دلی گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے خلاف درج ایف آئی آر کو واپس لینے کا مطالبہ

Source: S.O. News Service | Published on 6th April 2020, 3:39 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی/ پٹنہ،6؍اپریل(ایس او نیوز؍یو این آئی) پٹنہ صاحب کے جتھیدار گیانی رنجیت سنگھ نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے دلی میں لاک ڈاؤن کے دوران پھنسے لوگوں کو گورودوارہ مجنوں کا ٹیلہ میں پناہ لینے اور لنگر دینے کے جرم میں دلی سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے خلاف درج ایف آئی آر رد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مذہبی معاملوں میں سکھوں کے پانچ اعلی اداروں میں سے ایک تخت شری ہرمندر صاح پٹنہ کے جتھیدار گیانی رنجیت سنگھ نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں پھنسے لوگوں نے گورودوارہ مجنوں کا ٹیلہ میں پناہ مانگی تھی کیونکہ وہ اپنے گھروں کو نہیں جا سکتے تھے اور سکھوں نے انسانیت کی خدمات کے تحت ان لوگوں کی درخواست قبول کرلی تھی۔

انہوں نے کہا کہ خدمات کی اعلی روایات ادا کرتے ہوئے دلی سگھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی نے سماجی دوری سمیت دیگر سرکاری احکامات پر عمل کرتے ہوئے ان مجبور لوگوں کو رہنے، کھانے اور دیگر سبھی ممکنہ خدمات فراہم کیں اور دلی حکومت کے افسروں کو وقت پر اس کی پوری اطلاع دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا میں دلی سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی نے انسانیت کی خدمت کا قابل ستائش کام کیا ہے۔

جتھیدار سنگھ نے دلی سکھ گورو دوارہ پربندھن کمیٹی کے خلاف دلی حکومت کی جانب سے درج ایف آئی آر کی سخت مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم نرینر مودی اور مرکزی وزیر امت شاہ سے اس ایف آئی آر کو فوری طور پر رد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے دلی سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کا نظام الدین تبلیغی جماعت سے موازنہ کرنے کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ پٹنہ صاحب گورودوارہ کمیٹی نے اپنے مینجمنٹ کے سبھی سرایوں کو بہار حکومت کو مریضوں کے علاج اور ڈاکٹروں اور نرسوں کو ٹھہرنے کے لئے دیئے ہیں جبکہ پنجاب کے ایک سو گورو دوارے دوسری ریاستوں کے ضرورت مند مزدوروں کو روزان لنگر وغیرہ دے رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

تبلیغی جماعت کے ارکان کے خلاف درج کیس میں کسی کی گرفتاری نہیں: دہلی پولیس نے ہائی کورٹ کو دیا جواب

دہلی پولیس نے دہلی ہائی کورٹ کو منگل کو بتایا کہ کووڈ19 لاک ڈاؤن کے دوران نظام الدین مرکز میں ہوئے مذہبی اجتماع میں حصہ لینے کے لئے تبلیغی جماعت کے ارکان کے خلاف درج کیس میں اس نے نہ تو کسی کو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی کسی کو حراست میں لیا ہے۔

جموں کے ایک وکیل اور کشمیر کی ایک خاتون کورونا سے ہلاک، لوگ دہشت زدہ

 جموں سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل اور جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کی ایک خاتون کی موت کے بعد کورونا ٹیسٹ مثبت آنے سے جموں و کشمیر یونین ٹریٹری میں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 23 ہوگئی ہے۔ ان ہلاکتوں کے بعد لوگوں میں ایک دہشت کا ماحول بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