کیا حکومت کرناٹکا مائنارٹیز ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو بند کرنے کی سازش کررہی ہے؟ یزرو بینک آف انڈیا نے کیوں ختم کی این بی ایف سی کی حیثیت ؟

Source: S.O. News Service | Published on 12th January 2022, 11:19 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،12؍جنوری؛  کرناٹک  میں مذہبی اقلیتوں کی سماجی، تعلیمی اور معاشی ترقی کے مقصد سے حکومت کی طرف سے قائم کئے گئے کرناٹکا مائنارٹیز ڈیولپمنٹ کارپوریشن(کے ایم ڈی سی) نے اپنی مالی حیثیت گنوا دی ہے- اس ادارے کو ریاست بھر کی اقلیتوں سے وابستہ مستحق افراد کو مالی مدد قرضوں کی شکل میں فراہم کرنے کیلئے ریزرو بینک آف انڈیا کی طرف سے نان بینکنگ فائنانشیل کمپنی(این بی ایف سی)کا درجہ دیا گیا تھا - لیکن اب آر بی آئی نے کے ایم ڈی سی کی وہ حیثیت ختم کردی ہے-

بتایا جاتا ہے کہ کے ایم ڈی سی کے اس درجہ کو بحال کرنے ریاستی حکومت کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے -ریزرو بینک آف انڈیا کے ریجنل ڈائرکٹر نے اس ضمن میں 25/اکتوبر2021کو ریاست کے چیف سکریٹری کو ایک مکتوب روانہ کر کے مطلع کیا کہ کے ایم ڈی سی کو حاصل این بی ایف سی کا درجہ ختم کردیا جائے گا- اس خط کی بنیاد پر ریاست کے اڈیشنل چیف سکریٹری آئی این ایس پرساد نے محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری منی ونن کو ایک مکتوب روانہ کیا-

اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا کی طرف سے اس سلسلہ میں ریاستی حکومت کو تین چار بار متوجہ کروانے کے باوجود محکمہ کے سکریٹری نے اس پر وزارت اقلیتی بہبود کا قلمدان اپنے پاس رکھنے والے وزیر اعلیٰ کو متوجہ نہیں کروایا- بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی طرف سے آر بی آئی کو روانہ کئے گئے ایک نوٹ میں واضح کردیا گیا ہے کہ کے ایم ڈی سی کو حاصل این بی ایف سی کا درجہ واپس حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے-

کہا جاتا ہے کہ 25/اکتوبر2021سے پہلے 2مارچ 2021کو بھی آر بی آئی کے ریجنل ڈائرکٹر نے ریاستی حکومت کو ایک مکتوب روانہ کیا، اس پر بھی ریاستی حکومت خاموش رہی - آر بی آئی نے حکومت کو روانہ کئے گئے دونوں مکتوبات میں این بی ایف سی کا درجہ ختم کرنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ کے ایم ڈی سی نے اپنے اثاثوں اور آمدنی کے کم از کم توازن کو برقرار نہیں رکھا-

7فروری1987کو اس وقت کے وزیر اعلیٰ رام کرشنا ہیگڈے نے اس کارپوریشن کا قیام کیا تھا اور اسے ایک سرکاری کمپنی کا درجہ دیا گیا تھا - یہ کارپوریشن ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت چل رہا ہے- اس کارپوریشن کو2015-16کے دوران1068 کروڑروپے منظور کئے گئے ان میں سے976کروڑروپے خرچ ہوئے- 2016-17کے دوران 1527کروڑروپے جاری کئے گئے ان میں سے 1424کروڑ روپے صرف کئے گئے-2017-18کے دوران 2191کروڑروپے دئیے گئے جن میں سے 2116کروڑر وپے خرچ کئے گئے - ان تمام تفصیلات کا تذکرہ کرناٹک لیجس لیچر کی اقلیتی بہبود اسٹانڈنگ کمیٹی کی 15ویں رپورٹ میں کیا گیا ہے- (رپورٹ: رضوان اللہ خان،   روزنامہ سالار، بنگلور)

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس لیڈران نے مرکزی حکومت پر لگایا پسماندہ ہندو سماج اورمظلوم طبقے کی ہتک کرنے کا الزام

ہرسال یوم جمہوریہ کی تقریب میں ریاستوں کی نمائندگی کرنےوالی نمائش  کا اہتمام ہوتاہے۔ اس مرتبہ  ریاست کیرلا کی جانب سےبھیجے گئے انقلابی شخصیت ، سماجی مصلح شری نارائن گرو مجسمہ کو نمائش میں شامل کرنے سے مرکزی حکومت نے انکار کیاہے۔ اس طرح  مرکزی حکومت نے بھارت کی تاریخی ، اہم ...

جمعیۃ علماء کرناٹک کاانتخابی اجلاس : مولانا عبدالرحیم رشیدی جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر منتخب

مسجد حسنیٰ شانتی نگر بنگلور میں جمعیۃ علماء کرناٹک کا انتخابی اجلاس جمعیۃ علماء ہندکے جنرل سکریٹری مولانامفتی سید معصوم ثاقب قاسمی کی نگرانی میں منعقد ہوا جس میں مولانا عبدالرحیم رشیدی کو مجلس منتظمہ کے اراکین نے اتفاق رائے سے اگلی  میعاد  کیلئے صدر منتخب کیا ۔ مولانا ...

کرناٹک کانگریس نے کووڈ کے بڑھتے ہوئے معاملوں کے درمیان میکے ڈاٹو پیدل مارچ کو کردیا معطل؛ سدرامیا نے کورونامعاملوں میں اضافے کےلئے بی جے پی کو قرار دیا ذمہ دار

میکے ڈاٹو واٹر پروجکٹ کا مطالبہ  لے کر شروع کی گئی کانگریس کی میکے  ڈاٹو پیدل ریلی کو کانگریس نے  کووڈ کے بڑھتے ہوئے معاملوں کو دیکھتے ہوئے عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کرناٹکا ہائی کورٹ نے کانگریس کو پدیاترا نکالنے کا اجازت نامہ عدالت میں داخل کرنے کی دی ہدایت

کرناٹکا ہائی کورٹ نے کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) سے کہا کہ وہ 14 جنوری تک میکے ڈاٹو پدیاترا نکالنے کے لئے حکومت کی طرف سےلئے گئے اجازت نامہ کو عدالت میں پیش کرے۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا کے پی سی سی نےرام نگر ضلع کے میکے ڈاٹو میں کاویری ندی کے پار متوازن آبی ذخائر کا ...

حکومت کرناٹک نے کانگریس کے میکے ڈاٹو پدیاترا پرعائد کی پابندی

ہائی کورٹ اوربعض بی جے پی ارکان اسمبلی کی تنقید کے بعد  بسواراج بومائی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت نے بدھ کے روز کووڈ 19 کی پہلے سی بگڑتی صورت حال  کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کے میکے ڈاٹو پدیاترا پر پابندی لگا دی ہے۔