اترکنڑا ضلع کو تقسیم کرکےسرسی کو نیا ضلع تشکیل دینے کامطالبہ دوبارہ سرخیوں میں : سیاست دانوں کی خاموشی پر عوام متعجب

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 6th October 2019, 6:38 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل:06؍اکتوبر(ایس اؤ نیوز)11تعلقہ جات پر مشتمل اکھنڈ اترکنڑا ضلع کو تقسیم کرتے ہوئے گھاٹ کے اوپر والے تعلقہ جات کو شامل کرتے ہوئے الگ سے ’سرسی ‘ ضلع کی تشکیل دینے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ رہاہے۔اب جب کہ  وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا ریاست میں وجئے نگر، چکوڑی اور شکاری پور کو نئے اضلاع کے طورپر تشکیل دینے پر غور کررہے ہیں تو عین اسی وقت سرسی ضلع کی مانگ دوبارہ گونجنے لگی ہے۔ مگر مقامی ارکان اسمبلی ، رکن پارلیمان اپنی ہی حکومت ہونے کے باوجود ضلع تشکیل کے حق میں آواز اٹھائے بغیر خاموش رہنے پر عوام متعجب ہیں۔

اترکنڑا ضلع ساحلی ، ملناڈ اور نیم صحرا جیسے مختلف تہذیبوں کا سنگم ہے،ضلع میں  80فی صد جنگلات ہونے کی وجہ سے اس کو جنگلاتی ضلع بھی کہا جاتاہے۔ اترکنڑا ضلع 10،277کلومیٹر وسیع جغرافیائی علاقے پر محیط ہے۔ ساحلی پٹی پر بھٹکل ، ہوناور، کمٹہ ، انکولہ اور کاروار اور گھاٹ کے اوپر سرسی، سداپور، یلاپور، منڈگوڈ ، ہلیال ، جوئیڈا تعلقہ جات ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گھاٹ کے اوپر نیا تشکیل دیاگیا ڈانڈیلی تعلقہ بھی شامل ہے۔ ضلع میں کل 6ودھان سبھا کے حلقہ جات ہیں تین ساحلی پٹی پر تو تین گھاٹ کے اوپر ہیں۔ ضلع میں چار تحصیل معاون علاقے ہیں، بھٹکل ، کمٹہ ، کاروار اور سرسی ۔

علاحدہ ضلع کی ضرورت کیوں ؟ اترکنڑا ضلع کا مرکز کاروار ہے۔ سداپور تعلقہ کے منمنے سے ضلعی مرکز کاروار پہنچنا ہے تو کم سے کم 200کلومیٹر کا لمبا سفر طئے کرناہے۔ منڈگوڈ تلعقہ کے اولیہلی سے کاروار 170کلومیٹر دوری پرہے۔ ایسے دیہی عوام کو ضلعی مرکز میں کچھ کام ہوتو انہیں ایک دن مزید مختص کرناہے، ساتھ میں سفر، رہائش اور کھانے کا خرچ بھی اٹھاناپڑتاہے۔ ایسا نہیں کہ صبح نکلیں، کام کے بعد شام کو گھر لوٹیں۔

ڈی سی کی عدالت میں معاملہ ہوتو ضلع مرکز کو ہی جانا ہوگا، تحصیل سے متعلقہ معاملات ایک ہی سنوائی میں حل بھی نہیں ہوتے، معاملے کو لےکر فیصلہ ہونے تک ضلع مرکز کا چکر لگاتے رہنا ہوگا۔ زرعی بندوق لائسنس کی تجدیدکاری  کے لئے لازماً کاروار ہی جانا ہے، کسان کاروار پہنچنے پر ڈی سی یا متعلقہ افسر نہیں ہے تو اور ایک دن رکنا مجبوری ہوگی۔ ضلع سطح کے تقریبا ً سبھی دفاتر کاروار میں ہیں، جو بھی کام ہو اتنی دور کا سفر طئے کرکے کاروار ہی جانا ہے۔ کسی بھی افسروغیرہ کو سرکاری کاموں کے لئے  کاروار جانا ہے تو سفر کے لئے کم سے کم 6گھنٹے مختص کرنے ہیں۔ کسانوں کو بعض دفعہ افسران کی حاضری کے متعلق صحیح معلومات ، جانکاری بھی نہیں رہتی ، ان حالات پر غور کریں تو عوام اور کسانوں کے لئے ضلع مرکز کا دور رہنا کئی مشکلات پیدا کرتاہے۔ کاروار ضلع مرکز ہونے کے باوجود تجارتی مرکز کے طورپر سرسی ہی اہم حیثیت رکھتاہے۔ گھاٹ کے اوپر والے سبھی تعلقہ جات کے لئے سرسی ہی مرکزی مقام ہے۔ کاروار کے لئے سفری سہولیات بہت کم ہیں تو سرسی کے لئے ہر طرف سے سہولیات میسر ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کا مرکز بھی سرسی ہی ہے۔ اسی طرح سیاسی پارٹیوں کے مختلف لیڈران کا کہنا ہے کہ کئی حیثیتوں سے سرسی کو مرکزیت حاصل ہے دکشن کنڑا ضلع کو اُڈپی اور دکشن کنڑا ضلع میں جیسے تقسیم  کیا گیا ہے اسی طرح اترکنڑا ضلع کو بھی تقسیم کرنے کی بات کہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ساحلی پٹی کے عوام کو سہولت دینے والی نئی ٹرین کو افسران کی طرف سے ریڈ سگنل :نئی ٹرین  بہت جلد پٹری پر دوڑے گی ؛وزیر ریلوے سریش انگڑی

ساحلی پٹی کے عوام کو سہولت دینے والی ’بنگلورو۔ کاروار۔ واسکو ‘ٹرین کا اعلان کئے ہوئے کئی دن  بیتنے کے باوجود  افسران کی طرف سے ابھی تک سرخ بتی جلائے رکھنے پر ٹرین پٹری پر نہیں دوڑ ی ہے۔ افسران کے رویہ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتےہوئے مرکزی ریلوے وزیر برائے ریاست سریش انگڑی نے ...

