بھٹکل کے بلدیاتی اداروں میں چل رہا ہے سرکاری افسران کا ہی دربار۔ منتخب عوامی نمائندے بس نام کے رہ گئے

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 4th September 2020, 6:16 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 4؍ستمبر(ایس او نیوز) ریاستی حکومت کی بے توجہی اورغلط پالیسی کی وجہ سے مقامی  بلدیاتی اداروں میں عوامی منتخب نمائندے بس نام کے لئے رہ گئے ہیں اور خاموش تماشائی بنے رہنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔جبکہ ان اداروں میں سرکاری افسران کا ہی دربار چل رہا ہے۔بھٹکل میونسپالٹی، جالی پٹن پنچایت  وغیرہ کا بھی یہی حال ہے۔

 خیال رہے کہ  29مئی 2019کو  بھٹکل ٹاون میونسپالٹی کے 23وارڈس کے لئے انتخابات منعقد کیے گئے تھے۔ اورعوام نے اپناحق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے نمائندے منتخب  بھی کرلیے ۔مگرتقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود ابھی تک  ریاستی حکومت نے  صدر اورنائب صدر وغیرہ منتخب کرنے اور اپنے عہدوں پر فائز ہونے کا لائحہ عمل جاری نہیں کیا ہے۔دوسری طرف جالی پٹن پنچایت میعاد کے دوسرے مرحلے کے لئے بھی صدر اور نائب صدر منتخب کرنے کا وقت کب کا گزر چکا ہے ۔ مگر حکومت کی طرف لائحہ عمل جاری نہیں کیا جارہا ہے۔

 اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بھٹکل ٹی ایم سی کے 23 وارڈس اور پٹن پنچایت علاقے    میں گندے  اوربرساتی پانی کی نکاسی ، سڑکوں کی مرمت ، اسٹریٹ لائٹس وغیرہ مسائل منھ کھولے کھڑے ہیں اور  ان علاقوں کے  متعلقہ کاونسلرس عوامی مفاد کے نئے منصوبوں پر سرگرمی دکھانا تو دور کی بات ہے ، وہ اپنے علاقے کے موجود ہ مسائل بھی  اپنی مرضی اور دلچسپی سے انجام دینے سے معذور ہوگئے ہیں ۔ کیونکہ عہدوں کا چارج نہ ملنے کی وجہ سے ان بلدیاتی اداروں کا سارا انتظام  اور فیصلہ اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر سرکاری افسران کے رحم وکرم پر ہی ٹکا ہوا ہے۔

 بڑی عجیب صورت حال یہ بن گئی ہے اگر آئندہ  6مہینے کے اندر بھی ریاستی حکومت بلدیاتی اداروں کے صدر اور نائب صدر منتخب کروانے کا لائحہ عمل جاری کرتی ہے تو سمجھ لیجیے کہ ان منتخب نمائندوں کے پاس عملاً کام کرنے کے لئے صرف ایک سال کا عرصہ باقی رہے گا، کیونکہ میونسپالٹی کی میعاد کار 3سال ہوتی ہے اور دو سال کا عرصہ یونہی نکلا جارہا ہے۔اور اگر آئندہ چھ مہینوں میں بھی حکومت کوئی فیصلہ نہیں کرتی تو کاونسلر س کی یہ میعاد تو اکار ت چلے جانا یقینی ہے۔

 بھٹکل میونسپالٹی کے چیف آفیسر دیوراج کا کہنا ہے کہ  ٹی ایم سی میں عوامی منتخب نمائندوں کے ذریعے کام کاج کا نظام ریاستی حکومت کی سطح پر ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ ٹی ایم سی کے ہر وارڈ میں عوام کے مسائل موجود ہیں۔ سرکاری افسر ان کی حیثیت سے ہم نے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے۔اب اگلی کارروائی تو ریاستی حکومت کے فیصلے پر ہی منحصر ہے۔

