بی ایس این ایل کی حالت خراب؛ ملازمین کو جون کی تنخواہ دینے کے لیے نہیں ہیں رقم

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 24th June 2019, 11:06 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 24 جون (ایس او نیوز) سرکاری ٹیلی کام کمپنی بی ایس این ایل نے حکومت کو ایک خط  بھیجا ہے، جس میں کمپنی نے آپریشنز جاری رکھنے میں تقریبا نااہلی ظاہر کی ہے۔کمپنی نے کہا ہے کہ رقم میں  کمی کے سبب کمپنی کے ملازمین کو  جون ماہ کی تنخواہ  تقریبا 850 کروڑ روپے  دے پانا مشکل ہے۔کمپنی پر ابھی قریب 13 ہزار کروڑ روپے کی آؤٹ اسٹیڈنگ لائبلٹی ہے، جس کی وجہ سے بی ایس این ایل کا کاروبار ڈانوا اڈول ہو رہا ہے۔

بی ایس این ایل کے کارپوریٹ بجٹ اینڈ بینکنگ ڈویژن کے سینئر جنرل منیجر پورن چندر نے ٹیلی کام وزارت میں جوائنٹ سکریٹری کو لکھے  خط میں کہاکہ ہر مہینے کی آمدنی اور اخراجات میں پائے جانے والے  فرق کے سبب اب کمپنی کی انتظامی اُمور کو  جاری رکھنا تشویش کا موضوع بن گیا ہے کیونکہ اب یہ کمپنی   ایک ایسے لیول پر پہنچ چکی  ہے کہ جب تک ضروری equity کو شامل نہیں کیا جائے گا،  بی ایس این ایل کے آپریشنز جاری رکھنا تقریباََناممکن ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے خود چند ماہ قبل بی ایس این ایل کی ڈانواڈول حالت کا جائزہ لیا تھا اور اس دوران کمپنی کے چیئرمین نے پی ایم کو ایک پریزنٹیشن بھی دیا تھا،تاہم اس اجلاس کے بعد بھی اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل پایا کہ تقریبا 1.7 لاکھ ملازمین والی کمپنی کس طرح خود کو بحران سے نکال پائے گی۔گزشتہ ہفتے بھی  کمپنی نے حکومت سے کمپنی کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے اگلی کارروائی سے متعلق مشورہ مانگنے کے لئے ایک خط لکھا تھا۔

بتا دیں کہ بی ایس این ایل سب سے زیادہ خسارہ برداشت کرنے والی ٹاپ پی ایس یو(Public sector undertakings in India) ہے اور کوٹک اسٹی ٹیوشنل ایکوئٹیز کی رپورٹ کے مطابق،بی ایس این ایل کو  دسمبر، 2018 کے آخر تک 90000 کروڑ روپے سے زیادہ کا آپریشنل نقصان جھیلنا پڑا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق  BSNL کمپنی کو 2008-09 کے بعد  کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے اور کمپنی اُس کے بعد سے خسارے میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق  خسارے کے لئے اعلیٰ  ملازمین مگر  کمزور مینجمنٹ  کا نظام  اور  جدید منصوبوں میں تاخیراصل وجہ ہے۔ ایک طرف سرکار 5G کے آوکشن کی بات کررہی ہے اور دوسری طرف بی ایس این ایل کے پاس ابھی تک 4G سسٹم نہیں پہنچا ہے۔

2004-05 سے بی ایس این ایل خریداروں کی تعداد گھٹ کر صرف 10 فیصدرہ گئی ہے اورلوگ پرائیویٹ آپریٹروں بالخصوص بھارتی ائیرٹیل، ووڈا فون۔آئیڈیا ، ریلائنس۔ جیو کی طرف چلے گئے ہیں۔

بی ایس این ایل کے پاس قریب 1.7 لاکھ ملازمین ہیں اوردسمبر 2018 تک صرف ان کی تنخواہیں اور دیگر دئے جانے والے الاونس ہی  کمپنی کی حاصل شدہ آمدنی کا 66 فیصد حصہ رہے ہیں حالانکہ 2006 کے آواخر تک  تنخواہوں وغیرہ پر خرچ ہونے والی رقم آمدنی کا 21 فیصد حصہ تھیں۔ اُدھر دوسری طرف پرائیویٹ کمپنیوں کا جائزہ لیں  تو ائرٹیل اپنی آمدنی کا صرف 3 فیصد حصہ  ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر الاونس   پر خرچ کرتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بی ایس این ایل چیرمین نے  کمپنی کی حالت زار پر چند ماہ قبل  سرکار کو ایک پرزنٹیشن پیش کیا تھا، مگر  اُس میں صاف طور پر مسئلہ کا حل پیش نہیں کیا گیا تھا کہ کیا کرنے سے  کمپنی کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔

کمپنی اب اتنے زیادہ خسارے میں پہنچ گئی ہے کہ اس سے باہر نکلنے کا راستہ نظر نہیں آرہاہے۔  ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سرکار بھی اس تعلق سے بی ایس این ایل کوبند ہونے سے روکنے کے لئے کسی بھی طرح کا کوئی منصوبہ یا ہدایات جاری کرنے میں ناکام ہے جبکہ سرکار نے  کمپنی کو بند کرنے کی تجویز کو بھی رد کردیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

یوپی اسمبلی: پرینکا گاندھی کو سون بھدر جانے سے روکنے اور حراست پر زَبردست ہنگامہ

ریاستی حکومت کے ذریعہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کو سون بھد رجانے سے روکنے، انہیں 27 سے زیادہ گھنٹوں تک حراست میں رکھنے و ریاست میں ایس پی حامیوں کے ہوئے رہے قتل پر یو پی اسمبلی میں کانگریس و ایس پی اراکین نے جم کر ہنگامہ کیا۔

مودی حکومت نے لوک سبھا میں ’آر ٹی آئی‘ ختم کرنے والا بل پیش کیا: کانگریس

  کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ ’کم از کم گورنمنٹ اور زیادہ سے زیادہ گورننس‘ کی بات کرنے والی مرکزی حکومت لوگوں کے اطلاعات کے حق کے تحت حاصل حقوق کو چھین رہی ہے اور اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