'آرڈیننس کے ذریعے حکومتی امور چلانا جمہوری اصولوں کے منافی'

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 8th October 2019, 5:51 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن /8اکتوبر (آئی این ایس انڈیا) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے شمالی علاقے سے امریکی فوجوں کے انخلا کا دفاع کیا ہے۔اس سے قبل امریکی اقدام پر شدید تنقید سامنے آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی فوجوں کے انخلاسے امریکہ کی حمایت یافتہ کرد فوجوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اور اس سے داعش کے خلاف جاری لڑائی بھی متاثر ہو گی۔صدر ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا، وقت آ گیا ہے کہ ہم نہ ختم ہونے والی بے کار جنگوں سے کنارہ کشی اختیار کریں جو زیادہ تر قبائلی نوعیت کی ہیں۔ ہمیں اپنے فوجیوں کو واپس بلانا چاہئیے۔ ہم صرف وہ جنگیں لڑیں گے جن میں ہمارا مفاد ہو اور ہم صرف جیتنے کیلئے لڑیں گے۔صدر ٹرمپ کا مذید کہنا تھا کہ اب ترکی، یورپ، شام، ایران، عراق، روس اور کردوں کو طے کرنا ہے کہ وہ اس صورت حال میں کیا کرنا چاہتے ہیں اور داعش کے گرفتار ہونے والے جنگ جوؤں کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ سب داعش کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ ہم وہاں سے 7,000 میل دور ہیں اور اگر داعش کے جنگجو ہمارے قریب آئے تو ہم انہیں تباہ کر دیں گے۔ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ اب ترکی جلد ہی شمالی شام میں اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دے گا۔ وائٹ ہاؤس نے اتوار کے روز صدر ٹرمپ اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والی ٹیلی فون بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی مسلح افواج نہ تو اس لڑائی کی حمایت کریں گی اور نہ ہی اس میں ملوث ہوں گی اور وہ داعش کو شکست دے چکی ہیں لہذا وہ اب اس علاقے میں موجود نہیں رہیں گی۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کرد فوجوں کی مدد کرنا امریکہ کیلئے خاصا مہنگا رہا ہے کیونکہ امریکہ نے کرد فوجوں کو بھاری مالی وسائل فراہم کیے ہیں۔کرد فوجوں کے ترجمان مصطفےٰ بالی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کی کارروائیاں شام کو مذید عدم استحکام کی جانب دھکیل دیں گی۔ اْن کا کنا تھا کہ ترکی کی فوجی کارروائیاں انتہائی سنگین نوعیت کی ہیں اور ان کے نتیجے میں شام میں وسیع پیمانے پر قتل عام شروع ہونے کا امکان ہے۔صدر ٹرمپ کے حامی رپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکی فوجوں کے انخلاء پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تباہی کا پیش خیمہ ہو گا۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے داعش شام میں دوبارہ زور پکڑ سکتا ہے اور یہ کرد فوجوں کو اسد اور ایران کے ساتھ اتحاد قائم کرنے پر مجبور کر دے گا اور امریکی کانگریس کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں خرابی کا باعث بنے گا۔ 

ایک نظر اس پر بھی

ترکی پر پابندیاں سنجیدہ اور بھرپور نوعیت کی ہیں: امریکی اہلکار 

امریکی وائٹ ہاؤس کے ایک ذمے دار نے دئے گئے خصوصی بیان میں باور کرایا ہے کہ ترکی پر پابندیاں سنجیدہ اور بھرپور نوعیت کی ہیں جو اس کی معیشت کو نقصان پہنچائیں گی۔ذمے دار کا کہنا تھا کہ اب ہمارا مقصد شام میں فائر بندی تک پہنچنا ہے۔