مہاراشٹر بھر میں عیدالاضحیٰ سادگی اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ منائی گئی

Source: S.O. News Service | Published on 1st August 2020, 10:20 PM | ملکی خبریں |

ممبئی،یکم اگست(ایس او نیوز؍ایجنسی) ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں عیدالاضحیٰ سادگی اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ منائی اور سنت ابراھیمی ادا کی گئی، مساجد اور عید گاہوں میں اس بار بھی نماز نہیں ہوئی، البتہ آخری وقت میں بکرے اور بھیڑ وغیرہ خریدنے والوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ گزشتہ ایک ہفتے سے ممبئی میں مویشیوں کے ٹرکوں کو داخلہ نہیں دیا گیا۔

واضح رہے کہ کورونا وبا کے بڑھتے اثرات کے درمیان ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں مسلمانوں نے عیدالاضحیٰ کی نماز سخت احتیاطی ماحول میں ادا کی، ریاست کے کی مختلف شہروں میں قربانی کا عمل بھی بہت احتیاط کے ساتھ اور حکومتی گائیڈ لائن کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیا گیا ہے۔ مہاراشٹر بھر میں محدود پیمانے پر مسجدوں میں نماز ادا کی گئی، وہاں ملک وقوم کی مجموعی ترقی، خوشحالی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی دعائیں مانگیں۔ جن مساجد میں نمازیں ہوئیں وہاں محدود نمازیوں کو اجازت دی گئی تھی اور کئی شہروں میں تو مسجد کے اندر محض 7-5 لوگوں نے ہی باجماعت نماز عید ادا کی۔ بیشتر لوگوں نے گھر پر ہی رشتہ داروں و افراد خانہ کے ساتھ مل کر جماعت بنائی۔ ممبئی میں مسلم اکثریتی رہائشی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں قلیل تعداد میں نمازیوں کو لیکر کئی جماعتوں کا اہتمام کیا گیا۔

مسلمانوں نے ماہ رمضان اور عیدالفطر کی طرح انتہائی صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنت ابراہیمی پر محفوظ طریقے سے عمل کیاہے تاکہ کورونا وبا سے متاثر ماحول کی شدت میں کوئی اضافہ نہ ہو اور جذبہ ایمانی بھی پوری طرح سلامت رہے۔ مہاراشٹر میں ممبئی کے ساتھ ساتھ پونے، اورناگ آباد، ناگپور، جبکہ مالیگاوں وغیرہ سے بھی عید قرباں پرسکون ماحول میں منائے جانے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ البتہ قوم کے سبھی فرقوں نے ایثار و قربانی کی علامت بن جانے والے اس تہوار کی ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ مصافحے اور معانقے سے محروم عیدین میں اس بار مسلمانان ہند نے ایک دوسرے کے ساتھ دل سے اظہار خلوص کو مقدم رکھا۔

گزشتہ روز بمبئی ہائی کورٹ نے دیو نار ممبئی کے سلاٹر ہاؤس میں بڑے جانور یعنی روزانہ 150 بھینس کی قربانی کی اجازت دی تھی، آل انڈیا جمعیت القریش کے نیشنل نائب صدر عمران بابو قریشی نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر شام تک تقریباً 50 بھینس ذیبح کی گئیں جبکہ لگ بھگ 60 بھینسیں موجود تھیں اور بی ایم سی کے تحت دیوار سلاٹر ہاؤس کے جنرل منیجر نے 15 ٹرکوں کی منظوری دی ہے تاکہ آئندہ دو روز بڑے کی قربانی میں دشواری نہ پیش آئے۔ اور ہائی کورٹ کے حکم کی بھی تعمیل ہوسکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری سیاسی سرگرمیوں کے باوجود ادھو ٹھاکرے حکومت نے دوسری ریاستوں کے بکروں کے ٹرکوں کو شہر میں داخل ہونے نہیں دیا، جبکہ بکروں کی آن لائن خریداری کی شرط عائد کی گئی تھی، لیکن شہر کے مسلم اکثریتی علاقوں اور کچھ ملی جلی آبادی میں بھی چھوٹے چھوٹے باڑوں میں بکروں کی فروخت یقینی بنائی گئی، لیکن پولیس کی جانب سے سخت رویہ کی وجہ سے کاروبار محدود رہا۔

ایک نظر اس پر بھی

”دہلی کا فساد بدلے کی کارروائی تھی۔ پولیس نے ہمیں کھلی چھوٹ دے رکھی تھی“۔فسادات میں شامل ایک ہندوتوا وادی نوجوان کے تاثرات

دہلی فسادات کے بعد پولیس کی طرف سے ایک طرف صرف مسلمانوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ سی اے اے مخالف احتجاج میں شامل مسلم نوجوانوں اور مسلم قیادت کے اہم ستونوں پر قانون کا شکنجہ کسا جارہا ہے، جس پر خود عدالت کی جانب سے منفی تبصرہ بھی سامنے آ چکا ہے۔

کورونا کے خلاف لڑائی میں بہار حکومت سب سے پیچھے: یشونت سنہا

سابق مرکزی وزیر خزانہ یشونت سنہا نے کورونا وبا کے خلاف لڑائی میں حکومت بہار کو پھسڈی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مناسب وقت ملنے کے باوجود بھی حکومت اس سنگین صورت حال میں لوگوں کے لئے معقول انتظام کرنے میں ناکام رہی ہے۔

مدھیہ پردیش: کورونا سے کل 886 افراد ہلاک، 921 نئے معاملے

مدھیہ پردیش میں کورونا وائرس کووڈ۔19 کے انفیکشن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور 921 نئے معاملے سامنے آنے کے بعد ان کی مجموعی تعداد بڑھ کر 33535 ہوگئی ہے۔ ان میں سے 23550 صحتیاب ہوچکے ہیں۔ سرگرم معاملوں کی تعداد 9099 ہے۔

ملک کے وزیرداخلہ کے بعد اب کرناٹک کے وزیراعلیٰ کی کورونا رپورٹ بھی نکلی پوزیٹیو؛ کرناٹک میں آج بھی کورونا کے معاملات پانچ ہزار سے زائد

کرناٹک کے وزیراعلیٰ بی ایس یڈی یورپا نے ٹویٹ کرتے ہوئے خبر دی ہے کہ اُن کی کوویڈ۔19 رپورٹ آج اتوار کو  پوزیٹیو پائی گئی ہے۔ رات قریب 11:30 بجے ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ویسے تو وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں لیکن ڈاکٹروں کی ہدایت پر   احتیاطاً   اسپتال میں  ایڈمٹ ہوگئے ہیں۔