سرینگر میں انتخابی جمہوریت کی اپیل کا امتحان

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 15th April 2019, 1:57 AM | ملکی خبریں |

سرینگر:14 /اپریل(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)دو سال پہلے سری نگر لوک سبھا ضمنی انتخاب بحث میں تھا اور 18 اپریل کو 12 ملین سے زائد ووٹر والے اس حلقہ میں جمہوریت کی اپیل کی امتحان ہو گا۔ پی ڈی پی لیڈر طارق حامد کرا کے استعفیٰ کے بعد سرینگر سیٹ کے لئے ضمنی انتخابات کرایا گیا تھا۔ لیکن ضمنی انتخابات میں پرتشدد واقعات ہوئیں اور سب سے کم 7.2 فیصد پولنگ ہوئی۔ علاقہ کے مختلف حصوں میں مظاہرین کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں نو افراد جاں بحق ہو گئے تھے اور فوج کے ایک افسر نے پولنگ کے دن اپنے لوگوں کو پتھراؤ سے بچانے کے لئے ایک انسانی ڈھال کے طور پر ایک بنکر کا استعمال کیا تھا۔ اس سال کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لئے سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں۔ سرینگر لوک سبھا سیٹ میں سرینگر، گاندربل اور بڈگام تین ضلع آتے ہیں۔ تینوں اضلاع میں اضافی سیکورٹی تعینات کئے گئے ہیں۔ یہاں 12,90,318 ووٹر 10 امیدواروں کے سیاسی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ یہاں کے امیدواروں میں نیشنل کانفرنس صدر اور سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ بھی ہیں ،جو چوتھی بار لوک سبھا جانے کی کوشش میں ہے ۔ فاروق کا مقابلہ پیپلز ڈیموکریٹک کانفرنس (پی ڈی پی) کے آغا سید محسن سے ہو رہا ہے، جنہوں نے 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں آزاد امیدوار انتخاب لڑا تھا۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ محسن کے طور پر ’ کمزور‘ امیدوار اتار کر پی ڈی پی نے شاید سرینگر لوک سبھا سیٹ فاروق کو دے دی ہے۔ اگرچہ پی ڈی پی ترجمان کا کہنا ہے کہ محسن کو فی الوقت خارج کرنا قبل از وقت ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے (محسن نے) 2014 کا لوک سبھا الیکشن لڑا تھا اور خاصی تعداد میں ووٹ حاصل کئے تھے۔ وہ ایک اہم شیعہ رہنما اور اسکالر ہیں۔ اس کے علاوہ، انہیں ریاست کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کی حمایت ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

الیکشن کمیشن کا حلف نامہ - گجرات میں راجیہ سبھا انتخابات قانون کے مطابق، کمزور پڑ رہی کانگریس 

گجرات میں راجیہ سبھا انتخابات کو لے کر کانگریس کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے حلف نامہ داخل کیا ہے الیکشن کمیشن نے دو سیٹوں پر الگ الگ انتخابات کرانے کے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا۔

بی ایس این ایل کی حالت خراب؛ ملازمین کو جون کی تنخواہ دینے کے لیے نہیں ہیں رقم

رکاری ٹیلی کام کمپنی بی ایس این ایل نے حکومت کو ایک خط  بھیجا ہے، جس میں کمپنی نے آپریشنز جاری رکھنے میں تقریبا نااہلی ظاہر کی ہے۔کمپنی نے کہا ہے کہ رقم میں  کمی کے سبب کمپنی کے ملازمین کو  جون ماہ کی تنخواہ  تقریبا 850 کروڑ روپے  دے پانا مشکل ہے۔کمپنی پر ابھی قریب 13 ہزار کروڑ ...