بھٹکل تعلقہ اسپتال میں ضروری سہولتیں تو موجود ہیں مگر خالی عہدوں پر نہیں ہورہا ہے تقرر

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 14th June 2019, 7:12 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 14/جون (ایس او نیوز) جدید قسم کا انٹینسیو کیئر یونٹ (آئی سی یو)، ایمرجنسی علاج کا شعبہ،مریضوں کے لئے عمدہ ’اسپیشل رومس‘ کی سہولت کے ساتھ بھٹکل کے سرکاری اسپتال کو ایک نیا روپ دیا گیا ہے۔لیکن یہاں اگر کوئی چیز نہیں بدلی ہے تو یہاں پر خالی پڑی ہوئی اسامیوں کی بھرتی کا مسئلہ ہے۔ 

 اسپتال کی جدید سہولتوں سے مریضوں کو حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچنا ہے تو پھر یہاں پر خدمات دینے والے عملے کی جو کمی ہے اسے دور کرنا ضروری ہے۔ فی الحال اسپتال کی ایڈمنسٹریٹیو میڈیکل آفیسرڈاکٹر سویتا کامتھ ؛ یہاں پر جتنا اسٹاف  موجودہے ان کے ساتھ بقیہ شعبوں میں خالی جگہوں پر بیرونی ٹھیکے پر کچھ اسامیوں کو متعین کرکے ان سے کام چلارہی ہیں۔

 اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اگر مناسب اور ضروری تعداد میں اسٹاف کا تقرر ہوتا ہے تو سرکاری اسپتالوں میں نجی اسپتالوں جیسی خدمات مریضوں کو  یقینی طور پر فراہم کی جاسکتی ہیں۔حکومت کا یہ ایک اہم ترین منصوبہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں تمام مریضوں کو بہترین علاج و معالجے کی سہولت فراہم کی جائے۔بھٹکل سرکاری اسپتال میں اس پالیسی پر عمل کرنا چاہیں بھی تو یہ ممکن نہیں ہے اس لئے کہ اگرحکومت کی طرف سے اسپتال کے لئے درکار عملہ کا ہی تقرر نہیں کیا جائے گا تو پھر منصوبے کے تحت مریضوں کو مکمل خدمات کیسے فراہم کی جاسکیں گی۔

 بھٹکل سرکاری اسپتال کی حالت یہ ہے کہ یہاں 86عہدوں کومنظوری ملی ہوئی ہے، مگر ان میں سے 62 اسامیاں ابھی تک خالی پڑی ہوئی ہیں۔ ایسی صورت میں موجودہ اسٹاف کس حد تک اور کتنی خدمات انجام دے سکے گا؟ عملے سے متعلق کوئی  بھی فرد ہمیشہ 24گھنٹے خدمات انجام دینے کے قابل نہیں رہ سکتا۔ گروپ ڈی کے ملازمین کی غیر موجودگی میں وارڈ بوائے، آیا، سویپر، اٹینڈرکی ذمہ داریاں کون انجام دے گا؟

 بھٹکل سرکاری اسپتال کا درجہ جس دن سے بڑھایا گیا ہے تب سے ایک چیف میڈیکل آفیسر کا عہدہ خالی پڑا ہے۔اس عہدے پر فائز ہونے والے کا رتبہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) کے برابر ہوتا ہے، اور پورے اسپتال کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری چیف میڈیکل آفیسر کے سر پر ہوتی ہے۔سینئر میڈیکل آفیسر کی دو اسامیاں بھی خالی پڑی ہیں۔بچوں کے ماہر، امراض جِلد کے ماہر، سرجن، دانتوں کے ماہر ڈاکٹروں کے علاوہ معاون ایکزیکٹیو آفیسر، نرسنگ سپرنٹنڈنٹ، درجہ اول اور دوم کے معاونین، اسٹاف نرسس، سینئر اور جونیئر فارماسسٹ،جونیر لیاب ٹیکنی شیئن،ایکسرے ٹیکنی شیئن،اٹینڈرس، وارڈ بوائز جیسے عہدے خالی ہیں۔جس کی وجہ سے سرکاری اسپتال میں سہولتیں ہونے کے باوجود مریضوں کو پوری طرح فائدہ پہنچانا ممکن نہیں ہورہا ہے۔

