کرناٹکا میں ضمنی انتخابات کے لئے کل ہوگا انتخابی مہم کا اختتام

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 16th May 2019, 8:10 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو۔16/مئی (ایس او  نیوز) ریاست کے دو اسمبلی حلقوں کندگول اور چنچولی کے ضمنی انتخابات کی انتخابی مہم جو اب عروج پر ہے کل شام ختم ہوجائے گی۔ ان سیٹوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لئے کانگریس ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے تو دوسری طرف کانگریس سے دونوں سیٹیں چھین کر ریاست کے اقتدار پرقبضہ کرنے کے لئے اپنے موقف کو مضبوط کرنے کے لئے بی  جے پی کوشاں ہے۔

مخلوط حکومت کے لئے ضمنی انتخابات میں کامیابی ریاست کے اقتدار پر اس کی پکڑ کو اور مضبوط کرنے کا سبب بنے گی، تو دوسری طرف اگر ناکامی ہاتھ آئی تو کمار سوامی حکومت کے لئے پریشانیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین کواس بات پر اتفاق ہے کہ 23 مئی کو جب لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ان دونوں حلقوں کے نتائج ظاہر ہوں گے تو ریاست میں نئی سیاسی صف بندیوں کی شروعات ہوسکتی ہے۔

کانگریس اور جے ڈی ایس قیادت کا ماننا ہے کہ مرکز میں اگر اقتدار پر کانگریس یا کوئی سیکولر حکومت آتی ہے تو ریاست میں مخلوط حکومت کے لئے کوئی بڑی پریشانی اٹھانی نہیں پڑے گی۔لیکن مودی اگر مرکز میں دوبارہ برسر اقتدار آگئے تو ریاست میں مخلوط حکومت کا مستقبل غیر مستحکم مانا جارہاہے، کیونکہ مرکزی حکومت کی ایماء پر پچھلے ایک سال کے دوران ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا نے کمار سوامی حکومت کو گرانے کی پانچ مرتبہ کوشش کی اور پانچوں بار آپریشن کمل کو منہ کی کھانی پڑی۔ کانگریس اور جے ڈی ایس میں اقتدار میں حصے داری ملنے سے ناراض بیشتر اراکین اسمبلی بھی لوک سبھاانتخابات کے نتائج کا انتظار کررہے ہیں تاکہ مرکز میں قائم ہونے والی حکومت کی بنیاد پر وہ اپنے سیاسی مستقبل کافیصلہ کرسکیں۔ جہاں تک ضمنی انتخابات کا سوال ہے کندگول حلقے سے کانگریس نے آنجہانی وزیر سی ایس شیولی کی بیوہ سشما شیولی کو میدان میں اتارا ہے، اس حلقے میں کانگریس کو ہمدردی کی لہر کا فائدہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہاہے، البتہ چنچولی اسمبلی حلقہ جہاں سے باغی کانگریس رکن اسمبلی امیش جادھو نے استعفیٰ دے کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلیا ور کلبرگی لوک سبھا حلقے سے سینئر کانگریس رہنما ملیکارجن کھرگے کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں اترے ہیں۔ ان کی جگہ پر بی جے پی نے اویناش جادھو کو میدان میں اتارا ہے جو امیش جادھو کے فرزند ہیں۔

وزیراعلیٰ کمارسوامی، سابق وزیراعلیٰ سدرامیا، وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار اور دیگر کانگریس لیڈروں نے دونوں حلقوں میں کانگریس امیدواروں کی کامیابی کے لئے زور دار انتخابی مہم چلائی، کل شام پانچ بجے تک ان حلقوں میں انتخابی مہم اختتام پذیر ہوجائے گی۔ ان انتخابات کے بارے میں تفصیلات پیش کرتے ہوئے ریاست کے چیف الیکٹورل افسر سنجیو کمار نے بتایا کہ چنچولی حلقے میں کانگریس بی جے پی اور بی ایس پی سمیت 17امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ کندگول اسمبلی حلقے میں کانگریس اور بی جے پی سمیت 8 امیدوار میدان میں ہیں۔ چنچولی حلقے میں مجموعی ووٹروں کی تعداد 1.93لاکھ ہے۔جبکہ کند گول میں 1.89لاکھ ووٹروں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع ملے گا۔

کند گول میں 214 پولنگ بوتھس ہوں گے اور چنچولی میں 241پولنگ اسٹیشن رہیں گے دونوں حلقوں میں خواتین کے لئے مختص دو دو سکھی پولنگ بوتھس اور معذورین کے لئے مخصوص ایک ایک پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں۔ کندگول میں انتخابات کے لئے 446 افراد پر مشتمل عملہ متعین ہے۔جبکہ چنچولی میں 570 افراد پر مشتمل عملہ تعینات رہے گا۔انتخابی دھاندلیوں پر نظر رکھنے کے لئے جابجا خصوصی اسکواڈ تعینات کرنے کے ساتھ کندگول میں 25 اور چنچولی میں 60حساس پولنگ اسٹیشنوں پر افزود سیکورٹی انتظامات کئے جارہے ہیں۔ ان دونوں حلقوں میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی 23مئی کو لوک انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کے ساتھ کی جائے گی۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو میں موسلادھار بارش سے ٹرافک جام موٹر گاڑیوں پر 25سے زائد درخت گرنے سے شدید نقصان

ہفتہ کی رات تیز ہواؤں کے ساتھ ہوئی موسلادھار بارش سے 25سے زائد درخت کئی گاڑیوں پر گرنے سے کافی نقصان پہنچاہے- ہفتہ کی شام 5بجے شروع ہوئی بارش 6:30بجے شہر کے اہم علاقوں میں کافی تیز ہواؤں کے ساتھ جاری رہی-

بنگلورو سنٹرل حلقہ: بی جے پی امیدوار پی سی موہن کو گاندھی نگر میں اکثریت

کانگریس کمیٹی کے صدر دنیش گنڈو راؤ کے اپنے حلقہ گاندھی نگر میں کانگریس کو اکثریت حاصل ہونے کی بجائے یہاں بی جے پی کو اکثریت ملی ہے- اس حلقہ میں بی جے پی امیدوار پی سی موہن کو 24,723 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی ہے-

خواب وخیال میں بھی نہیں تھا کہ لوک سبھا انتخابات کے نتائج کانگریس کے حق میں اتنے مایوس کن ہوں گے:دنیش گنڈو راؤ

لوک سبھا انتخابات میں کانگریس پارٹی کی شکست کی ذمہ داری میں اپنے سر لیتا ہوں۔ میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ ہم ریاست میں صرف ایک سیٹ پرکامیابی حاصل کریں گے۔