 ادھر بھٹکل جالی پٹن پنچایت کی بات کریں تو یہاں صدر اور نائب صدر کے لئے ڈھائی سال کی میعاد ہوتی ہے ۔پہلی میعاد کے اختتام پر دوسری میعاد کے لئے نئے عہدیداروں کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔اب پہلی میعاد ختم ہوئے 5 مہینے سے زیادہ وقت گزرگیا ہے۔مگر اب تک یہاں منتخب عوامی نمائندوں کو دوسرے مرحلے کے عہدے سنبھالنے کاموقع نہیں ملا ہے۔اس طرح بھٹکل کے ان دونوں مقامی بلدیاتی اداروں میں سرکاری افسران کا ہی دربار چل رہا ہے ، جس کے دوران یہ الزامات بھی سنائی دے رہے ہیں کہ بلدیاتی اداروں کے انتظامات سنبھالنے والے سرکاری افسران کاونسلرس کے ذریعے اس سے قبل کیے گئے فیصلوں اور تجاویز کو نظر انداز کرر ہے ہیں اور تازہ معاملات میں موجود ہ کاونسلرس کو اعتماد میں لینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کررہے ہیں۔ بس اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کررہے ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی مرضی کے مطابق ہی کررہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروارمیڈیکل کالج میں داخلے کی مل گئی اجازت۔150طلبہ کے ساتھ شروع ہوگا ایم ایم بی ایس کا پہلا سال

کاروار انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس کے تحت شروع کیے گئے میڈیکل کالج میں  تعلیمی سال 2020-21 کے لئے 150طلبہ کو داخل کرنے کی اجازت نیشنل میڈیکل کمیشن(سابقہ نام: میڈیکل کاونسل آف انڈیا) کی جانب سے مل گئی ہے۔ 

بھٹکل ٹاون میونسپالٹی کے لئے کل جمعرات کو ہونے والے صدر اور نائب صدرکے انتخابات غیر معینہ مدت کےلئے ملتوی

کل جمعرات 22 اکتوبر کو منعقد ہونے والے ٹاون میونسپالٹی صدر  اور نائب صدر کے انتخابات غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہوگئے ہیں، اس بات کی اطلاع بھٹکل تحصیلدار  روی چندرا نے دی۔

بی کام فائنل میں بھٹکل انجمن کالج کے طلبہ کا شاندار پرفارمینس؛ 50طلبہ نے حاصل کی امتیازی کامیابی

انجمن آرٹس ، سائنس اینڈ کامرس کالج بھٹکل کے بی کام فائنل طلبہ نے اس بار شاندار پرفارمینس پیش کرتےہوئے کالج کا نام روشن کردیا ہے، اس بار پچاس طلبہ نے امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کی ہے جس میں چھ طلبہ ایسے ہیں جنہوں نے  ایک  سبجیکٹ میں سو میں سو مارکس حاصل کئے ہیں۔

ایک تھا لبراہن کمیشن ............آز: معصوم مرادآبادی

 بابری مسجد انہدام سازش کیس کے تمام ملزمان کو بری کئے جانے کے خلاف سی بی آئی نے ابھی تک اونچی عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا ہے۔ دو ہفتے قبل سی بی آ ئی  کی خصوصی عدالت نے ناکافی ثبوتوں کی وجہ سے  ملزمان کو سزا دینے اور اس معاملے میں سازش کی تھیوری کو  تسلیم کرنے سے انکار کردیا ...

پانچ کروڑ کی لاگت سے بنابھٹکل کا نیاہائی ٹیک بس اسٹانڈ۔  افتتاح کے لئے ہوگیا تیار

بھٹکل شہر کے قلب میں واقع نئے بس اسٹانڈ کا تعمیری کام تقریباً مکمل ہوگیا ہے اور اب صرف افتتاح کی تاریخ کا اعلان ہونا باقی ہے، جس کے تعلق سے  سرسی ٹرانسپورٹ کمشنر ویویکا نندہیگڈے نے بتایا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی مدت ختم ہونے کا انتظار کیا جارہا ہے ۔

6 دسمبر 1992 کو مسجد گرانے کی بھی سازش ہوئی اور ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی بھی۔۔۔۔ از: ظفر آغا

6 دسمبر 1992 کے روز جب بابری مسجد ایودھیا میں ڈھائی گئی تو اس دن میں تقریباً 11 بجے صبح پریس کلب آف انڈیا دہلی پہنچ گیا۔ وہ عجیب دن تھا جو آج بھی بخوبی میرے دماغ میں نقش ہے۔ مجھے بخوبی یاد ہے کہ وہ اتوار کا دن تھا۔ عموماً اتوار کو پریس کلب دن بھر خالی پڑا رہتا ہے۔