راجیہ سبھا میں مرجر صحیح اور یہاں غلط، بی جے پی کا چال-چریتر-چہرہ کہاں گیا! اشوک گہلوت

Source: S.O. News Service | Published on 1st August 2020, 10:54 AM | ملکی خبریں |

جے پور،یکم اگست(ایس او نیوز؍یو این آئی) راجستھان کے وزیراعلی اشوک گہلوت نے کہا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظر میں اس کا تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) سے راجیہ سبھا کے چار ممبران پارلیمنٹ کو اپنی پارٹی میں شامل کرنا صحیح ہے اور کانگریس کا ایسا کرنا غلط ہے، تو پھر بی جے پی کا چال چریتر (کردار) اور چہرہ کہاں گیا؟

گہلوت نے آج سوشل میڈیا کے ذریعے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ٹی ڈی پی کے چار ارکان پارلیمنٹ کوراجیہ سبھا کے اندر راتوں رات مرجر کروا دیا، وہ مرجر تو صحیح اور راجستھان میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے چھ ایم ایل اے کانگریس میں مرجر کرگئے ، یہ مرکرغلط ہے، تو پھر بی جے پی کا کردار کہاں گیا۔

انہوں نے کہا ’’میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ راجیہ سبھا میں مرجر ہو وہ صحیح ہے اور یہاں مرجر ہو وہ غلط ہے‘‘۔ انہوں نے ایس پی صدر مایاوتی کا نام لئے بغیر کہا کہ بی جے پی نے بہن جی کو آگے کر رکھا ہے اور ان کے کہنے پر وہ بیانات دے رہی ہیں۔ بی جے پی جس طرح سی بی آئی، ای ڈی اور انکم ٹیکس کا غلط استعمال کررہی ہے، سب کو دھمکا رہی ہے، راجستھان میں کیا ہو رہا ہے، سب جانتے ہیں، ایسا تماشہ کبھی نہیں دیکھا۔ وہ ان سے ڈرتی ہیں اور مجبوری میں بیان دے رہی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ٹی ڈی ایس ممبران پارلیمنٹ وائی ایس چودھری، سی ایم رمیش، ٹی جی وینکٹیش اور جی ایم راؤ نے حال ہی میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ اس سے قبل پچھلے سال راجستھان میں بی ایس پی کے چھ ممبران اسمبلی، راجندر گڈھا، واجب علی، جوگندر آوانا، سندیپ یادو، دیپ چند کھیریا اور لاکھن سنگھ کانگریس میں شامل ہوئے تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

دہلی میں ای-گاڑی پالیسی کا اعلان، الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری پر رعایت ملے گی

ہلی کی اروند کیجریوال حکومت نے دارالحکومت کو آلودگی سے پاک کرنے کے منصوبے کے تحت جمعہ کے روز ای- گاڑی پالیسی کو نافذ کرنے کا اعلان کیا، جس میں مختلف زمروں کی الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کے لئے 30 ہزار سے لے کر 1.5 لاکھ روپے تک رعایت دی جائے گی۔

بے لگام میڈیا پر جمعیۃ کی عرضی: جب تک عدالت حکم نہیں دیتی حکومت خود سے کچھ نہیں کرتی: چیف جسٹس

مسلسل زہر افشانی کرکے اور جھوٹی خبریں چلاکر مسلمانوں کی شبیہ کوداغدار اور ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوارکھڑی کرنے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف داخل کی گئی

دہلی فسادات: پروفیسر اپوروانند کی حمایت میں سامنے آئے ملک و بیرون ملک کے دانشوران

 ملک اور بیرون ملک کے ایک ہزار سے زائد معروف دانشوروں، نوکر شاہوں، صحافیوں، مصنفوں، ٹیچروں او اسٹوڈنٹس نے دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند سے مشرقی دہلی میں فسادات کے معاملے میں پوچھ گچھ کئے جانے اور انکا موبائل فون ضبط کرنے کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور پولیس کے ذریعہ ...

کالعدم چینی کمپنیوں سے بی جے پی کے گہرے رشتے ہیں: کانگریس

 کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے قومی سلامتی کے لیے خطرہ بتاتے ہوئے جن چینی کمپنیوں پر پابندی لگائی ہے ان میں سے کئی کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے گہرے رشتے ہیں اور گزشتہ عام انتخابات میں ان کمپنیوں نے اس کے لیے تشہیری مہم کا کام کیا تھا۔