خواب وخیال میں بھی نہیں تھا کہ لوک سبھا انتخابات کے نتائج کانگریس کے حق میں اتنے مایوس کن ہوں گے:دنیش گنڈو راؤ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 27th May 2019, 10:45 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،27؍مئی (ایس او نیوز) لوک سبھا انتخابات میں کانگریس پارٹی کی شکست کی ذمہ داری میں اپنے سر لیتا ہوں۔ میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ ہم ریاست میں صرف ایک سیٹ پرکامیابی حاصل کریں گے۔ ایسے نتائج کاسان و گمان میں بھی احساس نہیں ہوا تھا۔ انتہائی مایوس نتائج پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کے پی سی سی کے صدر دنیش گنڈو راؤ نے مذکورہ باتیں کہیں۔ بروز ہفتہ کو ئنس روڈ پر واقع کے پی سی سی دفتر میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس پارٹی کی کراری شکست کی ذمہ داری بطور کے پی سی سی صدر مجھے اخلاقی طور پر لینا ہوگا۔ سیاسی میدان میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ جب ہمارا رخ شکست کی طرف ہو تو ہم کو پوری ہمت و ذمہ داری کے ساتھ سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے نتائج آنے کے بعد کئی مسائل سے متعلق بات چیت کی گئی ہے۔ اس الیکشن کا رزلٹ ہماری تشہیری طریقہ کار سمیت شکست کیلئے دیگر وجوہات ہیں۔ ہماری رپورٹ اے آئی سی سی کے صدر کو پہنچائیں گے۔ بعد ازاں راہل گاندھی کے فیصلہ کے مطابق آئندہ اقدام کریں گے۔ چندہ ماہ قبل ہوئے ضمنی انتخابات میں بلاری لوک سبھا حلقہ،رام نگر اورجمکھنڈی اسمبلی حلقوں میں کانگریس کی جیت ہوئی تھی۔ لیکن لوک سبھا انتخابات میں نتائج مختلف ہوگئے۔ گزشتہ 5برسوں کے دوران کارنامہ انجام نہیں دیا۔ عوام سے کئے گئے وعدے وفا نہیں ہوئے۔ معاسی و اقتصادی حالت میں سدھار،بے روز گار ی اور کسانوں کے مسائل سمیت دیگر بہت سارے مسائل حل کرنے میں مودی حکومت ناکام رہی ہے۔ اس کے باوجودعوام نے مودی کو ایک اور موقع دینے کافیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے نتائج کامنفی اثر مخلوط حکومت پر پڑنے والا نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ کمار سوامی اور کو آرڈی نیشن کمیٹی کے صدر سدارامیا دونوں نے کل ملاقات کی ہے۔ اورحکومت کومزید متاثر کن طور پر آگے چلانے کے سلسلہ میں بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 29مئی کو کانگریس لجس لیٹر س پارٹی (سی ایل پی) اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس میں کے پی سی سی کی کار گزار کمیٹی کے اراکین حصہ لیں گے۔ مخلوط حکومت کو کس طرح کام کرنا ہوگا۔ کس طرح کا پروگرام ترتیب دینا ہوگا اورپارٹی کی مضبوطی کیلئے بلاک اور ضلع سطح پر کیا کچھ کرنا ہے۔اس بارے میں تفصیلی طور پر تبادلہ خیال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چند مسائل ایسے بھی ہوتے ہیں جو کھلے عام بیان نہیں کئے جاسکتے۔ میرے لئے اقتدار اہم نہیں۔ جب وزیر تھا پارٹی کی تنظیم کاری کیلئے وزارت سے استعفیٰ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے لئے ملک بھر میں ایک بڑا چیلنج درپیش ہے۔ اس کا سامنا کرنے کیلئے ہم کو مزید مضبوطی، یکجہتی اور متحدہ طو رپر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس، جے ڈی ایس اتحاد کے ذریعہ انتخابات کا سامنا کرنے کے باوجود توقع کے مطابق نتائج نہیں آئے۔ یہ ہمارے بیداری کی گھنٹی ہے۔ ہمارے اندر موجود نقائص کو دور کرنا ہوگا۔ سدارامیا حکومت کی ریڑھ کی ہڈی بن کرر ہیں گے۔ اور کمار سوامی سے مزید قوت و توانائی کے ساتھ حکومت چلانے کی گنڈو راؤ نے امید ظاہر کی۔

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹک کے 17 نااہل ایم ایل اے ایس کی عرضی، ایک جج نے خود کو سماعت سے کیا الگ، معاملہ سی جے آئی کے پاس بھیجا گیا،معاملے کی اگلی سماعت 23 ستمبر کو ہوگی

کرناٹک کے 17 نااہل ممبران اسمبلی کی عرضی پر سماعت سے سپریم کورٹ کے ایک جج نے خود کو الگ کر لیا۔جسٹس ایم ایم شانتناگودر نے خود کو الگ کر لیا۔اب معاملے کو سی جے آئی رنجن گوگوئی کے پاس بھیجا گیا ہے۔

سولیا: پہاڑی مہم جو ٹیم کا ایک رکن ہوگیا لاپتہ۔قریبی جنگلات میں جاری ہے تلاشی مہم 

بنگلورو کی ایک کمپنی کے ملازمین کی ٹیم سبرامنیا میں واقع پہاڑی ’کمارا پروتا‘ کو سر کرنے کی مہم پر نکلی تھی۔ لیکن واپسی کے وقت ٹیم کا ایک رکن جنگلات میں اچانک لاپتہ ہوگیا ہے، جس کی شناخت سنتوش (25سال) کے طور پر کی گئی ہے۔

سیلاب متاثرین سے وزیر اعظم کو کوئی ہمدردی نہیں منڈیا میں منعقدہ پرتیبھا پرسکار کے جلسہ سے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کا خطاب

ملک کے وزیر اعظم کو سیلاب متاثرین سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ پچھلے ایک سو سال سے کبھی نہ دیکھا گیا سیلاب ریاست میں آیا ہے اور ہزاروں افراد کی زندگی تباہ ہوچکی ہے۔