مودی حکومت کے خلاف جنتر منتر پر مزدوروں و کسانوں کا امنڈا سیلاب

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th September 2018, 11:30 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،6ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) ملک کی راجدھانی دہلی چہارشنبہ کے روز مزدور۔کسان ریلی کی وجہ سے لال رنگ میں رنگی ہوئی نظر آئی۔ منڈی ہاؤس سے لے کر جنتر منتر، پارلیمنٹ اسٹریٹ، کناٹ پلیس، اشوکا روڈ، رائے سینا روڈ یعنی سنٹرل دہلی کے تمام اہم مراکز پرآج لاکھوں کی تعداد میں 26 ریاستوں سے آئے کسان۔مزدور، آنگن واڑی کارکن، آشا کارکن، بی ایس این ایل ملازمین، کنسٹرکشن ورکرس، بیڑی مزدور، اسکول ٹیچر، مڈ ڈے میل بنانے والے، کوئلہ مزدور، اسٹیل مزدور، پلانٹیشن مزدور سمیت کسان اور مزدور ہی نظر آ رہے تھے۔ ملک کی الگ الگ زبانوں میں ایک ہی طرح کے نعرے لگ رہے تھے۔ ’نیتی بدلو، نہیں تو جنتا سرکار بدل دے گی‘، ’کارپوریٹ لوٹ پر ٹکی مودی حکومت، گدی چھوڑو گدی چھوڑو‘۔ یہ ریلی دراصل سی پی ایم سے منسلک عوامی تنظیموں کی تھی جس میں اہم کردار سنٹر فار انڈین ٹریڈ یونین (سی آئی اے ڈبلیو یو) نے ادا کیا۔ یہ سارے سی پی ایم سے جڑی عوامی تنظیمیں ہیں۔

اکھل بھارتیہ کسان سبھا (اے آئی کے ایس) کے جنرل سکریٹری حنان مولا نے بتایا کہ ملک کا مزدور، کسان وپیداکارکاشتکاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت ملک کے عوام کے خلاف کام کر رہی ہے، لہٰذا گدی چھوڑدے۔ انھوں نے کہا کہ کسانوں کے دو بڑے مطالبات ہیں۔ پہلا لاگت کی ڈیڑھ گنا تائیدی قیمت اور خرید کی ضمانت دی جائے اور قرض معافی اور کھیتی کرنے والے کو زمین دی جائے۔ زراعتی مزدوروں کا مطالبہ کہ سال میں کم از کم 200 دن کام اور منریگا کے تحت 300 روپے مزدوری دی جائے اور زراعتی مزدوروں کیلئے ایک سنٹرل قانون لایا جائے۔ اس کے علاوہ پبلک سیکٹر کو جس طرح سے پرائیویٹ سیکٹر کو فروخت کیا جا رہا ہے، ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

اس ریلی سے پہلے ملک بھر سے دو کروڑ دستخط جمع کئے گئے اور مختلف طبقوں کو غریب۔مزدور۔کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف متحد کیا گیا۔ بہار کے بھبھوا سے آئی کرن دیوی نے بتایا کہ ’’نتیش حکومت ہو یا مودی حکومت، سب غریبوں پر ظلم کر رہی ہے۔ منریگا کا کام ٹھپ ہے، ملازمت نہیں ہے، مہنگائی سے ہم سب مر رہے ہیں۔ ایسے دیش نہیں چل سکتا۔ حکومت بدلنی پڑے گی۔

‘‘سی آئی ٹی یو کی ہیم لتا نے بتایا کہ ملک بھر میں مزدوروں کی حالت خراب ہے۔ بڑے پیمانے پر ملازمتیں کم کر دی گئی ہیں ۔ مودی حکومت کی مزدور مخالف پالیسیوں نے مزدور سڑک پر اترنے کے لیے مجبورہیں۔ آنگن واڑی فیڈریشن کی اے. آر. سندھو نے بتایا کہ ’’ملک بھر سے آنگن واڑی ورکر یہاں آئی ہیں، کیونکہ وہ سب مزدور ہیں۔ ہمیں حکومت کچھ بھی نہیں سمجھتی۔ حکومتیں سبھی منصوبوں کو ہم سے نافذ کروانے پر آمادہ رہتی ہیں، لیکن سہولتیں نہیں دیتیں۔

