کرونا سے لڑنے کے بہانے ملک پر ایک خاص مذہبی عقیدے کو تھوپنے کی کوشش: ڈاکٹر شکیل احمد، سابق مرکزی وزیر نے کہا “ملک کو اس وقت مستحکم طبی نظام کی ضرورت”

Source: S.O. News Service | Published on 7th April 2020, 12:39 PM | ملکی خبریں |

جالے،دربھنگہ،7؍اپریل (ایس او نیوز؍پریس ریلیز) کرونا بلا شبہ ایک خطرناک مہلک مرض ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں جانچ اور علاج کے مستحکم انتظام کے ساتھ مضبوط منصوبہ بندی کی ضرورت ہے مگر اس بہانےملک پر کسی خاص مذہبی عقیدے کو تھوپنے کی کوشش درست قرار نہیں دی جاسکتی یہ باتیں سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر شکیل احمد نے صحافی ارشد فیضی،سماجی کارکن محمد صادق آرزو اور عامر اقبال سے ملک کے موجودہ حالات پر بات چیت کرتے ہوئے کہیں انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت نازک گھڑی سے گزر رہا ہے لیکن اس کے باوجود گزشتہ کل ملک نے کرونا بھگانے کے بہانے دیا بتی جلانے کے نام پر دیوالی کا جو منظر دیکھا اور جس طرح بی جے پی کے ارکان نے لاک ڈاون کے تمام تر اصولوں کو توڑتے ہوئے جگہ جگہ اکٹھا ہوکر خوشی میں پھٹاخے پھوڑے وہ انتہائی مضحکہ خیز ہیں اور سوال یہ بھی ہے کہ آخر لاک ڈاون کے ماحول میں اتنی تعداد میں موم بتی اور پٹاخے ان تک کیسے پہونچے اور آخر انہیں ایک ساتھ مشعل جلوس نکالنے اور ایک جگہ جمع ہوکر پھٹاخے پھوڑنے کی اجازت کہاں سے ملی؟ کیا انتظامیہ ایسے لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی،انہوں نے کہا کہ کرونا جیسے مہلک مرض سے بچاو کے لئے ضروری تدابیر کا اختیار کیا جانا ہی اس کا قابل قبول علاج ہے اور اس کے لئے ہمیں علاج کی ضروری ترکیبیں اختیار کرتے ہوئے عوام کو اس کی مناسب سہولیات بھی فراہم کرانی ہوں گی تاکہ اس پر فوری قابو پایا جا سکے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری مرکزی وریاستی حکومتیں اس سمت میں ذمہ دارانہ قدم اٹھانے میں ابھی تک ناکام ثابت ہوئی ہیں اور اب اپنی انہی سب کمزوریوں کو چھپانے کے لئے ہمارے وزیر اعظم تالی تھالی اور دیا بتی جیسے غیر ضروری معاملے میں عوام کو الجھائے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ملک کا حساس طبقہ حکومت سے ان کی ناکامیوں پر کوئی سوال نہ کر سکے جب کہ حکومت کو بھی معلوم ہے کہ کرونا کے علاج کے لئے ملک کو اس وقت مستحکم طبی نظام کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت جبکہ پورا ملک کرونا سے عملی جنگ کی تدبیریں اپنا رہا ہے،دنیا بھر کے ڈاکٹرس اس بیماری کا قابل اطمینان علاج تلاش کرنے میں مصروف ہیں،اچانک لاک ڈاون کی وجہ سے اپنے گھروں میں قید مزدور فاقہ کشی کی وجہ سے دو وقت کی باعزت روٹی کے لئے ترس رہے اور لاکھوں بے سہارا مزدور اپنے گھروں تک پہنچنے کے لئے حکومت سے رحم کی بھیک مانگنے کے ساتھ دردر بھٹکنے پر مجبور ہیں ملک کے وزیر اعظم کے ذریعہ کرونا سے نمٹنے کے لئے یکے بعد دیگرے عوام کو بتائے جارہے فارمولے کافی حد تک عوامی سمجھ سے دور بلکہ مایوس کن ہیں،انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے ذریعہ بتائے جارہے فارمولے کرونا جیسی بھیانک وبا سے جنگ لڑ رہے مایوس لوگوں کو فوری طور پر ذہنی تسلی تو دے سکتے ہیں مگر اس سے کرونا پر قابو پانے کو یقینی نہیں بتایاجاسکتا انہوں نے کہا کہ اگر ملک اس مہلک وبا کی گرفت سے نکلنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ہمیں ڈاکٹروں کی ان ہدایات پر عمل کرنے کو یقینی بنانا ہوگا جو اس مہلک بیماری کی جنگ جیتنے میں اپنی حصہ داری نبھارہے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک ان دنوں جس بھیانک بیماری کی زد میں پھنس کر اس پر قابو پانے کی حکمت عملی پر غور کر رہا ہے اس کا اعلاج تلاشنے اور عوامی مشکلات کا حل ڈھونڈنے کے لئے حکومت کو نہ صرف زمینی سطح پر کام کرنے اور علاج کے لئے ضروری اشیاء کے انتظام کی ضرورت ہے بلکہ اس سلسلے میں ہمیں ماہر اور تجربہ کار ڈاکٹروں کی ہدایات کو اپنا کر عوام میں اعتماد بحال کرنے کی فکر کرنی ہوگی ورنہ عالمی منظر نامے میں بہت کچھ کھوکر بھی ہمارے لئے کسی خوشگوار نتیجے تک پہنچنا مشکل ہو جائے گا،ڈاکٹر شکیل احمد نے کہا کہ جنتا کرفیو سے لے کر تالی تھالی بجانے اور گھروں میں چراغ جلانے تک ہر مرحلے میں ملک کی عوام نے وزیر اعظم کے مشورے کا احترام کر لیا ہے مگر اب وزیر اعظم کو ان لوگوں کے مفادات وتحفظ کی بھی کچھ بات کرنی چاہئے جو بھوک مری کی کگاڑ پر ہیں،کیونکہ جب تک ہم ایسے لوگوں کے مستقبل کے سلسلے میں کوئی بات نہیں کریں گے اور سماج کے پسماندہ لوگوں کو اس بحرانی کیفیت سے نکالنے پر غور نہیں کیا جائے گا عوام کو مایوسی کے دور سے باہر نکالنے کے تمام فارمولہ بے اثر ثابت ہونگے۔

ایک نظر اس پر بھی

لاک ڈاؤن کے دوران جان گنوا نے والے مہاجر مزدوروں کے اہل خانہ کو 25لاکھ روپئے معاوضہ دینے ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ

   سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا  کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے   مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بغیر تیاری کے اعلان کردہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام کرنے کی جگہ اور اپنے گھروں کو پیدل سفر کرنے والے جو مہاجر مزدور بھوک اور تھکن سے جان گنو ا چکے ہیں،  ان کے ...