بھٹکل تعلقہ میں 14مارچ تک اپنے گھروں کی تعمیر کا موقع ہے مستفیدین استفادہ کریں : رکن اسمبلی

2012سے 2019تک کی مدت میں مختلف رہائشی منصوبہ جات کے تحت منظور ہوئے گھروں کے مستفیدین کو متعینہ وقت میں گھروں کی تعمیر نہیں کئے جانے پر سرکاری معاوضہ منظوری کے لئے روک لگا دی گئی تھی۔ اب ریاستی حکومت اس روک کو ختم کرتےہوئے بھٹکل ہوناور ودھان سبھا حلقہ کے مستفیدین کو استفادہ کا موقع ...

بھٹکل انجمن حامئی مسلمین کے سابق صدر عبدالرحیم جوکاکو ’قومی تعلیمی ایکسلنس ایوارڈ ‘ سے سرفراز

بنگلورو میں22فروری کو منعقدہ اسوسی ایشن آف مسلم پروفیشلنس (اے ایم پی ) کے تیسرے سالانہ دوروزہ کنوینشن میں انجمن  حامئی مسلمین بھٹکل کے سابق صدر محترم عبدالرحیم جوکاکو کو سال 2019کے’ ایکسلنس ان ایجوکیشن ‘ تعلیمی ایوارڈ سے نوازتے ہوئے ان کی تہنیت کی گئی ۔

پی یو دوم کے سالانہ امتحانا ت میں  ضلع کے 14279طلبا و طالبات شریک ہونگے : ڈی سی

رواں سال 4مارچ سے شروع ہونے والی پی یو سی سال دوم کے سالانہ امتحانات کے لئے پوری تیاریاں ختم القریب ہیں۔ اترکنڑا ضلع سے امسال 14279طلبا و طالبات امتحان میں شریک ہونے کی اترکنڑا ضلع ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے جانکاری دی ۔

دہلی تشددپربولے اسد الدین اویسی ، امن بحال کرنے میں پولیس ناکام ، فوج کو تعینات کریں وزیر اعظم

حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ اور آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین ( اے آئی ایم آئی ایم ) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے الزام لگایا ہے کہ ملک کی راجدھانی دہلی میں تشدد کے بعد بگڑے حالات کو قابو کرنے میں دہلی پولیس ناکام رہی ہے۔

بھٹکل انجمن حامئی مسلمین کے سابق صدر عبدالرحیم جوکاکو ’قومی تعلیمی ایکسلنس ایوارڈ ‘ سے سرفراز

بنگلورو میں22فروری کو منعقدہ اسوسی ایشن آف مسلم پروفیشلنس (اے ایم پی ) کے تیسرے سالانہ دوروزہ کنوینشن میں انجمن  حامئی مسلمین بھٹکل کے سابق صدر محترم عبدالرحیم جوکاکو کو سال 2019کے’ ایکسلنس ان ایجوکیشن ‘ تعلیمی ایوارڈ سے نوازتے ہوئے ان کی تہنیت کی گئی ۔

پی یو دوم کے سالانہ امتحانا ت میں  ضلع کے 14279طلبا و طالبات شریک ہونگے : ڈی سی

رواں سال 4مارچ سے شروع ہونے والی پی یو سی سال دوم کے سالانہ امتحانات کے لئے پوری تیاریاں ختم القریب ہیں۔ اترکنڑا ضلع سے امسال 14279طلبا و طالبات امتحان میں شریک ہونے کی اترکنڑا ضلع ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے جانکاری دی ۔

دہلی میں پرتشدد مظاہرے 5 میٹرو اسٹیشن بند

شہریت ترمیمی قانون(سی اےاے)کے خلاف اور حمایت میں سڑک پر نکلے لوگوں کے درمیان تصادم کی وجہ سے دہلی میں حالات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ خصوصی طور پر شمال مشرقی دہلی میں تشدد کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

نربھیا کے قصورواروں کو الگ الگ پھانسی دینے والی عرضی پر سماعت 5 مارچ تک ملتوی

سپریم کورٹ نے ملک کو دہلا دینے والے نربھیا اجتماعی آبرو ریزی اور قتل معالے کے قصورواروں کو الگ الگ پھانسی دینے سے متعلق مرکز اور دہلی حکومت کی خصوصی اجازت عرضی پر سماعت پانچ مارچ تک کےلئے منگل کو ٹال دی۔

انڈر ورلڈ ڈان روی پجاری کو بنگلورو لایا گیا؛ عدالت میں پیش ، 14؍ دنوں تک پولیس کی حراست میں

متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب انڈرورلڈ ڈان روی پجاری کو پیر کی صبح اولین ساعتوں میں کرناٹکا پولیس کی ٹیم سنیگیل سے بنگلورو لے آئی۔ بنگلورو آمد کے بعد اسے شہر کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اسے 14؍ دن کی پولیس حراست میں دیا گیا۔