غیر ملکی سفارتکاروں کے وفد کا دورہ جموں و کشمیر اختتام پذیر

Source: S.O. News Service | Published on 14th February 2020, 12:49 AM | ملکی خبریں |

سری نگر/ جموں،13/فروری(ایس او نیوز/یو این آئی) جموں وکشمیر کے دو روزہ دورے کو سمیٹتے ہوئے 25 غیر ملکی سفارتکاروں پر مشتمل وفد نے جمعرات کو سرمائی دارالحکومت جموں میں لیفٹیننٹ گورنر گریش چندرا مرمو، چیف سکریٹری بی وی آر سبھرامنیم، جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی خاتون چیف جسٹس جسٹس گیتا متل کے علاوہ مختلف وفود سے ملاقات کی۔

واضح رہے کہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 25 سفارتکاروں پر مشتمل تیسرا وفد بدھ کے روز وارد سری نگر ہوا تھا اور سخت حفاظتی بندوبست اور ڈورن کیمروں کی نگرانی میں شہرہ آفاق جھیل ڈل کی سیر کے بعد گپکار میں واقع للت گرینڈ ہوٹل میں مختلف عوامی وفود کے علاوہ کئی سیاسی لیڈروں اور صحافیوں کے ساتھ ملاقی ہوا تھا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سفارتکاروں کا وفد جو رات کو سری نگر میں ہی قیام پذیر تھا، جمعرات کی صبح بادامی باغ علاقے میں واقع فوج کی 15 ویں کور کے ہیڈکوارٹر میں جی او سی لیفٹیننٹ جنرل کے جے ایس ڈھلون سے ملاقی ہوا جنہوں نے وفد کو جموں و کشمیر کی سیکورٹی صورتحال پر بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ موصوف فوجی افسر کے ساتھ ملاقات کے بعد وفد جموں روانہ ہوا، جہاں وہ لیفٹیننٹ گورنر گریش چندرا مرمو، چیف سکریٹری بی وی آر سبھرامنیم، جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی خاتون چیف جسٹس جسٹس گیتا متل کے علاوہ مختلف وفود سے ملاقی ہوا۔

ذرائع نے بتایا کہ وفد نے لیفٹیننٹ گورنر کو سری نگر میں اپنی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور موصوف گورنر نے بھی وفد کو جموں و کشمیر کی تعمیر و ترقی کے بارے میں کیے جانے والے اقدام سے باخبر کیا۔ اس موقع پر موصوف گورنر کے مشیران، پولیس سربراہ دلباغ سنگھ کے علاوہ کئی اعلیٰ حکومتی عہدیدار بھی موجود تھے۔ قبل ازیں متذکرہ وفد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی خاتون چیف جسٹس جسٹس گیتا متل سے بھی ملاقی ہوا۔

مرکزی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کو دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی تنسیخ اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے پانچ اگست 2019ء کے فیصلوں کے بعد یہ کسی غیر ملکی وفد کا تیسرا دورہ کشمیر تھا۔

قبل ازیں 23 ارکان پر مشتمل پہلا یورپی وفد 29 اکتوبر 2019 کو وادی کے زمینی حالات کا جائزہ لینے کے لئے وارد وادی ہوا تھا جبکہ 15 غیر ملکی سفارتکاروں پر مشتمل دوسرا وفد ماہ جنوری کی 9 تاریخ کو وارد وادی ہوکر حکومتی چنندہ وفود و صحافیوں سے ملاقی ہوا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ غیر ملکی سفارتکاروں کے وفد کا یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب دو سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پر حال ہی میں پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا جو سوشل میڈیا پر سیاسی گلیاروں سے لے کر صحافتی حلقوں تک گرم موضوع بحث بن گیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

شاہین باغ: مظاہرین اور مذاکرات کاروں کی بات چیت بے نتیجہ،شہریت قانون واپس لینے تک ڈٹے رہنے کا عزم

شاہین باغ میں گزشتہ68 دنوں سے شہریت ترمیمی قانون، این آر سی و این پی آر کے خلاف جاری عالمی شہرت حاصل کر چکے دھرنا و مظاہرہ میں 19فروری کا دن بہت خاص رہا کیونکہ سپریم کورٹ کے ذریعہ مقرر کردہ مذاکرہ کار سنجے ہیگڈے اور سادھنا رام چندرن بات چیت کرنے پہنچے-

آسام: زبیدہ بیگم کے پاس15دستاویزات موجود شہریت ثابت کرنے میں پھر بھی ناکام!

پورے ہندوستان میں این آر سی لگائے جانے اور اس کے اثرات پر بحث جاری ہے- آسام میں این آر سی سے پیدا مشکلات کو سامنے رکھ کر لوگ پورے ملک میں این آر سی لگائے جانے کی مخالفت کر رہے ہیں - آسام میں کئی معاملے سامنے آ چکے ہیں جس میں برسوں سے وہاں رہ رہے لوگوں کو شہریت ثابت کرنے میں مشکل پیش ...

جس طرح سے سی وی سی کی تقرری ہوئی اس طرح تو چپراسی کی بھی تقرری نہیں ہو سکتی: کانگریس

کانگریس نے چیف ویجلنس کمشنر (سی وی سی) اور ویجلنس کمشنر (وی سی ) کی تقرری کو اداروں کو تباہ کرنے کی ایک اور مثال قرار دیتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا اور الزام لگایا کہ اس میں طریقہ کار پر عملدرآمد ہی نہیں کروایا گیا ہے۔