یوگی حکومت میں 119 پولیس انکاؤنٹر۔ 74کی جانچ میں پولیس کو کلین چٹ: رپورٹ

Source: S.O. News Service | Published on 12th July 2020, 11:19 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،12؍جولائی(ایس او نیوز؍دی وائر) اتر پردیش حکومت سپریم کورٹ کی 2014 کے گائیڈ لائنزکے مطابق گینگسٹر وکاس دوبے انکاؤنٹر کی جانچ کرے گی۔انڈین ایکسپریس نے اپنی ایک رپورٹ میں دستاویزوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ مارچ 2017 میں یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے وکاس دوبے 119واں ملزم ہے، جو پولیس انکاؤنٹر میں مارا گیا ہے۔ان پولیس انکاؤنٹرمیں سے 74 معاملوں کی مجسٹریٹ جانچ تک پوری ہو گئی ہے، جس میں پولیس کو کلین چٹ مل چکی ہے۔ 61 معاملوں میں پولیس کلوز رپورٹ تک دائر کر چکی ہے، جس کو عدالتوں نے بھی قبول کر لیا ہے۔ریکارڈ سے پتہ چلا ہے کہ پولیس نے اب تک 6145 آپریشن کیے ہیں، جن میں سے 119 ملزمین کی موت ہوئی ہے اور 2258 ملزم زخمی ہوئے ہیں۔ان آپریشن میں 13 پولیس اہلکاروں کی موت ہوئی ہے، جس میں پچھلے ہفتہ کانپور میں مارے گئے8 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔کل ملاکر 885 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طے قانونی ضابطہ کے باوجود انکاؤنٹر کلنگ میں ضابطوں کی خلاف ورزی جاری ہے۔ پچھلے سال دسمبر میں سپریم کورٹ نے حیدرآباد میں 26 سالہ ڈاکٹر کیگینگ ریپ اور قتل میں ملزم چار لوگوں کی انکاؤنٹر میں موت کے معاملے میں سابق جج وی این سرپرکر کی قیادت میں آزادانہ جانچ کا آرڈر دیا تھا۔ایسا کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن اور تلنگانہ ہائی کورٹ کے سامنے معاملے کی شنوائی پر روک لگا دی تھی۔اس وقت تلنگانہ پولیس نے بھی کہا تھا کہ ملزم پولیس اہلکاروں سے ہتھیار چھین کر بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے، اس وجہ سے انہیں گولی ماری گئی۔ اس واقعہ کے لگ بھگ7 مہینے بعد بھی جانچ جاری ہے۔سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ہوئے ان کاؤنٹر معاملوں میں دخل دیتے ہوئے جنوری 2019 میں اسے بہت ہی سنگین معاملہ بتایا تھا۔پیپلز یونین فار سیول لبرٹیز نے 1000 سے زیادہ انکاؤنٹر اور ان میں 50 سے زیادہ لوگوں کی موت کے معاملے میں سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔اس معاملے پر جولائی 2018 سے فروری 2019 کے بیچ چار بارشنوائی ہوئی، لیکن تب سے اس کو لسٹ نہیں کیا گیا ہے۔نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے ان انکاؤنٹر میں ہوئی اموات کو لے کر2017 سے اب تک اتر پردیش حکومت کو تین نوٹس جاری کی ہیں اور ریاستی حکومت نے اپنا دفاع کرتے ہوئے ان سبھی نوٹس کا ایک ہی جواب بھیجا ہے۔پچھلے سال مارچ کے مہینے میں بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کو پھٹکار لگائی تھی، کیونکہ مہاراشٹر حکومت نے ایک فر ضی انکاؤنٹر معاملے میں 2013 میں سیشن کورٹ کے ذریعے11 مجرم کو سزا سنائے جانے کے فیصلے کو رد کر دیا تھا۔

معلوم ہو کہ دو جولائی کی دیر رات اتر پردیش میں کانپور کے چوبیپور تھانہ حلقہ کے بکرو گاؤں میں پولیس کی ایک ٹیم گینگسٹر وکاس دوبے کو پکڑنے گئی تھی، جب وکاس اور اس کے ساتھیوں نے پولیس پر حملہ کر دیا تھا۔ اس انکاؤنٹر میں ڈپٹی ایس پی سمیت آٹھ پولیس اہلکاروں کی موت ہو گئی تھی۔

اور دوبے فرار ہو گیا تھا۔وکاس دوبے کو 9 جولائی کو مدھیہ پردیش کے اجین سے گرفتار کر کے اتر پردیش کی اسپیشل ٹاسک فورس (یوپی ایس ٹی ایف) اپنے ساتھ کانپور لا رہی تھی کہ پولیس ٹیم کی ایک گاڑی پلٹ گئی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس دوران وکاس دوبے نے بھاگنے کی کوشش کی تو پولیس کو گولی چلانی پڑی۔

ایک نظر اس پر بھی

”دہلی کا فساد بدلے کی کارروائی تھی۔ پولیس نے ہمیں کھلی چھوٹ دے رکھی تھی“۔فسادات میں شامل ایک ہندوتوا وادی نوجوان کے تاثرات

دہلی فسادات کے بعد پولیس کی طرف سے ایک طرف صرف مسلمانوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ سی اے اے مخالف احتجاج میں شامل مسلم نوجوانوں اور مسلم قیادت کے اہم ستونوں پر قانون کا شکنجہ کسا جارہا ہے، جس پر خود عدالت کی جانب سے منفی تبصرہ بھی سامنے آ چکا ہے۔

کورونا کے خلاف لڑائی میں بہار حکومت سب سے پیچھے: یشونت سنہا

سابق مرکزی وزیر خزانہ یشونت سنہا نے کورونا وبا کے خلاف لڑائی میں حکومت بہار کو پھسڈی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مناسب وقت ملنے کے باوجود بھی حکومت اس سنگین صورت حال میں لوگوں کے لئے معقول انتظام کرنے میں ناکام رہی ہے۔

مدھیہ پردیش: کورونا سے کل 886 افراد ہلاک، 921 نئے معاملے

مدھیہ پردیش میں کورونا وائرس کووڈ۔19 کے انفیکشن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور 921 نئے معاملے سامنے آنے کے بعد ان کی مجموعی تعداد بڑھ کر 33535 ہوگئی ہے۔ ان میں سے 23550 صحتیاب ہوچکے ہیں۔ سرگرم معاملوں کی تعداد 9099 ہے۔

ملک کے وزیرداخلہ کے بعد اب کرناٹک کے وزیراعلیٰ کی کورونا رپورٹ بھی نکلی پوزیٹیو؛ کرناٹک میں آج بھی کورونا کے معاملات پانچ ہزار سے زائد

کرناٹک کے وزیراعلیٰ بی ایس یڈی یورپا نے ٹویٹ کرتے ہوئے خبر دی ہے کہ اُن کی کوویڈ۔19 رپورٹ آج اتوار کو  پوزیٹیو پائی گئی ہے۔ رات قریب 11:30 بجے ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ویسے تو وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں لیکن ڈاکٹروں کی ہدایت پر   احتیاطاً   اسپتال میں  ایڈمٹ ہوگئے ہیں۔