دہلی کے 84 فیصد اسکولوں میں پرنسپل نہیں اور سی ایم کیجریوال اس ’ایجوکیشن ماڈل‘ کی کرتے ہیں بکھان: کانگریس

Source: S.O. News Service | Published on 21st September 2022, 8:52 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،21؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی کے اسکولوں میں پرنسپل کے بیشتر عہدے خالی پڑے ہیں۔ خود دہلی ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ (ڈی او آئی) کے ذریعہ پیش کردہ ڈاٹا کے مطابق پرنسپل کے مجموعی طور پر 950 منظور شدہ عہدے ہیں اور صرف 154 ہی بھرے گئے ہیں۔ یعنی دہلی کے سرکاری اسکولوں میں 83.7 فیصد عہدے خالی پڑے ہیں۔ اسکول کے پرنسپلز کی بھرتی یونین پبلک سروس کمیشن اور دہلی کے ماتحت سروس سلیکشن بورڈ دونوں ہی براہ راست مرکزی حکومت کو رپورٹ کرتے ہیں اور یہاں بار بار اساتذہ کی تقرری میں تاخیر ہوتی ہے۔

اس معاملے پر کانگریس نے دہلی کی کیجریوال حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کیجریوال اپنے فرضی ایجوکیشن ماڈل کا گھوم گھوم کر بکھان کرتے ہیں، جب کہ سچائی یہ ہے کہ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں پرنسپل کے 84 فیصد اور اساتذہ کے 33 فیصد عہدے خالی ہیں۔ کانگریس نے اس تعلق سے کیے گئے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’دہلی کے سرکاری اسکولوں میں پرنسپل کے 84 فیصد عہدے خالی ہیں۔ اساتذہ کے 33 فیصد عہدے خالی ہیں۔ اور وزیر اعلیٰ کیجریوال اپنے اس فرضی ایجوکیشن ماڈل کا گھوم گھوم کر بکھان کرتے ہیں۔ غضب بے شرمی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ اساتذہ کے معاملوں میں بھی سرکاری اسکولوں کو زبردست کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اساتذہ کے مجموعی منظور شدہ 65979 عہدوں میں سے 21910 ابھی تک نہیں بھرے گئے ہیں۔ یہ خالی عہدے تقریباً 33 فیصد ہیں۔ دہلی حکومت نے ان اسامیوں کے سبب آئے فاصلے کو 20 ہزار سے زیادہ مہمان اساتذہ سے ختم کیا ہے۔ وہیں وائس پرنسپل کے 34 فیصد عہدے بھی خالی ہیں۔ وائس پرنسپل کے 1670 منظور شدہ عہدوں میں سے 565 (تقریباً) خالی پڑے ہیں۔

مرکزی وزارت برائے تعلیم کا کہنا ہے کہ ایک اسکول کے معیار اس کے لیڈر کی کارکردگی سے پتہ لگتی ہے، لیکن دہلی میں 2020 اور 21 میں سرکاری اسکولوں کے لیے ایک بھی پرنسپل کی تقرری نہیں کی گئی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ جانکاری خود دہلی حکومت نے اپنے محکمہ تعلیم کے پورٹل پر ڈالی ہے۔ دہلی حکومت کو گھیرتے ہوئے مرکزی وزارت تعلیم نے کہا کہ دہلی کے سرکاری اسکولوں کی اوسط کارکردگی قومی اوسط سے کم ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کہاں غائب ہو گئے نوٹ بندی کے بعد چھاپے گئے 9.21 لاکھ کروڑ روپے، آر بی آئی کے پاس بھی تفصیل موجود نہیں!

مرکز کی مودی حکومت نے بلیک منی پر قدغن لگانے کے مقصد سے 2016 میں نوٹ بندی ضرور کی، لیکن اس مقصد میں کامیابی قطعاً ملتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے نوٹ بندی کے وقت بھی مرکز کے اس فیصلے پر سوالیہ نشان لگایا تھا،

ہندوستان میں 10 سالوں کے دوران شرح پیدائش میں 20 فیصد کی گراوٹ، رپورٹ میں انکشاف

 پچھلے 10 سالوں میں ہندوستان میں عام زرخیزی کی شرح (جی ایف آر) میں 20 فیصد کی کمی درج کی گئی ہے۔ اس کا انکشاف حال ہی میں جاری کردہ سیمپل رجسٹریشن سسٹم (ایس آر ایس) ڈیٹا 2020 میں ہوا ہے۔ جی ایف آر سے مراد 15-49 سال کی عمر کے گروپ میں ایک سال میں فی 1000 خواتین پر پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد ...

الیکشن کمیشن نے تین برسوں میں جموں و کشمیر کی 7 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر کیا

الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے گزشتہ تین برسوں کے دوران جموں و کشمیر کی7 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر کیا ہے جن میں کچھ غیر معروف جماعتیں بھی شامل ہیں۔ ای سی آئی ریکارڈس کے مطابق کمیشن نے سال 2019 سے تمام ضروری لوازمات کی ادائیگی کے بعد جموں و کشمیر کی 7 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر ...

بامبے ہائی کورٹ سے گوشت کے اشتہارات پر پابندی کی درخواست خارج

بامبے ہائی کورٹ نے ٹی وی اور اخبارات میں نان ویجیٹیرین کھانے کے اشتہارات پر پابندی لگانے کی درخواست خارج کر دی ہے، چیف جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس مادھو جمدار نے پیر کو جین چیریٹیبل ٹرسٹ کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ عدالت صرف اس صورت میں مداخلت کر سکتی ہے جب شہریوں کے ...

پی ایف آئی پر پھر چھاپے، شاہین باغ میں دبش، جامعہ میں دفعہ 144 نافذ

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) سے ملی لیڈ کی بنیاد پر، 8 ریاستوں کی پولیس نے آج یعنی منگل کو ملک بھر میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق اسے دوسرے راؤنڈ کا چھاپہ بتایا جا رہا ہے۔