لوک سبھا انتخابات 2004: جب تقریباً 6 لاکھ ووٹوں سے ہار جیت کا ریکارڈ قائم ہوا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 15th April 2019, 11:20 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،15؍اپریل (ایس او نیوز؍یو این آئی)  لوک سبھا کے اب تک ہو نے والے انتخابات میں سب سے بڑی جیت کا ریکارڈ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے انل باسو کے نام ہے جو انہوں نے 2004 کے انتخابات میں بنایا تھا۔

سات بار لوک سبھا رکن رہے انل باسو نے 2004 میں مغربی بنگال کے آرام باغ سیٹ سے اپنے قریبی حریف بھارتیہ جنتا پارٹی کے سوپن کمار نندی کو 592502 ووٹوں سے ہرایا تھا۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے جیت درج کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی اس ریکارڈ کے پاس تک پہنچے تھے لیکن اسے پار نہیں کر پائے۔ نریندر مودی گجرات کے وڈودرا سے 570128 ووٹوں سے جیتے تھے. اور وہ وارانسی سے بھی لوک سبھا انتخابات جیتے تھے. انہوں نے وڈودرا سیٹ بعد میں چھوڑ دی تھی۔

سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے نام بھی ایک عام انتخابات میں سب سے زیادہ فرق سے الیکشن جیتنے کا ریکارڈ درج ہے. انہوں نے 1984 کے عام انتخابات میں اتر پردیش کے امیٹھی میں اپنی قریب ترین حریف مینکا گاندھی کو 314878 ووٹوں سے شکست دے کر یہ ریکارڈ بنایا تھا۔

لوک جن شکتی پارٹی کے صدر رام ولاس پاسوان کے نام ایک ایسا ریکارڈ ہے جو شاید ہی کوئی توڑ پائے. وہ دو بار عام انتخابات میں سب سے زیادہ فرق سے الیکشن جیتنے کا کرشمہ کر چکے ہیں۔ پاسوان نے 1989 کے عام انتخابات میں بہار کی حاجی پور سیٹ سے اپنے قریبی امیدوار کو 504448 ووٹوں سے شکست دی تھی اور اس انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کرنے والے امیدوار بنے تھے۔ اسی طرح 1977 کے عام انتخابات میں انہوں نے اسی سیٹ پر بھارتیہ لوک دل کے امیدوار کی حیثیت سے 424545 ووٹوں سے کامیابی حاصل کر کےاس بار کے انتخابات میں ریکارڈ بنایا تھا۔

چار لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے الیکشن جیتنے والوں میں کانگریس کے سنتوش موہن دیو بھی شامل ہیں۔ انہوں نے 1991 کے عام انتخابات میں تری پورہ کی تری پورہ (مغرب) سیٹ پر 428984 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی اور اس عام انتخابات میں سب سے زیادہ فرق سے فتح حاصل کرنے کا ریکارڈ بنایا تھا۔

دیگر انتخابات کی بات کی جائے تو 2009 میں ہوئے پندرہویں لوک سبھا انتخابات میں ناگالینڈ پیپلز فرنٹ کے سی ڈبلیو چانگ نے ناگالینڈ سیٹ پر 483021 ووٹوں سے کامیابی حاصل کر کے پہلے نمبر پر رہے تھے۔ اسی سیٹ پر 1999 میں کانگریس کے کے اسگنوا سگتام نے اپنے قریب ترین امیدوار کو 353598 ووٹوں سے شکست دی جو اس عام انتخابات میں سب سے زیادہ فرق سے الیکشن جیتنے کا ریکارڈ بنا۔

سال 1998 میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں اس طرح کا ریکارڈ بی جے پی کے ولبھ بھائی رام جی بھائی كٹھيريا نے بنایا تھا۔ انہوں نے گجرات کی راج کوٹ سیٹ پر 354187 ووٹوں سے جیت درج کی تھی۔ سال 1996 کے عام انتخابات میں ڈی ایم کے کے این وی این سومو نے تمل ناڈو کی مدراس (شمال) سیٹ پر 389617 ووٹوں سے کامیابی حاصل کرکے پہلے نمبر پر رہے تھے۔

سال 1962 کے بعد سے ہوئے مختلف لوک سبھا انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹوں سے الیکشن جیتنے کا ریکارڈ درج کرنے والے امیدواروں میں گائتری دیوی تنہا خاتون ہیں۔ انہوں نے 1962 کے عام انتخابات میں جے پور سے سوتنترپارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے 157692 ووٹوں کے فرق سے جیت درج کی تھی اور اس عام انتخابات میں پہلے نمبر پر رہی تھیں۔ اس طرح کا ریکارڈ ایک آزاد امیدوار کے بھی نام ہے. مہاراجہ مارتنڈ سنگھ نے 1980 کے عام انتخابات میں مدھیہ پردیش کی ریوا سیٹ پر آزاد امیدوار کی حیثیت سے 238351 ووٹوں سے کامیابی حاصل کرکے پہلے نمبر پر رہے تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

الیکشن کمیشن کا حلف نامہ - گجرات میں راجیہ سبھا انتخابات قانون کے مطابق، کمزور پڑ رہی کانگریس 

گجرات میں راجیہ سبھا انتخابات کو لے کر کانگریس کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے حلف نامہ داخل کیا ہے الیکشن کمیشن نے دو سیٹوں پر الگ الگ انتخابات کرانے کے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا۔

بی ایس این ایل کی حالت خراب؛ ملازمین کو جون کی تنخواہ دینے کے لیے نہیں ہیں رقم

رکاری ٹیلی کام کمپنی بی ایس این ایل نے حکومت کو ایک خط  بھیجا ہے، جس میں کمپنی نے آپریشنز جاری رکھنے میں تقریبا نااہلی ظاہر کی ہے۔کمپنی نے کہا ہے کہ رقم میں  کمی کے سبب کمپنی کے ملازمین کو  جون ماہ کی تنخواہ  تقریبا 850 کروڑ روپے  دے پانا مشکل ہے۔کمپنی پر ابھی قریب 13 ہزار کروڑ ...