فہیم انصاری کو 12 سال بعد بریلی جیل سے ملی آزادی، سنائی اپنی تکلیف دہ داستان

Source: S.O. News Service | Published on 8th November 2019, 11:35 PM | ملکی خبریں |

بریلی،8؍نومبر (ایس او نیوز؍پریس ریلیز) گزشتہ 6 نومبر کو فہیم انصاری نے آزادی کی سانس اس وقت لی جب تقریباً 12 سال بعد وہ اتر پردیش کی بریلی جیل سے باہر آئے اور پھر جمعرات کوممبئی میں موجود اپنی فیملی کے ساتھ کھانا کھایا۔ 49 سالہ فہیم انصاری نے اپنی آزادی کے بعد دو ایسی خواہشیں ظاہر کیں جو اب کبھی پوری نہیں ہو سکتیں۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اپنی آزادی کے بعد میں دو لوگوں سے ملنا چاہتا تھا، لیکن اب وہ اس دنیا میں نہیں۔آزادی کے بعد مجھے ان سے نہ ملنے کا ہمیشہ افسوس رہے گا۔‘‘

ممبئی دہشت گردانہ حملے میں ملزم بنائے گئے فہیم انصاری کو تو 9 سال پہلے ہی اس معاملہ میں بری کر دیا گیا تھا لیکن انھیں افسوس ہے کہ ایک دوسرے معاملے میں ملزم بنا دیا گیا جس کی وجہ سے ایک طویل عرصہ جیل میں گزارنا پڑا۔ دراصل فہیم انصاری اپنے بھائی کی پرنٹنگ یونٹ میں بطور کیلی گرافر کام کرتے تھے۔ ان پر الزام تھا کہ اس نے ممبئی کے نقشے تیار کیے تھے جس سے اجمل قصاب سمیت 11/26 کے دیگر دہشت گردوں کو مدد ملی تھی۔ مئی 2010 میں اسے 11/26 کیس سے بری کر دیا، لیکن فروری 2008 میں یو پی ایس ٹی ایف کے ذریعہ گرفتار کیے جانے کے سبب اسے جیل میں ہی رہنا پڑا۔ ایس ٹی ایف کا دعویٰ تھا کہ وہ رام پور میں سی آر پی ایف کیمپ پر ہوئے حملوں میں شامل تھا جس میں 7 جوانوں اور ایک عام شہری کی موت ہو گئی تھی۔

رام پور میں سی آر پی ایف کیمپ پر حملہ کے الزام میں فہیم انصاری ایسے پھنسے کہ ان کی آزادی محال ہو گئی۔ انصاری پر فرضی پاکستانی پاسپورٹ، فرضی ہندوستانی ڈرائیونگ لائسنس، ممبئی کے کچھ نقشے اور ایک پستول رکھنے کے الزام میں کیس درج کیا گیا تھا۔ رام پور کی ایک عدالت نے گزشتہ ہفتہ سماعت کے دوران انصاری کو فرضی دستاویز رکھنے کا قصوروار پایا، لیکن حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ایسے میں اسے 10 سال کی سزا سنائی گئی، لیکن 6 نومبر کو اسے آزاد کر دیا گیا کیونکہ وہ پہلے ہی جیل میں 11 سال گزار چکا تھا۔

آزاد ہوا میں سانس لینے کے بعد جب فہیم انصاری ممبئی پہنچے تو اپنے گھر والوں سے مل کر انھیں بے انتہا خوشی ہوئی۔ پھر فہیم انصاری جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے دفتر پہنچے جہاں لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’جیل سے آزاد ہونے کے بعد میں 2 لوگوں سے ملنا چاہتا تھا۔ ان میں ایک وکیل شاہد اعظمی تھے جنھوں نے 11/26 کیس میں میرا دفاع کیا۔ دوسرے اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے تھے جنھوں نے افسروں کو بتایا تھا کہ میں بے گناہ ہوں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ دونوں دہشت گردوں کی گولیوں کا شکار ہو گئے۔‘‘