 ایک زمانہ تھا کہ عوام سرکاری اسپتال کے نام سے ہی خوف کھاتے تھے، لیکن موجود ہ حالات میں لوگ مانتے ہیں کہ سرکاری اسپتال کسی نجی اسپتال سے کم نہیں ہے۔بڑے اورکشادہ وارڈس، عطیہ دہندگان کی جانب سے تعمیر کیے گئے خصوصی کمرے،اسپیشل واڈس، جدید سہولتوں والا ایمرجنسی علاج کا شعبہ، خدمات فراہم کرنے کا جذبہ رکھنے والے ڈاکٹرس وغیرہ کی موجودگی مریضوں کوسرکاری اسپتال کی طرف راغب کرنے کا سبب بن گئی ہے۔ اب اگر خالی پڑی ہوئی اسامیوں کو پُر کیا جاتا ہے تو اس سے عوام کو بہت ہی زیادہ فائدہ پہنچے گا۔

ایڈمنسٹریٹیو میڈیکل آفیسر کے طورپر ڈاکٹر سویتا کامتھ نے جب سے چارج سنبھالا ہے، انہوں نے اسپتال میں ترقی اور جدید کاری کے کئی اقدامات کیے ہیں۔جس میں مریضوں کے استفادے کے لئے آئی سی یو، مرد اور خواتین کے لئے الگ الگ کمروں کا انتظام، ایمرجنسی علاج کی الگ سے سہولت کے علاوہ حادثات ہونے کی صورت میں فوری طور پر طبی امداد پہنچانے کا انتظام وغیر ہ ان کے اقدامات میں شامل ہے۔اس سے اسپتال میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

 بھٹکل سرکاری اسپتال کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ ہر سال برسات کے موسم میں اس کی چھت ٹپکتی تھی۔ امسال مسرس انفوسس کے تعاون سے لاکھوں روپے کے خرچ پر اسپتال کے چھت پر نئے شیٹس ڈالنے کا کام کیا جارہا ہے۔مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر بھٹکل کے عوام حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ اس اسپتال میں جتنی اسامیوں کا تقرر التواء میں پڑا ہوا ہے، اس میں نصف تعداد کے برابر بھی اگر تقرر کیاجاتا ہے تو یہاں کے عوام کے لئے بہت ہی فائدہ مند ہوگا۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل کے قریب شیرور میں لاری کی ٹکر سے راہ گیر کی موت

پڑوسی علاقہ شیرور میں ہوئے ایک سڑک حادثہ میں ایک راہ گیر کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت 85 سالہ تمپا اچار کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ حادثہ سنیچر کو اُس وقت پیش آیا جب عمر رسیدہ شخص تمپا آچار  بارش کی وجہ سے ہاتھ میںؓ چھتری تھامے  نیشنل ہائی وے کو کراس  کررہا تھا کہ ...

جنوری 19 کو ہوں گےانجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے انتخابات؛ اسحاق شاہ بندری الیکشن کمشنر منتخب

قومی تعلیمی ادارہ انجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے عام انتخابات اگلے سال 19 جنوری کو ہوں گے جس کے لئے آج سنیچر کو  ہوئی انتظامیہ میٹنگ میں  الیکشن کمشنر کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔  اس بات کی تصدیق انجمن کے جنرل سکریٹری جناب صدیق اسماعیل نے کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ  آج کی میٹنگ میں ...

پتورکے ویویکا نندا کالج میں گینگ ریپ کی واردات کے بعد طلبہ کے لئے سخت قوانین کا نفاذ۔ کلاسس معطل۔ طلبہ کے اندر اضطراب 

گزشتہ دنوں  اپنی ہم جماعت طالبہ کے ساتھ  کچھ طلبہ کی جانب سے کیے گئے گینگ ریپ کی وجہ سے سرخیوں میں آنے والے قریبی شہر پتور  کے مشہور ویویکانندا کالج میں طلبہ کے لئے نئے قوانین اور ضابطے وضع کیے گئے ہیں، جن کی پابندی کا عہد کیے بغیر کسی بھی طالب علم کوکلاس میں داخل ہونے کی اجازت ...

