ایڈی یورپا کو قیادرت سے ہٹادیا جائے گا؟ اگر قسمت ہے تو لکشمن ساودھی وزیراعلیٰ بن جائیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں: رمیش جارکی ہولی

Source: S.O. News Service | Published on 29th July 2020, 11:56 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،29؍جولائی(ایس او نیوز) کرناٹک میں ایڈی یورپا کی قیادت والی بی جے پی حکومت کا کل 27جولائی ہی کو ایک سال مکمل ہوا ہے۔اس ایک سال میں ایڈی یورپا نے راحت کا سانس ہی نہیں لیا کہ بی جے پی میں قیادت کی تبدیلی کی باتیں ہورہی ہیں۔بی جے پی کے جن اراکین اسمبلی کو سرکاری بورڈس اور کارپوریشنوں کے صدور اور چیرمین نامزد کیا گیا تھا۔انہوں نے یہ عہدہ لینے سے صاف انکار کردیا ہے اور واضح کہا ہے کہ انہیں کابینہ میں شامل کیا جائے ورنہ کوئی بھی عہدہ نہیں چاہئے۔

اس درمیان نائب وزیراعلیٰ لکشمن ساودھی جنہوں نے پچھلے اسمبلی الیکشن اتھنی حلقہ سے ہارا تھا، اب ریاست میں بی جے پی حکومت کی قیادت کرنے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔اپنے ہم خیال اراکین اسمبلی کے ساتھ ساودھی نے ایڈی یورپا کو ہٹانے لابی بھی شروع کردی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی مہربانی سے ساودھی کو چناؤ ہارنے کے باوجود نہ صرف ریاستی کابینہ میں شامل کیا گیا بلکہ نائب وزیراعلیٰ کا عہدہ بھی دیا گیا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امیت شاہ ہی ساودھی کی پشت پناہی کررہے ہیں۔

اطلاع ہے کہ لکشمن ساودھی کل یا پرسوں دہلی جارہے ہیں، جہاں وہ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا، امیت شاہ اور مرکزی وزراء سے ملاقات کرکے اپنی قیادت کے لئے راہ ہموار کریں گے۔ریاستی بی جے پی میں چل رہی سیاسی سرگرمیوں سے متعلق جب ریاستی وزیر رمیش جارکی ہولی سے پوچھا گیاتو انہوں نے کہا کہ اگر لکشمن ساودھی کی قسمت میں ہے تو وہ وزیراعلیٰ بن جائیں گے، میرا کوئی اعتراض نہیں۔ سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ ریاست میں وزیراعلیٰ کو بدلنے اسٹیج تیار ہوگیا ہے۔

حال ہی میں ریاستی گورنر وجو بھائی والا نے لکشمن ساودھی سے ملاقات کرکے ریاست میں سیاسی اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔ مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے بنگلور میں بشمول رمیش جارکی ہولی، ڈاکٹر سدھاکر و دیگر ریاستی لیڈروں سے ملاقات کرکے ریاستی سیاست پر تبادلہ خیال کیا۔ ان تمام سرگرمیوں اور تبدیلیوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ اکثر وزراء اور اراکین اسمبلی ایڈی یورپا کے رویہ اوران کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں، اس لئے قیادت میں تبدیلی چاہتے ہیں۔اس ضمن میں امیت شاہ کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

لوگ کورونا سے مرے جارہے ہیں اور ریاستی حکومت کو لگی ہے ذات پات کے اعداد و شمار کی فکر

پورے ملک کی طرح ریاست میں بھی کورونا کا قہر جاری ہے ۔ عوام آکسیجن، اسپتال میں بستر اور دوائیوں کی کمی سے تڑپ رہے ہیں۔ لیکن ریاستی حکومت کو الیکشن اور ذات پات کی تفصیلات کی فکر لاحق ہوگئی ہے تاکہ آئندہ انتخاب کے لئے تیاریاں مکمل کی جائیں۔

کورونا پر قابو پانے میں ایڈی یورپا مکمل طورپر ناکام: ایم بی پاٹل

ریاست میں کورونا وباء سے نمٹنے میں ایڈی یورپا کی بی جے پی حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے۔سابق ریاستی وزیر و مقامی بی ایل ڈی ای میڈیکل کالج کے سربراہ ایم بی پاٹل نے آج یہاں ایک اخباری کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے ڈنکے کی چوٹ پر یہ بات بتائی۔

کرناٹک میں 120ٹن لکویڈ آکسیجن کی آمد

ریاست کرناٹک میں میڈیکل آکسیجن کی قلت ہنوز جاری ہے۔ حکومت آکسیجن منگوانے کی ہر ممکن کوشش کرنے کا دعویٰ کررہی ہے۔ ریاست کی راجدھانی بنگلورو میں پہلی آکسیجن ایکسپریس کی آمد ہوئی۔

کرناٹک لاک ڈاؤن:اب تک 19949گاڑیاں ضبط

ریاست   میں کوروناوائرس کے بے تحاشہ پھیلاؤ کے سبب ریاست گیرلاک ڈاؤن نافذکیاگیاہے،تاکہ کوروناپرقابوپاجائے۔لاک ڈاؤن کے دوران کسی بھی سوری کوسڑک پراترنے کی اجازت نہیں ہے۔اس قسم کی سختی کے باوجودبہت سارے لوگ گاڑیوں میں گھومتے ہوئے نظرآئے،خلاف ورزی کی پاداش میں پولیس سواریوں ...

تیجسوی سوریاریاست کیلئے زہریلابیج ہے:ڈی کےشیوکمار

ریاست کرناٹک  میں کووڈکے معاملات میں ہرگزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہاہے،اس دوران وزیراعلیٰ نے تیسری لہرپرقابوپانے کی تیاری کرنے کی صلاح دی ہے۔پہلے کووڈکی دوسری لہرپرقابوپانے کی کوشش کرے پھرتیسری لہرپرقابوپانے کی بات کریں۔یہ باتیں کے پی سی سی صدرڈی کے شیوکمارنے کہی۔