور ہند کے تحفظ کے لئے اتر پردیش اور منگلور میں نوجوانوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔ سابق چیف منسٹر کرناٹک مسٹر دھرم سنگھ کے فرزند اور جیورگی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر اجئے سنگھ نے کہا کہ قوانین سی اے اے ، این سی آر اور این آر پی سارے ملک کے عوام کے خلاف ہیں ۔ لہٰذا دستور ہند کا تحفظ ضروری ہے ۔ سابق وزیر کرناٹک مسٹر ایشور کھنڈرے نے کہا کہ سی اے اے ، این سی آر اور این آر پی کے قوانین مسلمانوں کو چھوڑ کر بنائے گئے ہیں ۔ یہ دستور ہند کے خلاف ہیں لہٰذا تمام عوام کو دلی کی تانا شاہی کے خلاف لڑنا چاہئے ۔ آج دیش بھر میں زبردست احتجاج ہورہا ہے ۔ یہ ملک کسی ایک مذہب کے لوگوں کا نہیں ہے سارے 130کروڑ ہندوستانیوں کا ہے۔ مسلمان اور ہم سب سے محب وطن ہیں ۔ اس معاملہ میں ہمت ہارنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہم سب ملکر اس مہم کو کامیاب کریں گے۔ کوئی بھی قربانی دینے کے لئے ہم تیار ہیں ۔ ہم ملک کو بی جے پی مکت ، مودی مکت اور امیت شاہ مکت بھارت بنائیں گے۔

اس موقع پر مہاراشٹرا سے آئی ہوء خاتون مقرر محترمہ سشما نے اپنی تقریر میں کہا کہ مودی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں جو قوانین تشکیل دئے ہیں ، وہ مسلمانوں کو نشانہ بناکر بنائے گئے ہیں ۔مندر کا معاملہ ، گائے کا گوشت کھانے کا معاملہ ، تین طلاق معاملہ یہ سارے قوانین مسلمانوں کے خلاف بنائے گئے ہیں ۔ 1955سے پہلے شہریت کا قانون بنا ہے پھر اب نئے قوانین کی کیا ضرورت ہے ۔ دراصل یہ ساری باتیں لوگوں کو تقسیم کرو اور حکومت کرو کے مقصد کے تحت کی جارہی ہیں ۔

اس موقع پر انھوں نے کانگریسی قائد و سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے کی پارلیمینٹ میں کی گئی ایک تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کھرگے جی نے پارلیمینٹ میں کہا تھا کہ آپ باہر سے آئے ہوئے لوگ ہمیں قانون سکھانے کی کوشش کریں گے تو ہم آپ کو بھگا بھگا کر ماریں گے۔ ہمیں قانون سکھانا ہے تو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا قانون سکھائے ۔ نہ کہ گجرات کا ہتھیارا قانون ۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان کو دشمن ملک کہتے ہیں ، پھر اس ملک میں بریانی کھانے کون گیا تھا ۔ کمیونسٹ قائد مسٹر سیتا رام یچوری نے کہا کہ سارے ملک میں یہی کہا جارہا ہے کہ دستور ہند کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ اس ملک کو ہندوتوا وادی راشٹر بنانا چاہتے ہیں جو ہمارے دستور کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس کے لئے دیش کے ہر باشندے کو دیش کا سپاہی بن کر کھڑا ہونا چاہئے ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

کورونا کے نام پر مسلمانوں پر حملہ؛ باگلکوٹ میں تین مسلم لوگوں کو ایک گاوں میں داخل ہونے سے روکنے کی واردات

باگلکوٹ کے مدھول پولیس اسٹیشن کے حدود میں آنے والے ایک گاؤں میں چند شرپسندوں نے مسلمانوں کو اپنے گاؤں میں داخل ہونے سے عملاً روکتے ہوئے ان پر حملہ کرنے کی واردات پیش آئی ہے  جس کی ویڈیو کلپ بھی سوشیل میڈیا پر  وائرل ہوگئی ہے۔

کورونا وائرس اپ ڈیٹ: اڈپی سے جانچ کے لئے بھیجے گئے 36 نمونے۔ جنوبی کینرا میں 21رپورٹ آئی نگیٹیو

کورونا وائرس وباء کے تعلق سے ضلع اڈپی کی جو تازہ صورتحال ہے اس کے مطابق 6اپریل کی شام تک یہاں سے جملہ 36مشتبہ افراد کے گلے سے لیے گئے تھوک کے نمونے جانچ کے لئے شیموگہ لیباریٹری میں بھیج دئے گئے ہیں۔

مینگلور کے قریب بنٹوال میں دیپ جلاؤ مہم کے دوران اقلیتوں کے گھروں پر پتھراؤ۔ پولیس میں درج کی گئی شکایت

کورونا وائرس کے خلاف متحدہ طور پر جدوجہد کی علامت کے طور پر وزیر اعظم نریندرا مودی نے دیپ جلانے کی جو آواز دی تھی، اس کے دوران بنٹوال میں اقلیتوں کے گھروں پتھراؤ کرنے اور پٹاخے پھینکنے کی واردات پیش آئی ہے۔

کاسرگوڈ میں کورونا وائرس کا بڑھتا ہوا قہر۔ مزید 9افراد کی جانچ رپورٹ آئی پوزیٹیو۔ مریضوں کی تعداد ہوگئی 151

کیرالہ کے کاسرگوڈ میں کورونا وائرس کاقہر ابھی تھمتا نظر نہیں آرہا ہے۔ 6اپریل کی شام تک کی جو صورتحال ہے اس کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے مزید9معاملات سامنے آئے ہیں جس کے ساتھ ضلع میں جملہ مریضوں کی تعداد 151ہوگئی ہے۔