‘‘مرکز کی مودی حکومت کو مزدور مخالف، کسان مخالف اور ترقی مخالف قرار دینے میں یہ ریلی بہت حد تک کامیاب نظر آئی۔ خاص طور سے اس میں بیڑی مزدوروں سے لے کر بی ایس این ایل ملازمین اور کوئلہ مزدوروں کا کسانوں و مزدوروں کے ساتھ اترنا ایک الگ قسم کا اشارہ دیتا ہے جو آنے والے وقت میں ملک کی سیاست کی سمت طے کرتا نظر آ رہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ملک میں گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا کے 6387 نئے معاملے، متاثرین کی تعداد 1.50 لاکھ سے متجاوز

ملک میں گزشتہ دو دنوں کے دوران کورونا انفیکشن کے نئے معاملوں میں جزوی کمی آئی اور تقریباً 4000 لوگوں کے صحت مند ہونے سے جہاں تھوڑی راحت ملی ہے، وہیں گزشتہ 24 گھنٹے میں انفیکشن کے 6387 نئے کیس سامنے آنے سے ملک میں اس سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد 1.50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

گجرات کے سورت سے نکلی ٹرین ، بہار کے چھپرا کے بجائے پہنچی کرناٹک کے بنگلورو: مزدورں کا حال بے حال

لاک ڈاؤن کی مدت میں مزدوروں کو ان کے وطن لوٹانے گجرات سے نکلی ایک مزدور ٹرین (شریمک ریل ) بہار پہنچنے کے بجائے کرناٹکا کے بنگلورو پہنچ کر سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ گرچہ یہ ایک مذاق لگتا ہے مگر ہے حقیقت۔ اسی طرح اور ایک خصوصی مزدور ریل گجرات کے سورت سے 1200مزدوروں کو لے کر بہار کے ...

تبلیغی جماعت کے 57 غیر ملکی افراد عدالت سے بری، حکومت ہریانہ کو ان کے ملک بھیجنے کا حکم

  ہریانہ کی ایک عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے سبھی چھ ممالک کے 57 غیرملکی جماعتیوں پرغیرملکی قوانین کے تحت عائد تمام دفعات کو بے بنیاد تسلیم کرتے ہو ئے سبھی جماعتیوں کو بری کردیا اورہریانہ حکومت کو حکم دیا کہ جلد سے جلد سبھی جماعت والوں کو ان کے ملک بھیجنے کا انتظام کرے۔ یہ بات ...

مزدور پیدل نہ جائیں، سب کے لئے مفت ریل سفر کے انتظامات: منیش سسودیا

  دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے تارکین وطن مزدوروں سے پیدل سفر نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دہلی حکومت نے تمام مفت ریل سفروں کا انتظام کیا ہے۔ 7 مئی سے 25 مئی تک ، 2،41،169 افراد کو 196 ٹرینوں کے ذریعے ان کے گھر بھیج دیا گیا ہے۔ بہار میں سب سے زیادہ 1،25،711 افراد ہیں ...

ملک میں پہلی بار 5 ہزار مسلمانوں نے عید کی نماز آن لائن ادا کی

 کورونا وائرس کے سبب جب لوگوں کو مسجد میں جا کر نمازیں پرھنے اورعبادت کرنے پرروک لگی ہوئی ہے اور مسلمان اجتماعی عبادت کے بجائے انفرادی عبادت کرنے پر مجبور ہیں تو ایسی استثنائی صورتحال میں نئی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے