میٹرومین ای شریدھرن نے لکھنؤ میٹرو کے انجینئر کے عہدے سے استعفیٰ دیا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 24th June 2019, 11:12 PM | ملکی خبریں |

لکھنؤ، 24 جون (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) میٹرومین کے نام سے مشہور ای شریدھرن نے لکھنؤ میٹرو ریل کارپوریشن کے پرنسپل کنسلٹنٹ انجینئر کے عہدے سے استعفی بھیج دیا ہے۔شریدھرن نے استعفیٰ میں صحت کی وجوہات کا حوالہ دیا ہے۔ایل ایم آر سی نے استعفی کو حکومت کو بھیج متعارف کرایا ہے۔ میٹرو مین لکھنؤ میٹرو منصوبے سے ابتدائی دور سے متعلق ہیں۔لکھنؤ میٹرو کے آغاز میں وہ لکھنؤ آئے تھے۔ ایل ایم آر سی کے پرنسپل کنسلٹنٹ کے طور پر شریدھرن گزشتہ چند ماہ سے لکھنؤ نہیں آئے تھے۔دوسرے مرحلے میں کاریڈور جب میٹرو آپریشن شروع ہوا، تب بھی صحت خراب ہونے کی وجہ سے وہ پروگرام میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔لکھنؤ میٹرو کے حکام کی مانیں تو صحت خراب ہونے کے بعد بھی وہ برابر منیجنگ ڈائریکٹر کمار کیشو کے رابطے میں تھے، ہر کام کی معلومات فون پر لیتے رہے۔وہ لکھنؤ کے علاوہ آگرہ، کانپور اور گورکھپور میں میٹرو منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کر رہے تھے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ لکھنؤ میں ایسٹ ویسٹ کوریڈور کے علاوہ ریاست کے تین اضلاع میں میٹرو کا ڈی پی آر بن چکا ہے۔کانپور اور آگرہ میں میٹرو کا ٹینڈر بھی جون میں نکلنے والا تھا۔ایل ایم آر سی کے منیجنگ ڈائریکٹر کمار کیشو نے کہاکہ شریدھرن نے ذاتی طور پر شمال اور جنوب کاریڈور کی تعمیر کے کام کی نگرانی کی۔ان کا قیمتی رہنمائی بہت اہم تھی۔میں نے ان سے استعفی نہیں دینے کی درخواست کی تھی، لیکن انہوں نے کہا کہ ان کی صحت اس وقت کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔میٹرو ذرائع کی مانیں تو جون کے آخری ہفتے میں لکھنؤ میٹرو ریل کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر اب تک کئے گئے کاموں سے انہیں آگاہ کرنے کے لئے کیرل جائیں گے اور ان کا حال چال لیں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

یوپی اسمبلی: پرینکا گاندھی کو سون بھدر جانے سے روکنے اور حراست پر زَبردست ہنگامہ

ریاستی حکومت کے ذریعہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کو سون بھد رجانے سے روکنے، انہیں 27 سے زیادہ گھنٹوں تک حراست میں رکھنے و ریاست میں ایس پی حامیوں کے ہوئے رہے قتل پر یو پی اسمبلی میں کانگریس و ایس پی اراکین نے جم کر ہنگامہ کیا۔

مودی حکومت نے لوک سبھا میں ’آر ٹی آئی‘ ختم کرنے والا بل پیش کیا: کانگریس

  کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ ’کم از کم گورنمنٹ اور زیادہ سے زیادہ گورننس‘ کی بات کرنے والی مرکزی حکومت لوگوں کے اطلاعات کے حق کے تحت حاصل حقوق کو چھین رہی ہے اور اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