گوری لنکیش کا نہیں ،جمہوریت کا قتل .. ۔۔۔ . روزنامہ سالار کا اداریہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 7th September 2017, 11:51 AM | ملکی خبریں | مہمان اداریہ | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

ہندوستان میں بڑھتی ہوئی نفرت ، عدم رواداری اور عدم برداشت کی مسموم فضاؤں نے گزشتہ 3سال کے دوران کئی ادیبوں ، قلم کاروں اور سماجی کارکنوں کی جانیں لی ہیں اور اس پر مرکزی حکومت کی خاموشی نے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔ ڈحابولکر پنسارے اور کلبرگی کے بعد نکسلیوں کو انسانیت کے دائرے میں لانے کیلئے انتھک جدوجہد اور آر ایس ایس و بی جے پی اور بجرنگ دل کے انتہا پسندانہ کردار کے خلاف اپنے قلم کے ذریعہ آواز اٹھا کر حکومت وقت کی نیند حرام کرنے والی معروف صحافی گوری لنکیش کا قتل اس بات کی علامت ہے کہ سنگھ پریوار جیسی انتہا پسند تنظیمیں اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبادے گی اور چاہے جس پارٹی کی سرکار ہو وہ خاموش تماشائی بنی رہے گی۔ گزشتہ 2دن قبل معروف اور بے باک صحافی گوری لنکیش کو ان کے گھر کے پاس نا معلوم افراد نے گولی مار کر قتل کردیا ، جس کی صحافی برادری سمیت پوری دنیا مذمت کررہی ہے اور بنگلورو سمیت ریاست اور ملک کے مختلف مقامات پر قتل کے خلاف احتجاجات ہورہے ہیں۔ ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا نے بھی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور اس کی یقین دہائی کرائی ہے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ معروف ادیب ایم ایم کلبرگی کے قاتلوں کا اب تک سراغ کیوں نہیں لگا؟ گوری لنکیش کے قاتلوں کے سراغ لگانے کے حکومتی دعوے پر عوام کیوں یقین کرے؟۔ پوری پولیس انتظامیہ کسی کو فرضی تصادم میں پھنسانے ، بم دھماکے کے بعد ایک خاص طبقہ کے بچوں کو گرفتار کرنے اور حکومت وقت کا جوتا اٹھانے میں ہی سرگرم نظر آتی ہے۔ صحافی گوری لنکیش سنگھ پریوار اور بی جے پی کے خلاف جرأت کے ساتھ لکھتی رہی ہیں۔ 2014ء کے لوک سبھا میں اکثریت سے جیتنے اور مرکزپر براجمان مودی جی کے آنے کے بعد سنگھ پریوار سے وابستہ تنظیموں کے حوصلے بڑھے ہیں۔ جس کا اندازہ گزشتہ 3برسوں میں نرنیدر دابھولکر، گواند پنسارے اور ایم ایم کلبرگی کے قتل اور مسٹر کے ایس بھگوان کو قتل کی دھمکی سے ہوتا ہے۔ نریندر دابھولکر اس لئے قتل کئے گئے کہ انہوں نے مہاراشٹر میں اندھ وشواس نرمولن سمیتی بنائی تھی۔ گووند پنسارے نے شیواجی پر کتاب لکھی تھی جس سے کچھ تنگ نظر لوگ ناخوش تھے ۔ کلبرگی کا قتل اس لئے ہوا کہ انہوں نے ذات اور فرقہ پرستی کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ صحافی گوری لنکیش کا قتل اس لئے ہوا کہ وہ ہندو انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف تھیں۔ یہ چاروں دانشور اصلاح پسند تھے، تشدد پسندی اور تنگ نظری کے خلاف تھے ۔ اسی لئے اس تنگ نظری کا شکار بن گئے جو آر ایس ایس نے ہندو نوجوانوں میں ’قوم پرستی‘ کے نام پر پیدا کردی ہے اور جس کے جنونی کارکنان پورے ملک میں تحفظ گائے کے نام پر تشدد پھیلارہے ہیں۔ معروف ادیب ایم ایم کلبرگی کے قتل کے بعد رام سینا کے ایک لیڈر نے قاتل کی اسی طرح تعریف کی تھی جس طرح ہندوستان کو ہندوراشٹربنانے کیلئے سرگرم چند انتہا پسند گاندھی جی کے قاتل گوڈ سے کی تعریف کرتے ہوئے آرہے ہیں۔ آزادی انسان کے بنیادی حقوق میں ایک ہے جنہیں انسانیت کا فطری خاصہ مانا جاتا ہے، اور ہر مہذب حکومت نے انسان کے اس فطری حق کا پاس و لحاظ رکھا ہے، خود ہمارے ملک ہندوستان جو مختلف افکار و مذاہب اور تہذیب و ثقافت کا گہوارہ ہے، کے آئین نے انسانی آزادی کی پاسداری کی ہے۔ اسی سے ہندوستان کی شناخت بنی ہے۔ جہاں رنگ و نسل سے مختلف تمام مذاہب کے لوگ بستے ہیں اور جہاں سینکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن آزادئی اظہار رائے کے لحاظ سے موجودہ حالات ہندوستانیوں کیلئے بہت خطرناک ہیں۔ ایک طبقہ اپنی خامیوں اور کمیوں کے خلاف کچھ سننا نہیں چاہتا ، اگر کوئی اس کے خلاف دلائل و براہین کے ساتھ اپنی آواز بلند کرنے کی کوشش کرنا ہے تو اسی کو اس دنیا سے ہی اٹھا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ صرف مٹھی بھر لوگ ہیں لیکن جمہوریت پسندوں کی سستی اور کاہلی کی وجہ سے وہ پورے ہندوستان میں تشدد کا بازار گرم کررہے ہیں۔ انسانیت سوزوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کسی ایک شخص کو قتل نہیں بلکہ وہ اس سوچ کو ختم کرنے کے درپے ہے جس نے ہندوستان جیسے جمہوری ملک کو اپنے خون سے سینچا ہے۔ اہل قلم ہی معاشرے کا وہ طبقہ ہیں جو آنے والی نسلوں کو مثبت سوچ منتقل کرتے ہیں۔ اگر ان کے تحفظ میں ذرا برابر بھی ڈھیلائی برتی گئی تو انسانیت کے خاتمہ میں دیر نہیں لگے گی۔ ایسے اندوہناک حالات میں متحد ہوکر تمام جمہوریت اور انسانیت پسندوں کو آگے آنا ہوگا اور اس وقت تک سخت گیر عناصر کے خلاف لڑائی جاری رکھنی ہوگی جب تک کہ قاتلوں کا سراغ نہ لگ جائے۔ حق کی آواز کو دبانے کی کوشش کرنے والے ملک و قوم اور انسانیت و جمہوریت کے دشمن ہیں ایسے عناصر کے خلاف ہم سب کو مل کر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ تبھی ہندوستان میں ایک پرامن فضا قائم ہوگی اور ہر باشندہ حق کیلئے اپنی آواز بلند کرے گا۔ 

