پاکستان سے لوٹی گیتا کو خودکفیل بنانے کی کوششیں جاری

Source: S.O. News Service | Published on 23rd October 2020, 9:50 PM | ملکی خبریں |

اندور،23؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) پاکستان سے ہندوستان لائی گئی قوت گویائی سے محروم لڑکی گیتا کو مدھیہ پردیش کے اندور میں پانچ سالوں تک ادارہ جاتی بازآبادکاری میں رکھنے کے بعد اب اسے یہیں معاشی طور سے خودکفیل اور معاشرتی بحالی کی جانب لے جانے کی کوشش شروع کردی گئی ہے۔

گزشتہ 26 اکتوبر 2015 کو ہندوستان کی اس وقت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کی کوششوں سے گیتا کو ہندوستان لایا گیا تھا۔ تب سے ہی گیتا اندور کی ایک این جی او میں رہ رہی تھی۔ اسے دو ماہ قبل قوت گویائی سے محروم معذوروں کی تعلیم اور ان کے سماجی حقوق کے تحفظ کرنے کے مقصد سے کام کررہے پروہت جوڑے کے سپردکیا گیا ہے۔

اشارے کی زبان کے ماہر گیانندر پروہت کے ذریعہ گیتا نے اشاروں میں بتایا کہ وہ ہندوستان اپنے والدین کو تلاش کرنے کےمقصد واپس آئی ہے۔ممکنہ طور پر سال 1999 میں وہ 7-8 سال کی عمر میں ہندوستان سے بھٹک کرپاکستان چلی گئی تھی۔28 سالہ گیتا نے بتایا کہ 1999 سے 2015 تک وہ پاکستان کے یتیم خانوں میں رہی۔سال 2015 میں وطن واپس آنے کے بعد سے اب تک اس کے والدین کوتلاش کرنے کی کوشش جاری ہے۔

انتظامیہ کی درخواست پر گیتا کو اپنے ذاتی گھر میں رکھ کر اس کی معاشرتی بحالی میں مفت تعاون کررہے گیانندرپروہت اور ان کی اہلیہ مینکا پروہت نے بتایا کہ اب بھی ہماری پہلی ترجیح گیتا کے والدین کو تلاش کرنے کی ہے۔گیتا کو اسکولی تعلیم کے ساتھ گھریلو کام سکھایاجارہا ہے۔اس کے ساتھ ہی گیتا کو تکنیکی تعلیم سے آراستہ بھی کیا جارہا ہے۔

گیتا کو آج یہاں شری گووندرام سیکسریہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی اور سائنس کالج لایا گیا ہے۔اس ادارہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راکیش سکسینا نے بتایا کہ ہم گیتا کی کس طرح کی تکنیکی تعلیم میں دلچسپی ہے کو جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم گیتا کو کمپیوٹر تربیت دینے پر غورکررہے ہیں۔اسے کمپیوٹر ڈیٹا انٹری میں موثر بناکر نوکری کے لیے تیارکر رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

جھارکھنڈ میں بھی لو َ جہاد کا عفریت بیدار: بھاجپا کے ایم پی نے وزیراعلی ہیمنت کو خط لکھ کر کاروائی کا کیامطالبہ

مدھیہ پردیش، اتر پردیش کے بعد اب جھارکھنڈ میں بھی نام نہا د لو َجہاد کیخلاف قانون بنانے کا مطالبہ شروع ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں رانچی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سیٹھ نے سی ایم ہیمنت سورین کو ایک خط لکھا ہے۔