ایتھوپیا: تیگرائی کو خودسپردگی کے لئے 72 گھنٹے کا الٹی میٹم

Source: S.O. News Service | Published on 23rd November 2020, 7:03 PM | عالمی خبریں |

لندن ، 23/نومبر (آئی این ایس انڈیا)ایتھوپیائی وزیر اعظم آبے احمد نے شمالی تیگرائی کے علاقائی دارالحکومت می کیلے پر فوج کشی سے قبل علاقائی فورسیز کو خود سپردگی کرنے کے لیے 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ایتھوپیائی وزیر اعظم آبے احمد نے تیگرائی خطے پر فوج کشی سے پہلے خودسپردگی کرنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ تیگرائی کے سامنے اب اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا ہے، دوسری طرف تیگرائی کی فورسز نے جنگ جاری رکھنے اور وفاقی حکومت کو اس کے ہر قدم کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کر دینے کا عہد کیا ہے۔نوبل امن انعام یافتہ ایتھوپیائی وزیر اعظم آبے احمد نے ایک ٹوئٹ کرکے کہاکہ ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ 72 گھنٹے کے اندر پرامن طریقے سے خودسپردگی کردیں اور یہ بات مان لیں کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں رہ گیا ہے۔فوج کے ایک ترجمان نے قومی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اگلا فیصلہ کن مرحلہ ٹینکوں کے ذریعہ میکیلے کا محاصرہ کرنے کا ہے۔ خود کو بچا لیجیے۔ آپ کو ہدایت دی جارہی ہے کہ خود کو جنگجووں سے الگ کرلیجیے، ورنہ اس کے بعد کوئی رحم نہیں کیا جائے گا۔تیگرائی پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) کے رہنما  دیب راتسن گیبرا مائیکل نے ایتھوپیائی فوج کی پیش قدمی کو ہر قیمت پر روکنے کے لیے ’زبردست مقابلہ‘ کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں ان کے ہر قدم کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ٹی پی ایل ایف کی قیادت میں 1991میں ایتھوپیا کی فوجی ڈیرگ حکومت کا تختہ پلٹ دیا گیا تھا۔ 2018 میں آبے کے وزیر اعظم بننے سے پہلے تک اس مشرقی افریقی ملک کے سیاسی منظر نامے پر فوج کا غلبہ تھا۔آبے اور ٹی پی ایل ایف میں کشیدگی اس سال اس وقت پیدا ہوئی جب کورونا وائرس کی وجہ سے قومی انتخابات کو ملتوی کرنے کے اعلان کے باوجود ٹی پی ایل ایف نے اپنے انتخابات منعقد کرائے۔ اس ماہ کے اوائل میں جب ٹی پی ایل ایف پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ اس نے فوج پر حملہ کیا ہے تو کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا۔آبے نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کئی قصبوں کو فضائی بمباری اور زمینی حملوں کا نشانہ بنایا۔ اس تصادم میں اب تک سینکڑوں بلکہ ہزاروں افرادا ہلاک ہوچکے ہیں اور تیس ہزار سے زائد افراد پڑوسی ملک سوڈان میں پناہ لینے کے لیے مجبور ہوگئے ہیں۔افریقن یونین نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ وہ ایتھوپیائی حکومت اور ٹی پی ایل ایف کے درمیان ثالثی کے لیے اپنا خصوصی ایلچی بھیجے گی۔ لیکن وزیر اعظم آبے احمد نے اس اعلان کو'فیک نیوز‘ قرار دیا۔اقوام متحدہ میں سابق امریکی سفیر اور سابق قومی سلامتی مشیر سوزان رائس نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اگر آبے احمد اپنے منصوبے پر عمل کرتے ہیں تو یہ ’جنگی جرائم‘ کے مترادف ہوگا۔ رائس نے اس سلسلے میں ہیومن رائٹس واچ کے محقق لیائٹیٹا بیڈر کا حوالہ دیا ہے۔امریکہ اور اقوام متحدہ نے انسانی تباہی کی جانب بڑھتے ہوئے ایتھوپیا کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے انسانی کوریڈور کھولنے کی اپیل کی ہے تاکہ امدادی ایجنسیوں کی وہاں رسائی ہوسکے اور کہا کہ وہ آنے والے مہینوں میں سوڈان میں آنے والے تقریباً دو لاکھ پناہ گزینوں کی راحت رسانی کی تیاریاں کررہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

روس کی اسرائیل کو شام میں تعاون کی پیش کش، امریکا سے نہ الجھنے کی یقین دہانی

روس نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ شام میں اگر اپنی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ محسوس کرے تو اس کے بارے میں ماسکو کو معلومات فراہم کرے۔ روس شام میں اسرائیل کے لیے خطرہ بننے والے اہداف سے خود نمٹنے کی کوشش کرے گا۔

حوثی ملیشیا کی تیل کی بلیک مارکیٹنگ، صنعا میں پٹرول پمپوں پر لمبی لائنیں

حوثی ملیشیا کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی لوٹ مار اور پٹرولیم مصنوعات کی بلیک مارکیٹ میں فروخت کے نتیجے میں صنعا میں ایندھن کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کےمطابق صنعا میں پٹرول اسٹیشنوں پر ایندھن کے حصول کے لیے گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور لوگوں کو چند ...

ترکی : گولن کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ، مزید 238 گرفتاریوں کے احکامات

ترکی نے جلا وطن مذہبی رہ نما فتح اللہ گولن سے تعلق کے شبہے میں گرفتاری کی مہم کے سلسلے میں 238 افراد کو حراست میں لینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انقرہ حکومت کا موقف ہے کہ 2016ء میں بغاوت کی کوشش کے منصوبے کے پیچھے گولن کا ہاتھ ہے۔