(بشکریہ روزنامہ سالار، مورخہ 7/ستمبر 2017)

ایک نظر اس پر بھی

 جے ڈی یو کے اجلاس میں جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کو لے کر بنی حکمت عملی

دہلی میں واقع وزیر اعلی نتیش کمار کے گھر اتوار کو جے ڈی یو کی میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں آنے والے دنوں میں ہونے والے جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کو لے کر حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ جھارکھنڈ میں جے ڈی یو نے اکیلے چناؤ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میٹنگ میں پارٹی کے قومی صدر نتیش کمار، نائب صدر ...

بہار میں شدید گرمی سے 24 گھنٹے میں 66 ہلاک، اورنگ آبادمیں 30 جانیں گئیں 

بہار میں شدید گرمی اور لو کی وجہ سے ہفتہ کو 66 لوگوں کی موت ہو گئی۔ اورنگ آباد میں سب سے زیادہ 30، گیا میں 25 اور دارالحکومت پٹنہ میں تین لوگوں کی جان گئی۔ لو کے تھپیڑو ں سے بے حال مریض کے جسم میں جلن کی شکایت لے کر ہسپتال پہنچتے رہے ہیں۔

سوئس بینک اکاؤنٹ ہولڈروں پر شکنجہ کسا، کم از کم 50 ہندوستانیوں کو نوٹس

سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں غیر اعلانیہ اکاؤنٹ رکھنے والے ہندوستانیوں کے خلاف دونوں ممالک کی حکومتوں نے شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے۔سوئٹزرلینڈ کے افسر اس سلسلے میں کم از کم 50 ہندوستانی اکاؤنٹ ہولڈروں سے متعلق اطلاعات ہندوستانی حکام کو سونپنے کے عمل میں لگے ہیں۔

پارلیمانی اجلاس کا آغاز تین طلاق بل منظورکرانا حکومت کیلئے بڑا چیلنج

پارلیمنٹ کے پیر سے شروع ہونے والے اجلاس میں نئی حکومت کے سامنے جہاں تین طلاق بل سمیت دس اہم آرڈیننس کو منظور کرانے کا بڑا چیلنج ہوگا، وہیں اپوزیشن پارٹیاں حکومت کو کسانوں، بے روزگاری، سکیولرزم، الیکٹرانک ووٹنگ مشین جیسے بہت سے دیگر مسائل پر گھیرنے کی کوشش کریں گی-

آر ایس ایس کی طرح کوئی مسلم تنظیم کیوں نہیں؟ از: ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

مسٹر نریندر مودی کی تاریخ ساز کامیابی پر بحث جاری ہے۔ کامیابی کا سب کو یقین تھا مگر اتنی بھاری اکثریت سے وہ دوبارہ برسر اقتدار آئیں گے اس کا شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ دنیا چڑھتے سورج کی پجاری ہے۔ کل ٹائم میگزین نے ٹائٹل اسٹوری مودی پر دی تھی جس کی سرخی تھی ”India’s Divider in Chief“۔

