بھٹکل نیشنل ہائی وے کنارے پر مچھلی اور ترکاری کا لگ رہا ہے بازار۔ د ن بھر سنڈے مارکیٹ کا منظر

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 23rd July 2020, 8:05 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 23/جولائی (ایس او نیوز) جب سے بھٹکل میں کورونا وباء کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہواتھا، تب سے ہفتہ واری سنڈے مارکیٹ اور مچھلی مارکیٹ بالکل بند ہے۔ لیکن ترکاری، فروٹ اور مچھلی کے کاروباریوں نے نیشنل ہائی وے، مین روڈ اور گلی محلوں کی صورت میں اس کا دوسرا نعم البدل تلاش کرلیا ہے۔

اب صبح سے شام تک نیشنل ہائی وے کے کناروں پر ترکاری، فروٹ اور مچھلی فروشوں کی چھوٹی چھوٹی دکانیں سجتی ہیں۔ جہاں پر سنڈے مارکیٹ کی طرح ہر قسم کی ترکاریاں، مرچی، پیازوغیرہ کے علاوہ پھل بھی بکثرت ملتے ہیں۔ مچھلیوں کو ٹیمپو اور رکشہ میں بھر کر یہاں پرلایا اور بیچا جارہا ہے۔اور دن بھر خریداروں کا ایسا ہجوم رہتا ہے کہ بالکل سنڈے مارکیٹ کا منظر دکھائی دیتا ہے۔

دراصل بھٹکل کے مقامی ترکاری اور فروٹ کے کاروباریوں کے علاوہ سنڈے کی ہفتہ واری مارکیٹ میں ہبلی، ہاویری، ہانگل وغیرہ سے بہت سے بیوپاری اپنا مال لاتے اور فروخت کیا کرتے تھے۔ یہ لوگ ہردن کسی نہ کسی شہر میں ہفتہ واری مارکیٹ میں کاروبار کے لئے سفر کرتے رہتے ہیں۔ اب جب سے لاک ڈاؤن شروع ہوا ہے، تب سے ہفتہ واری مارکیٹ نہ لگنے کی وجہ سے باہر کے کاروباری اپنا مال بھٹکل میں ریٹیل میں فروخت کرنہیں پارہے تھے۔ بس ہول سیل سپلائی کرنے والے ہی دکانداروں کو مال فروخت کیا کرتے تھے۔اسی طرح مچھلی اور گوشت کی مارکیٹ بھی بند ہوگئی تھی جو تاحال کھلی نہیں ہے۔

 اسی دوران چونکہ بھٹکل کو کنٹیمنٹ زون بناکر سیل ڈاؤن کیا گیا اور سخت پابندیاں عائد کی گئیں تو تقریباً ہر محلے اور علاقے میں کچھ نوجوانوں نے ہول سیل ترکاری اور فروٹ بیرونی ہول سیل کاروباریوں سے خرید کرلانا اور اپنے اپنے علاقے میں سستے داموں میں بیچنا شروع کیا۔ کچھ نوجوانوں نے مچھلی کے کاروبار میں قسمت آزمائی شروع کردی اور وہاٹس ایپ مسیجس  کے ذریعے تشہیر کرتے ہوئے سارے شہرمیں مچھلی، ترکاری اور فروٹ ہوم ڈیلیوری کرنے کاسلسلہ شروع ہوگیا۔

 جب سے بھٹکل میں لاک ڈاؤن قوانین میں چھوٹ دی گئی ہے تب سے دیکھا جارہا ہے کہ سنڈے مارکیٹ میں ایک دن کے لئے اپنا مال فروخت کرنے کے لئے جو لوگ آتے تھے اب وہ لوگ منی ٹرکس اور گوڈس رکشہ میں اپنا مال بھر کر بھٹکل پہنچ رہے ہیں اور نیشنل ہائی وے اور مین روڈ وغیر ہ کے کنارو ں پر اپنی عارضی دکانیں لگا کر خوب کاروبار کررہے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی مقامی دکانداروں سے کچھ دیگر لوگ بھی یہاں پہنچ کر اپنا مال بیچنے لگے ہیں۔دوسری طرف لاک ڈاؤن میں جن نوجوانوں نے ہول سیل مال خریدنے کے بعد علاقوں میں بیچنے یا مفت تقسیم کرنے کی جو مہم چلائی تھی ان میں سے کئی ایک نے اب اس کو اپنا مستقل کاروبار بھی بنالیا ہے اور مناسب داموں پر عوام کو ترکاری، فروٹ وغیرہ فروخت کرنے میں لگے ہیں۔

 اس کے علاو ہ مچھلی کے کاروباری ایک طرف بند مارکیٹ کے باہری علاقے میں سلطانی اسٹریٹ میں بڑے زور وشور کے ساتھ مچھلی کا روبار چلارہے ہیں۔ چوک بازار اور دیگر علاقوں میں بھی حسب معمول مچھلی فروشی ہورہی ہے۔ لیکن اب نیشنل ہائی وے کے کنارے بھی پہلے سے زیادہ بڑے پیمانے پر مقامی اور بیرنی مچھلی کے کاروباری اپنی عارضی دکانیں لگا رہے ہیں۔اوربہت بڑی تعداد میں شہر کے لوگ سستے مال کی تلاش میں یہاں سے وہاں پر گھومتے پھرتے اور جہاں مناسب دام محسوس ہوتا ہو وہاں سے خریداری کرتے نظر آرہے ہیں۔عام طور پر نیشنل ہائی وے پر سرکل کے پاس سے ٹی ایف سی ہوٹل کے سامنے اور پھر اس   کے بعد رنگین کٹّہ سے جالی کراس تک خاص کر صبح سے شام  تک لوگوں کا ہجوم دیکھنے لائق ہوتا ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

چلتی ٹرین پر سے مسافر گرپڑا؛ منکی ریلوے ٹریک پر ملی نعش؛ جیب سے برآمد ہونے والی رسید سے مہلوک کی ہوئی شناخت

چلتی ٹرین پر سے مسافر باہر گرنے سے اُس کی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت  سنتوش کمار ایم (48) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ حادثہ  بھٹکل سے قریب 30 کلو میٹردور منکی ریلوے ٹریک پر  پیش آیا، جہاں ایک شخص کی نعش لاوارث حالت میں پڑی ہوئی تھی۔

بھٹکل میں لنگر انداز 2کشتیاں پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے ٹکرا گئیں;کشتیوں کو نقصان

موسلادھار بارش کے ساتھ تیز ہواؤں کی وجہ سے سمندر میں اونچی لہریں اٹھ رہی ہیں جس کا اثر بندگاہوں پر لنگر انداز کشتیوں پر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔  ایسا ہی ایک واقعہ بھٹکل بندرگاہ پر بھی سامنے آیا جس میں ساحل سے ٹکرانے والی تیز سمندری لہروں اور شرابی ندی میں سیلاب آجانےسے پانی کا ...

شموگہ میں زبردست بارش کے نتیجے میں ہوناور کے شراوتی ندی کے اطراف رہنے والوں کے لئے بج گئی خطرہ کی گھنٹی؛ ڈیم سے کسی بھی وقت پانی چھوڑے جانے کی وارننگ

پڑوسی ضلع شموگہ میں زبردست بارش  کے بعد  لنگن مکّی ڈیم میں پانی کی سطح کافی حد تک بڑھ گئی ہے جس کو دیکھتے ہوئے کرناٹکا پاور کارپوریشن (کے پی سی ایل) کی طرف سے  ہوناور تعلقہ کے شراوتی ندی کے اطراف بسنے والوں کے لئے خطرے کا الارم بجا دیا گیا ہے اور ندی کے اطراف بسنے والے دیہات کے ...

