مصر: 'قابلِ اعتراض' ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے پر 5 خواتین کو 2، 2 سال قید

Source: S.O. News Service | Published on 28th July 2020, 9:16 PM | عالمی خبریں |

قاہرہ،28؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) مصر کی ایک عدالت نے ٹک ٹاک پر رقص کی 'قابلِ اعتراض' ویڈیوز پوسٹ کرنے کے الزام میں پانچ خواتین کو دو، دو سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ ناقدین نے اس فیصلے کو قدامت پسند مصری معاشرے میں اظہارِ رائے پر پابندیوں کی کڑی قرار دیا ہے۔

پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق خواتین کو مصر میں خاندانی اقدار اور اصولوں کی خلاف ورزی کے جرم میں سزا دی گئی۔ خواتین کے وکلا نے فیصلے کے خلاف اعلٰی عدلیہ میں اپیل دائر کرنے کا ااعلان کیا ہے۔

جن خواتین کو سزائیں سنائی گئی ہیں ان میں سے 20 سالہ طالبہ حنین حسام اور 22 سالہ مودہ الادھم کی شناخت ظاہر کی گئی ہے جب کہ دیگر تین خواتین کو ان دونوں خواتین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے کے جرم میں سزا دی گئی ہے۔

سزا پانے والی ہر خاتون کو تین لاکھ مصری پونڈ کا جرمانہ بھی کیا ہے۔ یہ رقم لگ بھگ 19 ہزار امریکی ڈالر بنتی ہے۔

ویڈیو ایپ 'ٹک ٹاک' پر لاکھوں فالوورز رکھنے والی ان دونوں خواتین نے 15، 15 سیکنڈز کی اپنی ویڈیوز میں میک اپ کر کے گاڑیوں میں سوار ہونے اور کچن میں رقص کرنے جیسی ویڈیوز پوسٹ کی تھیں جو 'ٹک ٹاک' پر معمول کی ویڈیوز سمجھی جاتی ہیں۔

واضح رہے کہ مصر کے قانون کے تحت سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض مواد پوسٹ کرنے پر سزا دی جا سکتی ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے اظہارِ رائے پر قدغن قرار دیتی ہیں۔

مودہ الادھم کی ایک وکیل ثمر شبانہ نے کہا ہے کہ دو سال قید اور 19 ہزار ڈالرز جرمانہ بہت بڑی سزا ہے جسے سننے کے بعد الادھم کمرۂ عدالت میں رونے لگی تھیں۔

ثمر شبانہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین سوشل میڈیا پر فالوورز حاصل کرنا چاہتی تھیں اور وہ کسی جسم فروش نیٹ ورک کا حصہ نہیں۔

واضح رہے کہ ان دونوں سوشل میڈیا اسٹارز نے اپنی ویڈیوز میں مصری خواتین اور لڑکیوں پر زور دیا تھا کہ وہ پیسے کے عوض اجنبیوں کے ساتھ چیٹ کریں اور انہیں اپنی ویڈیوز بھیجیں، جس پر ان کے خلاف کئی حلقوں نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔

تاہم مودہ الادھم کی وکیل کا کہنا تھا کہ ان خواتین کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ ان کی مذکورہ ویڈیوز کو غلط تناظر میں دیکھا جائے گا۔

مصر کو دیگر مسلم اکثریتی عرب ریاستوں کی نسبت روشن خیال سمجھا جاتا ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق مصری معاشرے میں قدامت پسندی کا رُجحان فروغ پا رہا ہے۔

مصر میں بیلی ڈانسرز، پاپ میوزک کے شائقین اور سوشل میڈیا ایپس پر اس نوعیت کی ویڈیوز پوسٹ کرنے والوں کو اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے 2013 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد 'اخلاقی اقدار' کے نام پر شخصی آزادیوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

سری لنکا: عام انتخابات میں مہندا راج پکشے کی جماعت فتح یاب

سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجپکشے کی زیرقیادت سری لنکا پڈوجانا پیرامونا (ایس ایل پی پی) نے پارلیمانی انتخابات میں زبردست فتح حاصل کی۔ ملک میں 225 نشستوں کے لئے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ایس ایل پی پی نے 145 نشستوں پر جیت درج کرکے دو تہائی اکثریت حاصل کرلی ہے۔

لبنان: تین روزہ قومی سوگ کا آغاز، عالمی امداد بھی جاری

لبنان میں جہاں ایک طرف زبردست دھماکے کی وجوہات کی تفتیش جاری ہے وہیں جمعرات سے تین روزہ قومی سوگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ بیروت میں ہونے والے دھماکے میں 135 افراد ہلاک ہوئے تھے۔لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منگل کے روز ہونے والے بم دھماکے سلسلے میں حکومت نے جس تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ...

عالمی ادارہ صحت نے کہا؛ سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے سے بڑھ رہے ہیں کورونا کے معاملات، نوجوان مریضوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کرونا وائرس سے متاثرہ نوجوانوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق فروری کے آخر سے لے کر جولائی کے وسط تک، کرونا وائرس کا شکار ہونے والے 60 لاکھ ...

جاپانی ماہرین کا کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لئے سوپر کمپیوٹر کے استعمال کا اعلان

کورونا وائرس کی روکتھام کے اقدامات سے متعلق جاپان کے انچارج وزیر نیشی مورا یاسوتوشی نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت، مصنوعی ذہانت اور دیگر ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لاتے ہوئے، انفیکشنز پر قابو پانے کے نئے موثر اقدامات دریافت کرنے میں، رواں ماہ کے آخر تک کامیاب ہو جائے گی۔ جاپانی ...