تشدد پر کنٹرول میں ناکامی پر3 امریکی شہروں کو وفاقی فنڈز کی بندش کا خطرہ

Source: S.O. News Service | Published on 23rd September 2020, 9:58 PM | عالمی خبریں |

نیویارک،23/ستمبر(آئی این ایس انڈیا) امریکہ کے محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ اگر نیویارک، پورٹ لینڈ اور سیاٹل شہروں کی انتظامیہ نے امن و امان بحال کرنے کے اقدامات نہ کیے تو ان تینوں شہروں کے لیے وفاقی امداد روک دی جائے گی۔سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد محکمہ انصاف کے مطابق ان تین شہروں میں احتجاج کے دوران تشدد اور املاک کو نقصان پہنچنے سے روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے تھے۔

اس صورتِ حال کے حوالے سے اٹارنی جنرل ولیم بر کا کہنا ہے کہ جب ریاستی اور مقامی رہنما قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان کے اہل کاروں کو اپنے فرائض انجام دینے سے روکتے ہیں، تو اس سے عام شہریوں اور پر امن مظاہرین کو خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

محکمہ انصاف کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم لوگوں کو درپیش خطرات کی صورت میں وفاقی ٹیکس سے جمع ہونے والے فنڈز ضائع نہیں کر سکتے۔

ان کے بقول یہ تین شہر اپنی اصلاح کریں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بنیادی ذمہ داریوں کو نبھائیں۔محکمہ انصاف کے اس بیان پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے تینوں شہروں کے میئرز نے اسے سیاسی اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔ایک مشترکہ بیان میں پورٹ لینڈ کے میئر ٹیڈ ویلر، نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو اور سیاٹل کی میئر جینی ڈرکن نے کہا ہے کہ یہ سراسر ایک سیاسی اور غیر آئینی اقدام ہے۔ان کے بقول صدر کانگریس کے شہروں کے لیے منظور کردہ فنڈز کے معاملے پر سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں۔

ہم اپنے شہروں میں تمام برادریوں کے ایک دوسرے کے قریب لا رہے ہیں۔ اپنے بیان میں ان کا کہا تھا کہ ہمارے شہر کرونا وبا سے مقابلہ کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمیں اس وقت گزشتہ صدی میں ہونے والے سب سے بڑے مالی بحران کے بعد بدترین مالی بحران کا سامنا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ فنڈز روکنے جیسے اقدامات کی بات کر کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکامی کسی اور پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ستمبر کے اوائل میں محکمہ انصاف کی جانب سے شہروں سے متعلق جاری ہونے والی فہرست وائٹ ہاؤس کی اس ہدایت کے بعد سامنے آئی جس میں انتظامی امور کے دفتر سے کہا گیا تھا کہ وہ انتشار کا شکار علاقوں کے لیے وفاقی امداد بند یا کم کرنے پر غور کرے گا۔

محکمہ انصاف کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق نیویارک شہر میں جولائی 2019 کے مقابلے میں جولائی 2020 میں فائرنگ کے واقعات میں 177 فی صد اضافہ ہوا۔ اس رجحان کے باوجود شہر نے محکمہ پولیس کے بجٹ میں ایک ارب ڈالر کی کٹوتی کی۔پورٹ لینڈ میں مسلسل تین ماہ تک پر تشدد واقعات ہوتے رہے۔ جب کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں جون اور جولائی 2020 میں فائرنگ کے واقعات میں 140 فی صد اضافہ ہوا۔

ایک نظر اس پر بھی

انتخابی اشتہارات: ٹرمپ اور بائیڈن کی مہمات کیسے مختلف ہیں؟

امریکہ میں ری پبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حریف جو بائیڈن نے فیس بک اور انسٹا گرام پر اشتہارات چلانے کے لیے 100 ملین ڈالر استعمال کیے ہیں۔ یہ رقم تین نومبر کے صدارتی انتخاب کے لیے دونوں جانب سے جون سے اب تک خرچ کی گئی ہے۔