موسم خزاں کی آمد سعودی عرب کے تین شہر گرم ترین قرار

Source: S.O. News Service | Published on 23rd September 2020, 10:36 PM | خلیجی خبریں |

 ریاض،23/ستمبر(آئی این ایس انڈیا)  موسم گرما کے آخری ایام ہیں اور خزاں کی آمد آمد ہے۔ اس کے باوجود سعودی عرب کے بعض علاقے شدید گرمی کی لپیٹ‌ میں‌ ہیں۔

 گذشتہ چوبیس گھںٹوں کے دوران سعودی عرب کے تین شہروں کو گرم ترین قرار دیا گیا جہاں غیرمعمولی درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔

سعودی عرب کے رفحاء شہر میں شدید گرمی ریکارڈ کی گئی جہاں درجہ حرارت 45 اعشاریہ 4 درجے سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ دمام میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر درجہ حرارت 44 اعشاریہ 7 درجے سینٹی گریڈ رہا جب کہ القصیم میں درجہ حرارت 44 اعشاریہ 3 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ رفحا دنیا کے گرم ترین شہروں میں 7 ویں، دمام دسویں اور القصیم 15 ویں‌ نمبر پر رہے۔

القصیم یونیورسٹی میں موسمیات کے استاد ڈاکٹر عبداللہ المسند نے بتایا ٹویٹر پر بتایا کہ موسم خزاں کی آمد کے قریب سعودی عرب کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں‌ نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ چوبیس گھںٹوں کے دوران شمال مشرقی گرد آلود ہوائیں مملکت کے وسطی اور مغربی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں رکھیں‌ گی۔ ان کاکہنا تھا کہ نصف کرہ ارض سردیوں کو الوداع کہہ رہا ہے اور باقی شمالی نصف حصہ گرمیوں کے بعد اب خزاں میں داخل ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 22 ستمبر کو موسم خزان کا پہلا دن قرار دیا جاتا ہے۔ یہ سیزن 90 دن تک جاری رہتا ہے اور 21 دسمبر کو خزاں ختم اور سردیوں کا موسم شرو ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر کے آتے ہی مملکت میں نزلہ زکام جیسے عوارض کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

مسجد الحرام میں 210 دنوں کے بعد نماز جمعہ کی ادائیگی

کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے المسجد الحرام میں 210 دنوں بعد پہلی نماز جمعہ ادا کی گئی۔ جنرل پریزیڈنسی برائے انتطامی امور الحرمین الشریفین نے جمعہ کو علی الصبح مسجد حرام کے 11 دروازے نمازیوں کے استقبال کی خاطر کھول دیئے تاکہ فرزندان توحید عالمی وبا کے جلو میں پہلی نماز ...

مسجد حرام کی صفائی ستھرائی کے لیے چار ہزار مرد و خواتین خدام مقرر

الحرمین الشریفین انتظامی امور کے نگران ادارے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ عمرہ مناسک کی بحالی اور مسجد حرام میں نمازیوں کی تعداد بڑھائے جانے کے بعد حرم شریف اور بیت اللہ میں صفائی کے عملے کی تعداد میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