ضمیر احمد خان کو جان سے مارنے کی دھمکی پولیس کی طرف سے جے ڈی ایس کارکن کے خلاف ایف آئی آر

Source: S.O. News Service | Published on 28th August 2021, 10:47 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،28؍اگست(ایس او  نیوز) سابق ریاستی وزیر اور رکن اسمبلی ضمیر احمد خان کے خلاف فیس بک پر توہین آمیز پوسٹ کرنے اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دینے والے جے ڈی ایس کارکن کے خلاف پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے۔ نرسمہا مورتی نامی ملزم کے خلاف اتر ہلی کے نوین گوڑا نے شکایت درج کروائی۔ ضمیر احمد کے خلاف بنائے گئے اس مبینہ ویڈیو میں نرسمہا مورتی نے نہ صرف ان کو توہین آمیز لہجے میں مخاطب کیا ہے بلکہ ان کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔ نرسمہا مورتی نے کہا ہے کہ ’تم نے سابق وزیر اعلیٰ کے خلاف غیر ذمہ دارانہ بیان دیا ہے۔ سیکورٹی کے باوجود ہم تمہیں پیٹ بھی سکتے ہیں اور مار بھی سکتے ہیں۔ایچ ڈی کے گجا پڑے نامی فیس بک اکاؤنٹ پر نرسمہا مورتی نے 11جون کو یہ پوسٹ کیا تھا۔چامراج پیٹ پولیس نے اس سلسلے میں تعذیرات ہند کی دفعہ 504کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مسلمانوں میں نکاح معاہدہ ہے نہ کہ ہندو شادی کی طرح رسم، طلاق کے معاملے پرکرناٹک ہائی کورٹ کااہم تبصرہ

کرناٹک ہائی کورٹ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ مسلمانوں کے یہاں نکاح ایک معاہدہ ہے جس کے کئی معنی ہیں ، یہ ہندو شادی کی طرح ایک رسم نہیں ہے اور اس کے تحلیل ہونے سے پیدا ہونے والے حقوق اور ذمہ داریوں سے دور نہیں کیا جاسکتا۔

کرناٹک سے روزانہ 2100کلو بیف گوا کو سپلائی ہوتاہے : وزیر اعلیٰ پرمود ساونت

بی جے پی کی اقتدار والی ریاست کرناٹک سے روزانہ 2000کلوگرام سے زائد جانور اور بھینس کا گوشت (بیف)گوا کو رفت ہونےکی جانکاری بی جے پی اقتدار والی ریاست گوا کے وزیرا علیٰ پرمود ساونت نے دی۔ وہ گوا ودھان سبھا کو تحریری جواب دیتےہوئے اس بات کی جانکاری دی ۔

کرناٹک کے داونگیرے میں ایک لڑکی نے والدین سمیت 4 افرادکو سلایا موت کی نیند؛ کیا ہے پورا واقعہ

کرناٹک میں ایک لڑکی نے امتیازی سلوک سے تنگ آکر اپنے پورے خاندان کو زہر دے کر ہلاک کردیا۔ جب فارنسک رپورٹ منظر عام پر آئی تو انکشاف ہوا کہ اس خاندان کی موت رات کے کھانے میں پائے جانے والے زہر سے ہوئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق داونگیر میں ایک 17 سالہ لڑکی کو کچھ عرصے سے اپنے خاندان ...

ہبلی میں مبینہ تبدیلی مذہب کی مخالفت کرتے ہوئے شدت پسند ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے چرچ کے اندر گھس کر گایا بھجن

ہبلی میں تبدیلی مذہب کی مخالفت کرتے ہوئے ہندو شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں نے ایک چرچ کے اندر گھس کر بھجن گانا شروع کردیا جس کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں درجنوں مرد و خواتین کو دیکھا گیا ہے کہ وہ کس طرح ہبلی کے بیری ڈیوارکوپا چرچ کے اندر بیٹھے ہاتھ جوڑ کر بھجن گارہے ہیں۔