کسانوں کو دہلی آنے سے روکنے کے لئے پولیس نے کی پانی کی بوچھار

Source: S.O. News Service | Published on 26th November 2020, 10:57 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،26؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی کی سرحد پر جو دیکھنے کو مل رہا ہے اس نے احتجاج کر رہے کسانوں کی حالت پر سے پردہ ہٹا دیا ہے۔ کسان دہلی-کرنال ہائیوے اور گوالیر۔آگرہ ہائیوے کی جانب سے دہلی میں احتجاج کرنے کے لئے داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن پولیس نے ان کو روکنے کے لئے واٹر کینن کا استعمال کیا اور ان پر ٹھند کے اس موسم میں پانی کی بوچھار کی۔

واضح رہے ہریانہ حکومت نے سونی پت، پانی پت اور ہلدانا بارڈر پر سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور وہاں پر پولیس کو بڑی تعداد میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ ہائیوے پر کسانوں کو دہلی میں داخلہ سے روکنے کے لئے پتھر اور بیریکیڈ کھڑے کر دیئے گئے ہیں۔ اعلی افسران بھی موقع پر موجود ہیں۔

کسانوں کی تحریک پر ہریانہ کے وزیر انل وج نے کہا ہے کہ تحریک چلانے کا سب کا حق ہے، لیکن احتجاج کرنے والوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سڑک پر چلنے والوں کا بھی حق ہے اس لئے ان کے حق کا بھی خیال کرنا چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بات چیت کے لئے تیار ہے، لیکن احتجاج کر رہے کسانوں کا ان کے بیان سے اور غصہ بڑھ گیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ احتجاج کرنے اس لئے جا رہے ہیں تاکہ ان کے مسائل کیا ہیں ان کو پورا ملک دیکھ سکے اور حکومت اصلاحی اقدام اٹھائے اور حکومت کسان مخالف قانون واپس لے۔

ادھر آگرہ گوالیر قومی شاہراہ پر ایک گھنٹے کے الٹی میٹم کے بعد مظاہرین دوبارہ جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اور میڈھا پاٹکر بھی دھرنے پر بیٹھ گئی ہیں۔ راجستھان، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کی تمام کسان تنظیمیں بھی میدان میں اتر گئی ہیں اور سبھی کسان مخالف قانون کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

آر جے ڈی رہنما شیام رجک کو ملی ترقی، پارٹی نے بنایا قومی جنرل سکریٹری 

بہار حکومت میں سابق وزیر اور آر جے ڈی رہنما شیام رجک کو پارٹی نے ترقی دی ہے۔ شیام رجک جنہیں حال ہی میں آر جے ڈی ریاست کا نائب صدر بنایا گیا تھا ان کو آر جے ڈی ہائی کمان نے پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری کے عہدے پر نامزد کیا ہے۔

کسانوں کی ٹریکٹر ریلی پر سپریم کورٹ کا پھر مداخلت سے انکار؛کہا؛ یہ پولیس کے دائرہ اختیار کا معاملہ ہے

26 جنوری کو ہونے والی کسانوں کی  ٹریکٹر ریلی سے متعلق دہلی پولیس کی درخواست پر سپریم کورٹ نے ایک بار پھر کہا  کہ دہلی پولیس کو ریلی سے متعلق فیصلہ لینے کا اختیار ہے۔ سولیسٹر جنرل  نے جب بحث کا آغاز کیا اور 25 جنوری کو کیس کی سماعت کرنے کو کہا تو  چیف جسٹس نے سولیسٹر جنرل کو بتایا ...