کاروار سرحد پر داخل ہونے والوں کے لئے کووڈ قوانین کی سختی کے خلاف گوا کے عوام کا احتجاج؛ نیگیٹیو کووڈ رپورٹ کی شرط کو ہٹانے کا مطالبہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 13th January 2022, 6:52 PM | ساحلی خبریں |

کاروار 13 جنوری (ایس او نیوز)  کووڈ کے بڑھتے معاملات کو دیکھتے ہوئے ضلع اُترکنڑا انتظامیہ کی جانب سے ریاست کرناٹک کی سرحد کاروار کے ماجالی میں کووڈ  نیگیٹیو رپورٹ  لازمی کی گئی ہے  اور کووڈ   قوانین کو سختی کے ساتھ لاگو کیا گیا ہے، جس پر سخت  ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے  گوا کے لوگوں نے  کاروار۔گوا بارڈر پر احتجاج کیا اور کاروار میں داخل ہونے والوں کے لئے آسانی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر احتجاجیوں نے کرناٹک سے گوا میں داخل ہونے والی سواریوں کو  بھی روکااور کرناٹک میں داخل ہونے کے لئے  سرکار کی طرف سے جو شرائط  لاگو کئے گئے ہیں، اُس پر سخت ناراضگی ظاہر کی ۔

ضلع اُترکنڑا کی انتظامیہ نے گوا سے کاروار میں داخل ہونے والوں کے لئے  کووڈ کی نیگیٹیو رپورٹ (آر ٹی پی سی آر نیگیٹیو رپورٹ) لے کر داخل ہونے کی شرط رکھی ہے، رپورٹ پیش نہ کرنے کی صورت میں اُنہیں واپس بھیجا جاتا ہے۔

احتجاجیوں نے بتایا کہ ہر روز گوا سے کاروار کے لئے گاہک آتے جاتے رہتے ہیں،  گوا میں موجود ہوٹلوں اور شراب خانوں کے لئے روزانہ لوگوں کا کاروار سے گوا جانا ہوتا ہے، لیکن اب ان گاہکوں کو واپس کاروار جانا ہو تو کاروار سرحد پر کووڈ کی نیگیٹیو رپورٹ   پوچھی جارہی ہے  تو گاہکوں نے  گوا جانا ہی بند کررہے ہیں، جس سے کاروبار پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ احتجاجیوں نے اُترکنڑا ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا  کہ  کووڈ کی نیگیٹیو رپورٹ پیش کرنے کی جو شرط رکھی گئی  ہے، اُسے ہٹایا جائے اور لوگوں کو گوا سے کاروار جانے میں آسانی فراہم کی جائے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار: دانتوں میں درد اور سردرد جیسی عام بیماریوں پر اسپتال نہ جائیں ،شدید بیمار پڑنے یا ایمرجنسی کی صورت میں ہی اسپتال کا رخ کریں: کاروار اور ہوناور میں پانچ دنوں تک اسکول بند

شدید بیمار پڑنے اور ایمرجنسی ہونے پر ہی سرکاری، پرائیویٹ  اسپتال یا سوپر اسپیشالٹی اسپتال کا رُخ کریں اور معمولی بیمار مثلاً دانتوں کا درد، سر میں درد وغیرہ پر  اسپتالوں کا رُخ نہ کیا جائے، ایسی عام بیماریوں کے لئے مقامی ڈاکٹروں کے ذریعے علاج کراسکتے ہیں۔ اس طرح  کا حکم حکومت ...

جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے ہونہار فرزند کابڑا کارنامہ ۔ انٹرنیشنل سطح پر روشن کیا بھٹکل کانام

کہتے ہیں کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور تعلیمی ادارے اپنے فارغین کی لیاقت اور صلاحیت سے پہچانے جاتے ہیں، ہندوستان میں بڑے تعلیمی اداروں کا نام کچھ شخصیات نے ہی روشن کیا ہے ،  الحمد للہ بھٹکل کے دینی و عصری تعلیم گاہوں کے طلبہ و طالبات بھی بڑی حد تک اپنی مادر علمی کی نیک  ...