بھٹکل تحصیلدار آفس میں بارش کے نقصانات  سے بچنے امدادی سنٹر کی شروعات

بھٹکل تعلقہ بھر میں بہتر بارش ہورہی ہے، اس کےساتھ ساتھ موسلا دھار بارش کے نتیجےمیں اچانک کوئی حادثات بھی پیش آتے ہیں۔ ان حادثاتی مواقع پر عوام کوفوری امداد و راحت پہنچا کر  نقصانات سے بچانے کے لئے بھٹکل تحصیلدار دفتر میں امدادی مرکز (ہیلپ سنٹر) کی شروعات کی گئی ہے۔

بھٹکل میں موسلادھار بارش کاسلسلہ جاری، حنیف آباد کی سڑک تالاب میں تبدیل؛ کئی مکانوں میں پانی داخل ہونے کی شکایتوں کے بعدتحصیلدار کا دورہ

گزشتہ دو دنوں سے برس رہی بارش کے نتیجےمیں تعلقہ کے ہیبلے گرام پنچایت حدود کے حنیف آباد کی سڑک تالاب نما کی شکل اختیارکرنےکے علاوہ سڑک کا پانی پاس پڑوس کے گھروں میں پانی گھسنے سے عوام پریشانی میں مبتلا دیکھے گئے۔

اترکنڑا ضلع پنچایت کو 5.97کروڑروپئے کی امداد : آبادی اور جغرافیائی وسعت کے مطابق امداد کی منظوری کا فیصلہ

فورتھ فائنانس کمیشن کی سفارشات کے تحت سال 2019-2020کے لئے ضلع پنچایتوں کی امداد میں اضافہ کیاگیا ہے۔ جس کےمطابق ریاستی حکومت نے بیلگام ضلع کو 8کروڑرو پئے منظور ہوئے ہیں تو اترکنڑا ضلع کے لئے 5.74کروڑ روپئے کی امداد منظور کی ہے۔

کرناٹک : استعفیٰ دینے والوں کی فہرست میں یلاپور رکن اسمبلی ہیبار بھی شامل۔کیاوزارت کے لالچ میں چل پڑے آنند اسنوٹیکر کے راستے پر؟

ریاست کرناٹک  میں جو سیاسی طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اور اب تک کانگریس، جے ڈی ایس مخلوط حکومت کے تقریباً 13 اراکین اسمبلی اپنا استعفیٰ پیش کرچکے ہیں اس سے مخلوط حکومت پر کڑا وقت آن پڑا ہے اور قوی امکانا ت اسی بات کے دکھائی دے رہے ہیں کہ دونوں پارٹیوں کے سینئر قائدین کی جان توڑ کوشش ...

بھٹکل میں 110 کے وی اسٹیشن کے قیام سے ہی بجلی کا مسئلہ حل ہونے کی توقع؛ کیا ہیسکام کو عوامی تعاون ملے گا ؟

بھٹکل میں رمضان کے آخری دنوں میں بجلی کی کٹوتی سے جو پریشانیاں ہورہی تھی، سمجھا جارہا تھا کہ  عین عید کے  دن  بعض نوجوانوں کے  احتجاج کے بعد  اُس میں کمی واقع ہوگی اور مسئلہ حل ہوجائے گا، مگر  عید الفطر کے بعد بھی  بجلی کی کٹوتی یا انکھ مچولیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور عوام ...

آر ایس ایس کی طرح کوئی مسلم تنظیم کیوں نہیں؟ از: ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

مسٹر نریندر مودی کی تاریخ ساز کامیابی پر بحث جاری ہے۔ کامیابی کا سب کو یقین تھا مگر اتنی بھاری اکثریت سے وہ دوبارہ برسر اقتدار آئیں گے اس کا شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ دنیا چڑھتے سورج کی پجاری ہے۔ کل ٹائم میگزین نے ٹائٹل اسٹوری مودی پر دی تھی جس کی سرخی تھی ”India’s Divider in Chief“۔

خود کا حلق سوکھ رہا ہے، مگر دوسروں کو پانی فراہم کرنے میں مصروف ہیں بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے نوجوان؛ ایسے تمام نوجوانوں کو سلام !!

ایک طرف شدت کی گرمی اور دوسری طرف رمضان کا مبارک مہینہ  ۔ حلق سوکھ رہا ہے، دوپہر ہونے تک ہاتھ پیر ڈھیلے پڑجاتے ہیں،    لیکن ان   نوجوانوں کی طرف دیکھئے، جو صبح سے لے کر شام تک مسلسل شہر کے مختلف علاقوں میں پہنچ کر گھر گھر پانی سپلائی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں  نہ تھکن کا ...

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...