پارلیمینٹ گلبرگہ کے مسلمانوں سے کھڑگے کے حق میں قیمتی ووٹ دینے ڈاکٹر اصغر چلبل کی اپیل 

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 20th April 2019, 8:29 PM | ریاستی خبریں |

گلبرگہ: 20 /اپریل(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) ڈاکٹراصغرچلبل سابق صدر گلبرگہ اربن ڈیولوپمینٹ اتھارٹی نے ایک صحافتی بیان میں کہا ہے کہ ملک کے موجودہ پارلیمانی انتخابات نہایت اہمیت کے حامل ہیں ۔2019کے پارلیمانی انتخابات مسلمانوں کے لئے آر پار کی لڑائی کی طرح سمجھے جارہے ہیں ۔پچھلے پانچ سالوں میں بی جے پی سرکار میں دلتوں ، اقلیتوں اور ؤپچھڑے ہوئے طبقات کو چن چن کر نشانہ بنایاگیا ہے۔ مسلمانوں کو کبھی ماب لنچنگ کے نام پر تو کبھی مذہب کے نام پر نشانہ بنایا گیا ۔ حد تو یہ کردی کہ شریعت میں تک مداخلت کرنے سے یہ طاقتیں باز نہیں آئیں ۔اسی لیے جان بوجھ کر پہلے تین طلاق پر سیاست کی گئی اورآر ڈینینس پاس کروایا گیا ۔ یہ طاقتیں در اصل مسلم پرسنل لا میں مداخلت کی تیاریاں کررہی ہیں ۔ ڈاکٹر محمد اصغر چلبل نے مزید کہا کہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات در اصل دستور ہند بمقابلہ منو وادی طاقتیں ہیں۔ آج سارے ملک میں مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ فرقہ پرست طاقتیں مذہب کے نام پر سیاست کر رہی ہیں ۔ آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشند کے احکامات پربی جے پی کے کئی ایک لیڈران کھلے عام مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں ۔ آر ایس ایس اور وی ایچ پی نے بی جے پی کو ہی ہندو مذہب اور ہندو سماج کا محافظ بنادیا ہے اورعوام کو یہ سمجھا یا جارہا ہے کہ بی جے پی ہی ملک کی محافظ ہے۔ڈاکٹر محمد اصغر چلبل نے مزید کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے ووٹوں کا صد فی صد استعمال کرتے ہوئے بی جے پی کو اقتدار کی دہلیز تک پہنچنے نہ دیں انھوں نے مزید کہا کہ پچھلے سالوں میں بی جے پی کی سرکار نے جو ظلم و ستم ،شریعت میں مداخلت ، اقلیتوں کے لئے بجٹ میں تخفیف جیسے نقصان دہ اقدامات کئے ہیں جن سے راست طور پر مسلمانان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر مسلمانوں کو اپنے ایک ایک ووٹ کا استعمال کرنا ہوگا اور صد فیصد ووٹنگ کروانی ہوگی ۔ہمیں اس طرح سے نہیں سوچنا چاہئے کہ الیکشن میں کوئی جیتے یا ہارے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ہمیں اس ایسی تمام باتوں کو بالائے طاق رکھ کر ملک کے دستور کو بدلنے کی کوشش کرنے والی تمام طاقتوں کو اپنے ووٹوں کے ذریعہ شکست دینی ہوگی۔ ورنہ آنے والی نسلیں بڑے نقصانات سے دو چار ہوسکتی ہیں ۔تمام مسلمانوں کو چاہئے کؤہ وہ اپنا ووٹ سیکولر جماعتوں کے حق میں استعمال کریں ۔ڈاکٹر محمد اصغر چلبل نے مزید کہا کہ جہاں تک گلبرگہ کے پارلیمانیانتخابات کا معاملہ ہے یہاں سے کانگریس آئی کے امیدوار ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرنا چاہئے ۔تاکہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھا جاسکے ۔ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے ہی ایسے امیدوار ہیں جو بی جے پی کو یہاں سے آسانی کے ساتھ شکست دے سکتے ہیں ۔ انھوں نے گلبرگہ کی ترقی کے لئے کئی ایک اہم پروجیکٹس کی یہاآں تکمیل کروائی ہے ۔ وہ ایک سیکولر ذہن رکھنے والے قائد ہیں ڈاکٹر محمد اصغر چلبل نے مزید کہا کہ اگر ملیکارجن کھرگے یہاں سے کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہ حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے ایک اعلیٰ مقام تک پہنچ سکتے ہیں ۔ اس طرح گلبرگہ کے مزید تیز رفتار ترقی ممکن ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹرکھڑگے پارلیمینٹ میں گزشتہ دس برسوں سے دلتوں ، اقلیتوں اورؤچھڑے ہوئے طبقات کی آواز بن کر اپنی خدمات انجام دیتے رہے ہیں ۔ ہمیں اس بار بھی اپنے قیمتی ووٹوں کا صحیح استعمال کرنا ہوگا۔ ؤاور گلبرگہ سے ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے کے منتخب کرواناہوگا۔ 

ایک نظر اس پر بھی

مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے والوں کی بھاری اکثریت کے ساتھ جیت

مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ اشتعال انگیز بیانات دینے والوں کو اس مرتبہ لوک سبھا انتخابات میں بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اترکنڑا لوک سبھا حلقے کے بی جے پی اُمیدوار اننت کمار ہیگڈے جنہوں نے کہا تھا کہ جب تک اسلام رہے گا دہشت گردی رہے گی،اسی طرح انہوں نے  دستور کی ...

سدانندگوڈا، پربلاد جوشی، سریش انگڑی، شیوکمار اداسی مرکزی وزارت کی دوڑ میں ایڈی یورپا، شوبھا کے حق میں، نرملا سیتارامن کونیااہم قلمدان ملنے کی توقع

مرکزی وزیر برائے اسٹاٹسٹکس اور پروگرام اپلی منٹیشن، ڈی وی سدانندگوڈا،ہبلی- دھارواڈ لوک سبھا رکن پربلاد جوشی،بلگام سے رکن پارلیمان سریش انگڑی اور ہاویری رکن پارلیمان شیوکمار اداسی اب کرناٹک سے مرکزی وزارت کے لئے دوڑ میں سب سے آگے ہیں -

ایچ کے پاٹل نے راہل گاندھی کو بھیجا استعفیٰ

ریاست میں کانگریس کے تشہیری مہم کمیٹی کے صدر ایچ کے پاٹل نے لوک سبھا انتخابات میں ریاست میں پارٹی کی شکست کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفی دینے کی پیشکش کی ہے۔

کرناٹک میں جے ڈی ایس مخلوط حکومت کو مستحکم رکھنے کانگریس خواہاں؛ تمام وزراء نے کیا کمارسوامی کی قیادت پر اظہار اعتماد

لوک سبھا انتخابات میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کی بدترین ناکامی کا آج وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کی طرف سے طلب کی گئی غیر رسمی کابینہ میٹنگ میں جائزہ لیاگیا، اور طے کیاگیا کہ اس شکست سے مایوس ہوکر بیٹھنے کی بجائے آنے والے دنوں میں مخلوط حکومت کو اور متحرک اور مستحکم کرنے کے ...