مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے والوں کی بھاری اکثریت کے ساتھ جیت

Source: S.O. News Service | Published on 25th May 2019, 3:14 PM | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل25؍مئی (ایس او نیوز) مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ اشتعال انگیز بیانات دینے والوں کو اس مرتبہ لوک سبھا انتخابات میں بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اترکنڑا لوک سبھا حلقے کے بی جے پی اُمیدوار اننت کمار ہیگڈے جنہوں نے کہا تھا کہ جب تک اسلام رہے گا دہشت گردی رہے گی،اسی طرح انہوں نے  دستور کی تبدیلی کے تعلق سے بھی بیان دیا تھا۔ان کو اس بار پورے کرناٹک میں سب سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے جیت حاصل ہوئی ہے۔

پڑوسی  ضلع  اڈپی۔چکمگلور لوک سبھا کی بی جے پی اُمیدوار شوبھا کرندلاجےنے بھی 3,69,317/ ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی، جو  ہمیشہ متنازعہ بیانات کےذریعے سُرخیوں میں رہتی رہی ہیں۔  بنگلور ساؤتھ حلقے کے بی جے پی امیدوارتیجسوی سوریہ نے بھی اس بار  3,31,192/ ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔

جملہ 28/ لوک سبھا حلقوں سے کامیاب اراکین پارلیمان میں کانگریس کے واحد رکن پارلیمان کی حیثیت سے بنگلور رورل لوک سبھا حلقے سے ڈی کے سریش نے کامیابی حاصل کی ہے اور ان کا ریکارڈ یہ ہے کہ وہ ریاست میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں۔ جملہ 8,78,258/ووٹ لے کر ان کے قریبی حریف اشوتھ نارائن گوڈا کو 206870/ ووٹوں کے فرق سے شکست دی ہے۔ ریاست سے پہلی مرتبہ لوک سبھا کے لئے منتخب ہونے والوں میں بنگلور ساؤتھ حلقے کے تیجسوی سوریہ، کولار ایس سی مختص حلقے کے ایس منی سوامی،ہاسن لوک سبھا حلقے کے جے ڈی ایس امیدوار پرجوال ریونا اور منڈیا لوک سبھا حلقے کی آزاد اُمیدوار سمالتا شامل ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو کی خواتین اب بھی ”گلابی سارتھی“ سے واقف نہیں ہیں

بنگلورو میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے اسی سال جون کے مہینہ میں خواتین کے تحفظ کے پیش نظر اور ان پر کی جانے والے کسی طرح کے ظلم یا ہراسانی سے متعلق شکایت درج کرانے اور فوری اس کے ازالہ کے لئے 25 خصوصی سواریاں جاری کی تھی جنہیں ”گلابی سارتھی“ کا نام دیا گیا،

بی ایم ٹی سی کے رعایتی بس پاس کے اجراء کی کارروائی اب بھی جاری مگر کارپوریشن نے اب تک 38,000 درخواستیں مسترد کی ہے

بنگلور میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے طلباء کی طرف سے رعایتی بس پاس حاصل کرنے کے لئے داخل کردہ کل 38,224 درخواستوں کو اب تک رد کر دیا ہے اور اس کے لئے یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے تعلیمی اداروں کی طرف سے ان طلباء کی تفصیلات مناسب انداز میں فراہم نہیں کی گئی ہیں۔