انتخابی اصلاحات کیلئے قانونی جدوجہد ضروری: دنیش امین مٹو

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 22nd August 2019, 10:47 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،22؍اگست (ایس او نیوز) انتخابی اصلاحات کے تعلق سے ملک میں عام بحث و مباحثہ ہونا چاہئے- بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مقابل ایک مضبوط سیاسی پارٹی کے قیام کے لئے قانونی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے- ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی دنیش امین مٹو نے کیا- شہر کے لیجس لیچر بھون میں منعقدہ مباحثہ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ہمارے ملک میں سیاست ایک کاروبار بنتی جارہی ہے- انتخابات جیتنے کیلئے کروڑوں روپئے خرچ کئے جاتے ہیں - انتخابات کی سیاست میں روپئے پیسے کی ریل پیل پر روک لگانے کیلئے انتخابی اصلاحات کی شدید ضرورت ہے- انہوں نے کہا کہ کئی سال قبل انتخابی اصلاحات کے سلسلے میں رکن پارلیمان اندرجیت گپتا کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی گئی تھی- کمیٹی میں سومناتھ چٹر جی اور من موہن سنگھ جیسے قدر آور لیڈر شامل تھے- کمیٹی نے ملک میں انتخابی اصلاحات کے لئے انتخابات کے دوران امیدواروں کو ملک کی طرف سے اخراجات کی رقم فراہم کرنے کی سہولت (اسٹیٹ فنڈنگ) کی سفارش کی تھی اور دیگر کئی سفارشات پر مشتمل اپنی رپورٹ پیش کی تھی- ان سفارشات پر عمل نہیں کیا گیا- یہاں تک کہ جب من موہن سنگھ خود وزیر اعظم تھے اس رپورٹ پر پارلیمنٹ میں بحث تک نہیں کی گئی اور رپورٹ کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا- آج ملک کی پارلیمان کی یہ حالت ہے کہ عام اور متوسط طبقہ کا ایک فرد رکن پارلیمان منتخب ہوکر ملک کے ایوان میں نہیں پہنچ سکتا- انتخابات روپئے پیسے کی طاقت سے ہی جیتے جاسکتے ہیں - پارلیمان کے کل اراکین میں 449 اراکین کروڑ پتی ہیں - اور اقتدار عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جارہا ہے-

ایک نظر اس پر بھی

دوہفتوں میں وقف بورڈ تشکیل دیا جائے ریاستی حکومت کو ہائی کورٹ کی سخت ہدایت

ریاستی حکومت کی طرف سے وقف بورڈ کی تشکیل میں کی جا رہی غیر معمولی تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ نے چہارشنبہ کے روز ریاستی حکومت کو یہ سخت ہدایت جاری کی کہ دو ہفتوں کے دوران ریاستی وقف بورڈ تشکیل دیا جائے -

وزیرا عظم مودی کے جنم دن پر آر وی دیشپانڈے نے پیش کی مبارکباد۔دل کھول کر ستائش کرنے کے پیچھے کیا ہوسکتا ہے راز؟

یہ بات ثابت شدہ ہے کہ سیاست کوئی بھی مستقل دوست یا مستقل دشمن نہیں ہوتا۔ مگر نظریاتی اختلاف یا اتفاق کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ اگر مستقل نہ ہوتو کسی بھی شخصیت کا وقار مجروح ہوتا ہے۔

تبریزانصاری ہجومی تشددکیس: بنگلوروآئی آئی ایم کے اساتذہ اورطلبا نے وزیراعظم کولکھا خط

جھارکھنڈ میں پیش آئے تبریزانصاری کے ماب لینچنگ واقعہ میں پولیس جانچ پرسوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس درمیان بنگلورو میں آئی آئی ایم کے اساتذہ اورطلبا نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے۔ ملک کے باوقار ادارے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ کے طلبا اوراساتذہ نے جھارکھنڈ پولیس کی ...