اس سال زبردست معاشی بحران کا اندیشہ، عالمی معیشت میں ہوگی 5.2 فیصد گراوٹ!

Source: S.O. News Service | Published on 9th July 2020, 9:15 PM | ملکی خبریں | عالمی خبریں |

واشنگٹن،9؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) کورونا وائرس کا اثر عالمی معیشت پر اب صاف نظر آنے لگا ہے اور اس سال زبردست معاشی بحران کا اندیشہ لگاتار ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق ہر دن کورونا انفیکشن کے بڑھتے معاملوں کو دیکھتے ہوئے عالمی معیشت میں رواں سال 5.2 فیصد گراوٹ کا امکان ہے اور یہ دنیا کے ترقی یافتہ و ترقی پذیر ممالک کے لیے باعث فکر ہے۔ کورونا کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں تقریباً پوری طرح ٹھپ پڑ چکی ہیں جس کی وجہ سے دنیا کے بیشتر ممالک میں معاشی امکانات پر دھند چھائی ہوئی دکھائی پڑ رہی ہے۔

کورونا وبا کی وجہ سے پیدا معاشی بحران کے جلد گزرنے کا امکان بھی کم ہی نظر آ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2022 سے پہلے عالمی معیشت کورونا بحران کے پہلے والی حالت پر نہیں لوٹ پائے گی۔ اس سلسلے میں 'ڈن اینڈ براڈ اسٹریٹ' نے ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی ہے جس میں 132 ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی معیشت میں اس سال 5.2 فیصد کی گراوٹ آئے گی اور یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ یہ گراوٹ 2009 میں 1.9 فیصد کی گراوٹ کے مقابلے بہت زیادہ بڑی ہے۔

ڈن اینڈ براڈ اسٹریٹ کے اہم ماہر معیشت ارون سنگھ نے اس سلسلے میں کہا کہ کئی ممالک لاک ڈاؤن میں نرمی دے رہے ہیں، لیکن ترقی اور گراوٹ کی الگ الگ تصویر سامنے آئی ہے۔ ارون سنگھ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس وبا اور دھیمی معاشی سرگرمیوں کے درمیان زبردست بحران کا اندیشہ برقرار ہے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ عالمی معیشت 2022 سے پہلے کسی بھی طرح سے عالمی وبا کے پہلے کی سطح پر نہیں لوٹ پائے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

بے لگام میڈیا پر جمعیۃ کی عرضی: جب تک عدالت حکم نہیں دیتی حکومت خود سے کچھ نہیں کرتی: چیف جسٹس

مسلسل زہر افشانی کرکے اور جھوٹی خبریں چلاکر مسلمانوں کی شبیہ کوداغدار اور ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوارکھڑی کرنے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف داخل کی گئی

دہلی فسادات: پروفیسر اپوروانند کی حمایت میں سامنے آئے ملک و بیرون ملک کے دانشوران

 ملک اور بیرون ملک کے ایک ہزار سے زائد معروف دانشوروں، نوکر شاہوں، صحافیوں، مصنفوں، ٹیچروں او اسٹوڈنٹس نے دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند سے مشرقی دہلی میں فسادات کے معاملے میں پوچھ گچھ کئے جانے اور انکا موبائل فون ضبط کرنے کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور پولیس کے ذریعہ ...

کالعدم چینی کمپنیوں سے بی جے پی کے گہرے رشتے ہیں: کانگریس

 کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے قومی سلامتی کے لیے خطرہ بتاتے ہوئے جن چینی کمپنیوں پر پابندی لگائی ہے ان میں سے کئی کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے گہرے رشتے ہیں اور گزشتہ عام انتخابات میں ان کمپنیوں نے اس کے لیے تشہیری مہم کا کام کیا تھا۔

ریا چکرورتی کا سوشانت کے ساتھ جڑنے کا واحد مقصد ان کی جائیداد ہڑپنا تھا: بہار پولیس کا حلف نامہ

 بہار پولیس نے اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں سپریم کورٹ میں دائر حلف نامے میں کہا کہ کلیدی ملزمہ ریا چکرورتی اور اس کے اہل خانہ کا اداکار کے ساتھ جڑنے کا واحد مقصد اس کی جائیداد ہڑپنا تھا۔

لبنان: تین روزہ قومی سوگ کا آغاز، عالمی امداد بھی جاری

لبنان میں جہاں ایک طرف زبردست دھماکے کی وجوہات کی تفتیش جاری ہے وہیں جمعرات سے تین روزہ قومی سوگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ بیروت میں ہونے والے دھماکے میں 135 افراد ہلاک ہوئے تھے۔لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منگل کے روز ہونے والے بم دھماکے سلسلے میں حکومت نے جس تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ...

عالمی ادارہ صحت نے کہا؛ سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے سے بڑھ رہے ہیں کورونا کے معاملات، نوجوان مریضوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کرونا وائرس سے متاثرہ نوجوانوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق فروری کے آخر سے لے کر جولائی کے وسط تک، کرونا وائرس کا شکار ہونے والے 60 لاکھ ...

جاپانی ماہرین کا کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لئے سوپر کمپیوٹر کے استعمال کا اعلان

کورونا وائرس کی روکتھام کے اقدامات سے متعلق جاپان کے انچارج وزیر نیشی مورا یاسوتوشی نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت، مصنوعی ذہانت اور دیگر ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لاتے ہوئے، انفیکشنز پر قابو پانے کے نئے موثر اقدامات دریافت کرنے میں، رواں ماہ کے آخر تک کامیاب ہو جائے گی۔ جاپانی ...

بیروت میں ہوئے زبردست دھماکہ کی کیا ہے اصل کہانی ؟ 6 سال سے ایک بحری جہاز پر 2750 ٹن دھماکا خیز مواد امونیم نائٹریٹ رکھا ہوا تھا؛ اب تک 135 کی موت

بیروت،06 /اگست (آئی این ایس انڈیا)منگل چار اگست کی سہ پہر ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں بیروت میں بحری جہازوں کے لنگر انداز ہونے کا مقام مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اس کا شمار لبنان کے اہم ترین مقامات میں ہوتا ہے جو ریاستی خزانے میں مالی رقوم پہنچانے کا نمایاں ترین ذریعہ تھا۔ ...