امریکہ کی معروف اور بڑی کار ساز کمپنی جنرل موٹرز نے کیا پانچ آٹو پلانٹس بندکرنے کا اعلان، چھ ہزار ملازموں کو دھونا پڑے گا روزگار سے ہاتھ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 28th November 2018, 12:52 PM | عالمی خبریں |

نیویارک 28؍نومبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )امریکہ کی ایک معروف اور بڑی کار ساز کمپنی جی ایم نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ شمالی امریکہ میں اپنے پانچ آٹو پلانٹ بند کر رہی ہے اور اپنے 15 فی صد ریگولر سٹاف کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کمپنی نے کہا ہے کہ اس کی کاروں کی فروخت میں نمایاں کمی ہو رہی ہے اور وہ کاروبار کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے اس کے رخ کا از سر نو تعین کرنا چاہتی ہے۔

جنرل موٹرز اس وقت شورلیٹ، وولٹ، امپالا، کروز، بیوک، جی ٹی 6 اور ایس ٹی ایکس بنا رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے مستقبل میں یہ کاریں نہیں بنائی جائیں گی کیونکہ کاروں کی مارکیٹ ختم ہو رہی ہے اور اس کی بجائے خریداروں کا رجحان ایس یو ویز کی طرف بڑھ رہا ہے۔جنرل موٹرز جن پلانٹس کو بند کر رہا ہے وہاں کاریں تیار کی جاتی ہیں۔ یہ پلانٹس ڈیٹرائٹ، اوشاوا، انٹیریؤ، ویرن اور وائٹ مارش میں واقع ہیں۔کمپنی نے کہا ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد سے اسے 2020 تک 6 ارب ڈالر کی بچت ہو گی۔جی ایم نے یہ بھی کہا ہے کہ جنوبی کوریا میں واقع آٹو پلانٹ بھی بند کیا جا رہا ہے۔

آٹو پلانٹس کی بندش سے کمپنی کے تقریباً 8000 باقاعدہ کارکن متاثر ہوں گے اور ان کی ملازمتیں جاتی رہیں گے۔ اس کے علاوہ 6000 کے قریب ان مزدوروں کو بھی اپنے روزگار سے ہاتھ دھونے پڑیں گے جو فی گھنٹہ معاوضے پر کام کرتے ہیں۔جنرل موٹرز کی بنیاد 1908 میں رکھی گئی تھی۔ اسے کام کرتے ہوئے ایک سو سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ کمپنی کو 2009 میں شدید مالی نقصانات کے باعث دیوالیے کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم حکومت کے بیل آؤٹ پروگرام کی مدد سے وہ اس مشکل سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئی اور 2010 میں دوبارہ ایک منافع بخش کمپنی بن گئی۔اس وقت بھی جنرل موٹرز نقصان میں نہیں ہے لیکن شمالی امریکہ اور چین میں اس کی فروخت مسلسل گر رہی ہے جو اس کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ کمپنی خساروں سے پہلے اس بزنس سے باہر نکلنا چاہتی ہے۔کاروں میں خریداروں کی بڑھتی ہوئی عدم دلچسپی کا اثر دوسری آٹو کمپنیوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ ایک اور بڑی کار ساز کمپنی فورڈ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے سال کاریں بنانا بند کر رہی ہے۔جنرل موٹرز کے کارکنوں کی یونین نے بندش کے اعلان پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف لڑیں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

متحدہ عرب امارات نے وزیر اعظم مودی کو اعلی ترین شہری اعزاز سے سرفراز کیا ۔ دنیا بھر میں یو اے ای کے اقدام کی مذمت

متحدہ عرب امارات نے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے اعلی ترین شہری اعزاز سے سرفراز کردیاہے ۔ متحدہ عرب امارات نے چند دنوں قبل اعلان کیاتھا کہ وہ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا اعلی ترین سول ایوارڈ دیں گے ۔

عوام نے نئے بھارت کی تعمیر کے لئے مضبوط مینڈیٹ دیا ہے: وزیر اعظم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں واضح مینڈیٹ صرف ایک حکومت کو نہیں، بلکہ ایک ایسے ’نیو انڈیا‘ کی تعمیر کے لئے دیا ہے جو کاروبار کے بہتر انتظامات کے ساتھ بہتر زندگی بسر پر مرتکز ہو۔

مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کی کوششیں: عمران خان

  جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو ختم کرکے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے فیصلے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس ضمن میں جمعہ کے روز عالمی برادری کو منتبہ کیا ہے کہ ہندوستان کی قیادت غالباً جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ...

جی -7 اجلاس میں کشمیر مسئلہ ٹرمپ کے ایجنڈے میں شامل کانفرنس میں ٹرمپ کشمیر پر مودی کا موقف سننا چاہیں گے

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی -7 چوٹی کانفرنس کے دوران عالمی لیڈروں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر، یورپ کو روسی گیس کی فراہمی اور وینزویلا سمیت کئی اہم مسائل پر گفتگو کریں گے۔