بھٹکل: شمالی کینرا میں طوفانی بارش کا سلسلہ جاری۔کئی دیہات تالاب میں تبدیل، ندی کنارے بسنے والوں کے لئے چوکنا رہنے کی ہدایت

ضلع شمالی کینرا کے تقریباً تمام تعلقہ جات میں موسلا دھار بارش اور تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں کئی دیہاتوں میں زرعی زمین ، ناریل کے باغات اور راستے وغیرہ تالاب میں تبدیل ہوگئے ہیں،  مسلسل ہورہی بارش کی وجہ سے عام زندگی بھی ٹھپ ہوگئی ہے جبکہ ندیوں کے کنارے بسنے ...

ساحلی علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کا اہم مرکزبننے جارہا ہےانکولہ شہری ہوائی اڈہ، بندرگاہ اور انڈسٹریل ایسٹیٹ کے تعمیری کام سے بدل رہا ہے نقشہ

آج کل  شمالی کینرا کے شہر انکولہ میں بڑے اہم سرکاری منصوبہ جات پر کام شروع ہورہا ہے جس کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ  مستقبل قریب میں یہاں کا نقشہ ہی بدل جائے گا اور پورے ساحلی علاقوں میں  انکولہ شہر کاروباری سرگرمیوں کا اہم مرکز بن جائے گا اورانکولہ  پورے ملک کی توجہ اپنی طرف ...

کاروار: سمندر میں غذاکی کمی سے  مچھلیوں کی افزائش اورماہی گیری کا کاروبار ہورہا ہے متاثر۔ ۔۔۔۔۔ایک تجزیاتی رپورٹ 

ساحلی علاقے میں مچھلیوں کی افزائش میں کمی سے اس کاروبار پر پڑنے اثرا ت کے بارے میں مختلف ماہرین نے اپنے اپنے اندازمیں تبصرہ اور تجزیہ کیا ہے۔کاروار ہریکنترا مینو گاریکے سہکاری سنگھا کے صدر کے سی تانڈیل کا کہنا ہے کہ ندیوں سے بہتے ہوئے  سمندر میں جاکر ملنے والا پانی بہت زیادہ ...

ملک تباہ، عوام مطمئن، آخر یہ ماجرا کیا ہے!۔۔۔۔ آز:ظفر آغا

ابھی پچھلے ہفتے لکھنؤ سے ہمارے عزیزداروں میں سے خبر آئی کہ گھر میں موت ہو گئی۔ پوچھا کیا ہوا۔ پتہ چلا کورونا وائرس کے شکار ہوئے۔ ایک ہفتے کے اندر انتقال ہو گیا۔ پوچھا باقی سب خیریت سے ہیں۔ معلوم ہوا ان کی بہن بھی آئی سی یو میں موت و زندگی کے درمیان ہیں۔

 کاروار:پی ایس آئی کے نام سے فیس بک پر نقلی اکاؤنٹ۔ آن لائن دھوکہ دہی کا نیا طریقہ ۔ تیزی سے چل رہا ہے فراڈ  کا کاروبار 

ڈیجیٹل بینکنگ اور بینک سے متعلقہ کام کاج انٹرنیٹ کے ذریعے انجام دینے کی سہولت اس لئے عوام کو فراہم کی گئی ہے تاکہ لوگ کم سے کم وقت میں بغیر کسی دقت کے اپنی بینکنگ کی ضرورریات پوری کرسکیں ۔ نقدی ساتھ لے کر گھومنے اور پاکٹ ماری کے خطرے جیسی مصیبتوں سے بچ سکیں۔لیکن اس سسٹم نے جتنی ...

بھٹکل کے بلدیاتی اداروں میں چل رہا ہے سرکاری افسران کا ہی دربار۔ منتخب عوامی نمائندے بس نام کے رہ گئے

ریاستی حکومت کی بے توجہی اورغلط پالیسی کی وجہ سے مقامی  بلدیاتی اداروں میں عوامی منتخب نمائندے بس نام کے لئے رہ گئے ہیں اور خاموش تماشائی بنے رہنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔جبکہ ان اداروں میں سرکاری افسران کا ہی دربار چل رہا ہے۔بھٹکل میونسپالٹی، جالی پٹن پنچایت  وغیرہ کا بھی یہی ...