فہیم انصاری نے لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’یو پی پولس نے مجھے لکھنؤ سے اس وقت گرفتار کیا تھا جب میں دوبئی میں رہنے والے اپنے دوستوں کے لیے کچھ کپڑے خرید رہا تھا۔ ایک ہفتہ بعد میری گرفتاری رام پور سے دکھائی گئی۔ مجھے بالکل بھی نہیں معلوم تھا کہ مجھے گرفتار کیوں کیا گیا۔‘‘ فہیم نے بتایا کہ ’’11/26 حملے سے تقریباً 8 مہینے پہلے ہی میں جیل میں بند تھا۔ ایک دن مجھے اخبار پڑھنے کے لیے ملا جس میں لکھا تھا کہ میں 11/26 دہشت گردانہ حملوں میں شامل تھا۔ اس خبر نے مجھے توڑ کر رکھ دیا۔‘‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’لکھنؤ میں گرفتاری کے بعد مجھے ممبئی لایا گیا اور مہاراشٹر اے ٹی ایس کے حوالے کر دیا گیا۔ انھوں نے مجھے کلین چٹ دے دی تھی۔ یو پی ایس ٹی ایف نے 11/26 حملے سے کافی پہلے مجھے مہاراشٹر اے ٹی ایس کے حوالے کر دیا تھا۔ اس وقت ہیمنت کرکرے اے ٹی ایس چیف تھے۔ انھوں نے یو پی پولس کو بتایا تھا کہ میرے خلاف کچھ نہیں ملا۔ اس کے بعد بھی مجھے آزاد نہیں کیا گیا۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

مودی-شاہ کی قیادت کی وجہ سے ایودھیا پر ایسا فیصلہ آیا، یوگا گرو بابا رام دیو نے نوے فیصد مسلمانوں کے آباء واجداد کو ہندو بتایا

 9 نومبر کو ایودھیا معاملے میں فیصلہ آنے کے بعدجہاں پہلے ہرطرف’’ امن اورکسی کی جیت نہیں ‘‘کے دعوے اوربیانات دیے جارہے تھے،اب حسب ِ توقع اشتعال انگیزبیانات آنے شروع ہوگئے ہیں۔جس سے سوال آتاہے کہ کیااپنے لیڈروں کوزبان قابورکھنے کی نصیحت بھی جملہ تونہیں تھی؟

لکھنؤ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے عاملہ کی میٹنگ، بابری مسجد معاملہ کے فریق اقبال انصاری ایکشن کمیٹی کی میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے

 آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے عاملہ کی میٹنگ اتوار 17؍ نومبر کو دارالعلوم ندوۃ العلماء میں منعقد ہوگی، اس میٹنگ میں ملک بھر سے بورڈ کے ایکٹیو اراکین شامل ہونے کےلیے وہاں پہنچ چکے ہیں صبح ساڑھے گیارہ بجے سے میٹنگ شروع ہوگی۔

کشمیر: خراب موسمی حالات، جوتوں کی قیمتیں آسمان پر

 وادی کشمیر میں وقت سے پہلے ہی موسم کی بے رخی نے جہاں اہلیان وادی کو درپیش مصائب ومسائل کو دو بھر کردیا وہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ جوتے فروشوں نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔

کشمیر میں غیر یقینی صورتحال کا 104 واں دن، ہنوز غیر اعلانیہ ہڑتالوں کا سلسلہ جاری

وادی کشمیر میں ہفتہ کے روز لگاتار 104 ویں دن بھی غیر یقینی صورتحال کے بیچ معمولات زندگی پٹری پر آتے ہوئے نظر آئے تاہم بازار صبح اور شام کے وقت ہی کھلے رہتے ہیں اور سڑکوں پر اکا دکا سومو اور منی گاڑیاں چلتی رہیں لیکن نجی ٹرانسپورٹ کی بھر پور نقل وحمل سے کئی مقامات پر ٹریفک جام ...