پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) پر بالاخر لگ گئی پابندی۔ ’ٹیرر لنک‘ کا الزام

Source: S.O. News Service | Published on 28th September 2022, 7:23 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 28؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)پا  پولر فرنٹ آف انڈیا  ( پی ایف آئی) پر بالاخر مرکزی حکومت نے پابندی عائد کردی ہے، ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق پی ایف آئی  کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کی مالی معاونت کے الزام میں پانچ سال کی پابندی عائد کردی گئی ہے ۔اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ پی ایف آئی کے ساتھ ساتھ  اس سے ملحقہ 8 تنظیموں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ  مودی حکومت    نے   دو مراحل میں پی ایف آئی دفاتر  پر چھاپے مارے  تھے  جس کے  بعد پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) پر 5 سال کے لیے پابندی عائد کر نے کا اعلان کیا گیا۔ایک سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پی ایف آئی اور اس سے وابستہ تنظیموں یا محاذوں کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت فوری طور پر ’کالعدم تنظیمیں‘ قرار دیا گیا ہے۔

میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق حکومت نے پی ایف آئی پر الزام لگایا ہے کہ اس تنظیم کا اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی)، جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی) اور اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا (آئی ایس آئی ایس) کے ساتھ روابط  ہیں  اور اسی بنیاد پر  پابندی عائد کی  گئی ہے۔  پتہ چلا ہے کہ ری ہیب انڈیا فاؤنڈیشن، کیمپس فرنٹ آف انڈیا، آل انڈیا امامس کونسل، نیشنل کنفیڈریشن آف ہیومن رائٹس آرگنائزیشن، نیشنل ویمن فرنٹ، جونیئر فرنٹ، ایمپاور انڈیا فاؤنڈیشن اور ری ہیب فاؤنڈیشن کیرالہ پر بھی 5  سال کی پابندی لگائی  گئی ہے۔

یاد ہوگا کہ اسی مہینے کی 22 اور 27 تاریخ کو اتر پردیش، گجرات، مدھیہ پردیش، دہلی، گجرات، کرناٹک، آندھرا پردیش، کیرالہ، تلنگانہ، کرناٹک اور تمل ناڈو میں پی ایف آئی کے دفاتر اور اراکین کے گھروں کی تلاشی لی گئی تھی جبکہ بعض علاقوں میں ایس ڈی پی آئی کے دفاتر میں بھی چھاپے مارے گئے تھے۔ اس موقع پر پی ایف آئی کے تین سو سے زائد ارکان کو حراست میں لے لیا گیا  تھا۔

میڈیا  کی رپورٹوں کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری  نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پی ایف آئی اور اس سے وابستہ ادارے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو کہ ’ملک کی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں‘ اور ان میں نظم و نسق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی صلاحیت ہے۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ایف آئی اور اس سے وابستہ ادارے سماجی، اقتصادی، تعلیمی اور سیاسی تنظیم کے طور پر کام کرتے ہیں لیکن وہ معاشرے کے ایک خاص طبقے کو بنیاد پرست بنانے کے خفیہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق  پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کی تشکیل 17 فروری 2007 کو جنوبی ہندوستان میں تین مسلم تنظیموں کے انضمام سے ہوئی تھی۔ پی ایف آئی کا دعویٰ ہے کہ وہ 23 ریاستوں میں سرگرم ہے۔ سیمی پر پابندی کے بعد، پی ایف آئی کا جنوبی ہندوستان کی ریاستوں کرناٹک اور کیرالہ میں تیزی سے پھیلاؤ ہوا۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی حکومت نے کھاد کے لیے بھی کسانوں کو کیا پریشان: کمل ناتھ

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے ایک بار پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر کسان مخالف ہونے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ حکومت نے کھاد کے لیے کسانوں کو بہت زیادہ پریشان کیا ہے۔ اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے کسانوں کو کیمیائی ...

قومی راجدھانی دہلی کی فضا ’انتہائی خراب‘، 321 اے کیو آئی درج

 قومی راجدھانی کی ہوا کا معیار منگل کی صبح 'انتہائی خراب' زمرے میں رہا اور کوالٹی انڈیکس 321 ریکارڈ کیا گیا۔ سسٹم آف ایئر کوالٹی اینڈ ویدر فورکاسٹنگ اینڈ ریسرچ (سفر) کے مطابق منگل کی صبح شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) انتہائی خراب زمرے میں 321 پر ریکارڈ کیا گیا۔ ماحول ...

مہاراشٹر-کرناٹک سرحد تنازعہ میں شدت، بیلگاوی میں مہاراشٹر کے ٹرکوں پر پتھراؤ، حالات کشیدہ

کرناٹک اور مہاراشٹر کے درمیان جاری سرحد تنازعہ نے بیلگاوی علاقہ میں حالات کو کشیدہ کر دیا ہے۔ سرحدی علاقہ بیلگاوی میں تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں اور منگل کے روز تو بیلگاوی کے باگیواڑی میں شدید احتجاجی مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ اس دوران کرناٹک رکشن ویدیکے سے جڑے کارکنان نے ...

دسمبر 7 سے شروع ہونے والے سرمائی اجلاس سے قبل ہی اپوزیشن پارٹیوں نے مرکز کے سامنے رکھے اہم مطالبات؛ کل جماعتی میٹنگ میں اہم باتوں پر ہوا تبادلہ خیال

بدھ یعنی 7 دسمبر سے  شروع ہوکر 29 دسمبر کو ختم ہونے والے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے پہلے  ہی  مرکزی حکومت نے کل جماعتی میٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو منگل کو  منعقد ہوا۔