ذات پات کی بنیاد پر سماج کو توڑنے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا:آر اشوک

Source: S.O. News Service | Published on 24th July 2022, 12:11 PM | ریاستی خبریں |

منڈیا ، 24؍جولائی (ایس او نیوز)ذات پات کو پلے کارڈ بنانے سے کسی کو بھی فائدہ نہیں ہوگا،فی الحال حاصل ہوئی سیٹوں کو بھی کھوناپڑسکتاہے۔یہ بات ریاستی وزیر برائے مالگذاری آر اشوک نے کہی۔

انہوں نے یہاں شہر میں بی جے پی لیڈر اشوک جئے را م کی رہائش گاہ پر اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ویراشیوا۔لنگایت طبقے کو توڑنے کی کوشش کی گئی،اس وقت نتیجہ کیاہوا تھا، ذات پات کی بنیاد پر انتخابات نہیں کرائے جانے چاہئیں۔کسی بھی ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کی طرف سے دئے جائے والے ووٹوں سے وزیر اعلیٰ بنناممکن نہیں ہے،وزیر اعلیٰ بننے کے خواہشمند لیڈروں کو چاہئے تمام مذاہب کے لوگوں کا اعتماد حاصل کریں اور عوامی لیڈ ر کے طورپر اپنی پہچان بنانے کی کوشش کریں۔

وزیر موصوف نے کہاکہ سماج کو آپس میں بانٹنے یا توڑنے کی کوشش ہرگز نہیں کی جانی چاہئے،ایسا کرنے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ڈی کے شیوکمار اور ایچ ڈی کمار سوامی اپنے آپ کو وکلیگا قرار دے رہے ہیں اور انہیں وزیراعلیٰ بنانے کی گزارش کررہے ہیں،کیا صرف وکلیگا طبقے کے ووٹوں سے وزیراعلیٰ بنناممکن ہے؟ وکلیگا ہونے کا سرٹی فکیٹ ہم اپنے آپ کو نہیں دے سکتے،عوام ہمیں تسلیم کریں تب ہی ہم کسی مخصوص طبقے کے لیڈر کہلاسکتے ہیں۔وزیر کون بنیں اس کا فیصلہ عوام کریں گے۔

انہوں نے مزید کہاکہ پرانے میسور علاقے میں پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے تمام لیڈروں کے گھروں کا دورہ کررہے ہیں،2023کے اسمبلی انتخابات کو بی جے پی نے سنجیدگی سے لیاہے،انتخابات کیلئے مزید 10ماہ باقی ہیں،بہت جلد پارٹی امیدواروں کا اعلان کردیاجائے گااور انتخابات کیلئے تیاریاں شروع کردی جائیں گی۔اس پرانے میسور علاقے میں زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کی جائے گی،اس علاقے میں پارٹی کو مزید مضبوط بناناہی ہماراعین مقصد ہے۔

آر اشوک نے کہاکہ سونیاگاندھی کو ای ڈی کے تحقیقات کیلئے طلب کرنے پر کانگریس کارکنوں کی طر ف سے کئے جا رہے احتجاج کے تعلق سے انہوں نے کہاکہ اس سے قبل جناردھن ریڈی کے خلاف بھی ای ڈی تحقیقات کرائی گئی تھیں،اس وقت ای ڈی تحقیقات صحیح تھیں،اس وقت کانگریس کے خلاف ہم نے کوئی احتجاج نہیں کیاتھا،دستوری اداروں کے تعلق سے اس طرح غلط بیانات دینے سے عوام کا اعتماد باقی نہیں رہ سکتا،اس لئے ہمیں چاہئے کہ کسی سے بھی تحقیقات کے وقت قانون کے مطابق تعاون کریں۔ای ڈی کی طرف سے پوچھی گئی دستاویز اگروقت پر فراہم کردی جاتیں،تو ایک ہی دن میں معاملہ حل ہوجاتا،ای ڈی تحقیقات قانون کے مطابق ہی چل رہی ہیں،اس ادارے کا کوئی غلط استعمال نہیں ہورہاہے۔سابق اسمبلی اسپیکر کے آر رمیش کمار کی طرف سے 4پشتوں کیلئے دولت کمالئے جانے کے تعلق سے دئے گئے بیان پر انہوں نے کہاکہ عوام ہی فیصلہ کریں گے کہ کونسی پارٹی بدعنوان ہے۔

اس موقع پر سابق رکن اسمبلی پربھاوتی جئے رام،بی جے پی لیڈر ایس سچیدانند،پانڈواپورہ اندیش،ایس پی سوامی،بی جے پی سٹی پرسیڈنٹ ویویک،منڈیااربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائرکٹر پٹر مل جین،گرام پنچایت رکن انیل اور روی موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

انکولہ - ہبلی ریلوے لائن منصوبہ : مرکزی حکومت کے وفد نے کیا مختلف مقامات کا معائنہ

ریاستی ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق انکولہ - ہبلی ریلوے منصوبے پر عمل پیرائی کے سلسلے میں مثبت اور منفی پہلووں کا جائزہ لینے کے  مرکزی حکومت کے ایک وفد نے انکولہ اور یلاپور تعلقہ جات میں مختلف جنگلاتی علاقوں کا معائنہ کیا۔

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے میسور و کے دس روزہ دسہرہ تقریبات کا افتتاح کیا

دوماہ کی تیاریوں کے بعد آج بروز پیر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے میسور کے چامنڈی پہاڑ پر دس روزہ دسہرہ تقریبات کا چامنڈیشوری دیوی کی مورتی پر پھول نچھاور کرکے افتتاح کیا۔ پہلے صدر جمہوریہ نے چامنڈیشوری دیوی کے درشن کئے اور اس مندر کی تاریخ کے تعلق سے تفصیل سے جانکاری حاصل کی۔

ذہنی دباؤ بیسویں صدی کا ایک مہلک مرض؛ آئیٹا گلبرگہ کے ورک شاپ سے ڈاکٹر عرفان مہا گا وی کا خطاب

نئے دور کی شدید ترین بیماریوں میں ذہنی دباؤ اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کو مہلک امراض میں شمار کیا جاتا ہے ۔ روز مرہ کی مشینی زندگی میں ذہنی دباؤ  میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ لیکن اس کو کیسے کم کیا جائے اس پر غور کر نے اور اس سلسلے میں کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔

پی ایف آئی پر ای ڈی اور این آئی اے کے کریک ڈاون کے بعد ایس ڈی پی آئی نے کہا؛ ایجنسیوں نے کبھی بھی آر ایس ایس اور اس سے منسلک تنظیموں پر چھاپہ نہیں مارا

 سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کرناٹک یونٹ نے بنگلور میں اپنے ریاستی مرکزی دفتر میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ای ڈی اور این آئی اے نے کبھی بھی آر ایس ایس اور اس سے منسلک تنظیموں پر چھاپہ نہیں مارا بلکہ صرف پاپولرفرنٹ آف انڈیا کو ہی نشانہ بنایا ...