بھٹکل میں فکروخبر میڈیا کی طرف سے فقہ شافعی آن لائن کوئیز مقابلہ، نوے افراد کے مابین تقسیم کئے گئے انعامات 

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 25th June 2020, 3:30 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل 25/جون (ایس او نیوز)  فکروخبر فقہ شافعی اور اسلامی افکار کے اشتراک سے منعقدہ پندرہ روزہ آن لائن فقہی مسابقہ کی انعامی نشست منگل کو منعقد  کی گئی جس میں پروگرام میں شریک ہونے والے  1212 مساہمین میں  سے 90 لوگ انعامات کے مستحق قرار پائے۔

پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے فکرو خبر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ  مسابقہ پندرہ روز تک جاری رہا۔ روزانہ دس سوالات متعلقہ وھاٹس اپ نمبر پر بھیجے جاتے تھے اور ان کے جوابات آپشن میں دئیے جاتے تھے، مساہمین کو صرف صحیح جواب پر نشان لگانا ہوتا تھا۔ البتہ مسابقہ کے گیارہویں روز سے پندرہویں روز تک مزید دس اضافی جوابات پوچھے گئے تھے۔ مسابقہ میں کل ایک ہزار دو سو بارہ لوگوں نے شرکت کی۔جن میں سے سو فیصد جوابات دینے والے سات افراد تھے جن کو چار چار ہزار روپئے انعامات دئیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ 99.33 فیصد جواب دینے والے دس افراد، اسی فیصد سے زائد جواب دینے والے 321تھے جن میں سے تیس افراد کو قرعہ اندازی کے ذریعہ منتخب کیا گیا۔ سو فیصد حاضری میں 390 افراد شریک رہے جن میں سے بیس افراد کو قرعہ اندازی کے ذریعہ منتخب کیا گیا۔ اضافی سوالات کے مکمل جوابات دینے والے  18 افراد رہے اورا ن سبھی کو انعامات سے نوازا گیا۔اس کے علاوہ مزید انعامات سے بھی نوازا گیا، کل ملاکر مسابقہ میں نوے افراد کے مابین 72,500 کے انعامات تقسیم کئے گئے۔ 

پروگرام کی صدارت ادارہ فکروخبر کے صدر مولانا محمد الیاس صاحب ندوی نے فرمائی اور مہمانِ خصوصی کے طور پر قاضی مرکزی  خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل مولانا خواجہ معین الدین ندوی مدنی، استاد تفسیر جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا محمد انصار خطیب ندوی مدنی ، انجمن حامیئ مسلمین بھٹکل کے ایڈیشنل جنرل سکریٹری جناب محمد اسحاق شاہ بندری، استاد فقہ وحدیث جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور مولانا مفتی فیاض احمد برمارے وغیرہ موجود تھے۔ جلسہ کی نظامت مولانا عبدالنور فکردے ندوی اور مولاناسید ابراہیم اظہر برماور ندوی نے کی اور شکریہ کلمات مولانا شافع شاہ بندری ندوی نے ادا کئے۔ جناب مفتی فیاض احمد صاحب کو صدر جلسہ اور مہمانانِ خصوصی کے ہاتھوں ان کی فکروخبر فقہ شافعی کے لئے دی گئی خدمات کے پیشِ نظر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے اعزاز سے نوازا گیا۔ سوالات تیار کرانے میں فقہ شافعی کی علماء کمیٹی نے اپنی انتھک محنتیں صرف کیں اور آن لائن کے نظم ونسق کی جملہ ذمہ داریاں اسلامی افکار کے ذمہ دار جناب فضل الرحمن صاحب شاہ بندری صاحب نے بحسن وخوبی انجام دی۔ 

اس موقع پر پروگرام میں شریک مہمانان خصوصی نے اپنے اپنے تاثرات پیش کئے۔

ایک نظر اس پر بھی

کووِڈ اَپ ڈیٹ: ضلع شمالی کینرا میں بھٹکل میں 15 متاثرین سمیت99نئے پوزیٹیو معاملات۔کاروار میں ضلع پنچایت سی ای او کی رپورٹ بھی نکلی پوزیٹیو 

ضلع شمالی کینرا میں بدھ کی شام کو ملنے والی رپورٹ کے مطابق جملہ 99افراد کی رپورٹ پوزیٹیو آئی ہے جس میں ضلع پنچایت کے چیف ایکزیکٹیو بھی شامل ہیں۔جبکہ آج 74مریض صحت یا ب ہوکر اسپتال سے ڈسچارج ہوئے ہیں۔

 بھٹکل جالی پٹن پنچایت کی نئی عمارت کی تعمیرروک دی جائے۔ پنچایت اراکین نے کیا اسسٹنٹ کمشنر سے مطالبہ 

بھٹکل جالی پٹن پنچایت کے اراکین نے اسسٹنٹ کمشنرکو میمورنڈم دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے تحصیلدار نے جالی پٹن پنچایت کی نئی عمارت تعمیر کرنے کا جو کام شروع کیا ہے

اننت کمار ہیگڈے نے لگایابی ایس این ایل میں دیش دروہی افسران موجود ہونے کا الزام

اپنے متنازعہ بیانات کے لئے پہچانے جانے والے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے الزام لگایا کہ بھارت سنچار نگم لمیٹڈ کے اندر دیش دروہی افسران بیٹھے ہوئے جس کی وجہ سے اس کے کام کاج میں کوئی ترقی نہیں ہورہی ہے۔ اس لئے آئندہ دنوں میں اس کی نج کاری (پرائیویٹائزیشن) کیا جائے گا۔

ایم پی اننت کمار ہیگڈے کا بھٹکل دورہ؛ 23.72کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کو دکھائی ہری جھنڈی

پیر کو رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے بھٹکل کا دورہ کرتے ہوئے  بھٹکل تعلقہ میں ’پردھان منتری گرام سڑک یوجنا‘کے تحت 23.72کروڑ روپے لاگت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کو ہری جھنڈی دکھائی۔ وہ یہاں ماروتی نگر میں بی جے پی تعلقہ آفس کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کررہے تھے۔

باپ کی املاک پر بیٹی کا بیٹے کی طرح یکساں حق: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے منگل کو ایک دور رس نتائج والے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ ہندو غیر منقسم خاندان کی آبائی املاک میں بیٹی کو بیٹے کی طرح ہی حقوق حاصل ہوں گے، یہاں تک کہ اگر ہندو جانشینی (ترمیمی) ایکٹ 2005 کے نفاذ سے قبل ہی اس کے والد کی موت کیوں نہ ہوگئی ہو۔

بنگلور: ٹرانسفرس کے احکامات ملتوی کرانے میں مبینہ طور پر با رسوخ اساتذہ کی لابی شامل، چار سال سے ڈگری کالجوں کے لکچررس کے تبادلے نہیں ہوسکے

ریاست کرناٹک کے سرکاری فرسٹ گریڈ کالجوں میں خدمات انجام دے رہے لکچررس کے تبادلے نہیں ہوسکے ہیں، جس کے سبب انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس تعلق سے الزامات لگائے جارہے ہیں کہ  چند با رسوخ لکچررس کی طرف سے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرکے تبادلوں کی کاروائی ملتوی ...