گاندھی سے گوڈسے کی طرف پھسلتے ہوئے انتخابی نتائج   ۔۔۔۔    اداریہ: کنڑاروزنامہ ’وارتا بھارتی‘  

لوک سبھا انتخابات کے نتائج ظاہر ہونے  اور بی جے پی کو تاریخ سازکامیابی حاصل ہونے پر مینگلور اور بنگلور سے ایک ساتھ شائع ہونے والے کنڑا روزنامہ وارتھا بھارتی نے  بے باک  اداریہ لکھا ہے، جس کا اُردو ترجمہ بھٹکل کے معروف صحافی ڈاکٹر محمد حنیف شباب صاحب نے کیا ہے،  ساحل ا ٓن لائن ...

اتر پردیش میں لاقانونیت: بلند شہر میں پولیس پر حملہ۔منظم طور پر گؤ رکھشکوں کے بڑھائے گئے حوصلوں کا نتیجہ۔۔۔(ٹائمز آف انڈیا کا اداریہ )

اتر پردیش کے بلند شہر ضلع میں مبینہ طور پر گؤ کشی کے خلاف احتجاجی ہجوم کی جانب سے پولیس پر دہشت انگیز حملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ گؤ رکھشکوں کے حوصلے کس حد تک بلند ہوگئے ہیں۔

زندہ قومیں شکایت نہیں کرتی ہیں، بلکہ پہاڑ کھود کر راستے بنا لیتی ہیں ..... آز: ڈاکٹر ظفر الاسلام خان

بہت عرصہ قبل میں نے ایک انگریز مفکر کا مقولہ پڑھا تھا کہ جب تک میری قوم میں ایسے سر پھرے موجود ہیں جو کسی نظریے کو ثابت کرنے کے لئے اپنا گھر بار داؤ پر لگاکر اس کی تحقیق کرتے رہیں، کسی چیز کی تلاش میں صحراؤں میں گھومتے رہیں اور پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں کو سر کرنے کی جد وجہد کرتے ...

حکومت کی ممبئی فراموشی کا نتیجہ 

ممبئی میں الفنسٹن روڈ اور پریل ریلوے اسٹیشنوں کو جوڑنے والے پل کی تنگی ، موسلادھار بارش ، شدید بھیڑ بھاڑ کا وقت، کئی ٹرینوں کے مسافروں کا دیر سے اسٹیشن اور پُل پر موجود ہونا،

گوری لنکیش کے قتل میں قانون کی ناکامی کا کتنا ہاتھ؟ وارتا بھارتی کا اداریہ ............ (ترجمہ : ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ )

گوری لنکیش کے قاتل بہادر تو ہوہی نہیں سکتے۔ساتھ ہی وہ طاقتور اورشعوررکھنے والے بھی ہیں۔ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایک تنہا اور غیر مسلح عورت پر سات راؤنڈگولیاں چلانے والے کس حد تک بزدل اورکس قسم کے کمینے ہونگے۔مہاتما گاندھی کو بھی اسی طرح قتل کردیا گیا تھا۔وہ ایک نصف لباس اور ...

علاج کے لئے منگلور جانے والے توجہ دیں: منگلورو اور اڈپی کے اسپتالوں میں کل 17جون کو او پی ڈی خدمات رہیں گی بند

 بھٹکل اور اطراف سے کافی لوگ  علاج معالجہ کے لئے پڑوسی ضلع اُڈپی اور مینگلور کے اسپتالوں کا رُخ کرتے ہیں،  ان کے لئے  بری  خبر یہ ہے کہ کل  ڈاکٹروں کے احتجاج کے پیش نظر  مینگلور اور اُڈپی کے اسپتالوں میں باہری  مریضوں  کا علاج  نہیں ہوگا۔

آئی ایم اے معاملہ میں نرم رویہ اختیار کرنے کاسوال پیدا نہیں ہوتا: ضمیر احمد خان

آئی مانیٹری اڈوائزری (آئی ایم اے) نامی پونزی کمپنی کے دھوکہ دہی معاملہ میں نرم رویہ اختیار کئے جانے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔اس پس منظر میں بی جے پی کی جانب سے عائد کئے جارہے الزامات بکواس ہیں۔

کرناٹکا اُردو اکیڈمی کی جانب سے امسال بھٹکل کے دو صحافیوں کو بھی ایوارڈ؛ 2 اور3 جولائی کو ہوگی بنگلور میں تقریب

 کرناٹکا اُردو اکیڈمی نے امسال پہلی بار بھٹکل کے دو صحافیوں بھٹکل نیوز کے ایڈیٹر عتیق الرحمن شاہ بندری اور پھول میگزین  کے ایڈیٹرمولوی عبداللہ دامدا ابو ندوی  کو    ایوارڈ سے نوازے جانے کا اعلان کیا ہے۔