دہلی تشدد: مسجد پرپتھرائو کیس میں ملزمان کے خلاف الزامات طے

Source: S.O. News Service | Published on 25th November 2021, 12:57 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی ،25؍نومبر(آئی این ایس انڈیا) دہلی کی ککڑڈوما کورٹ نے فروری 2020 کے ایک معاملے میں باپ بیٹے کے خلاف الزامات طے کیے ہیں۔ اس معاملے میں مبینہ طور پر ایک مسجد کو آگ لگانے، اس میں توڑ پھوڑ اور فسادات کے دوران پتھراؤ کرنے کا الزام ہے۔اس واقعے کے حوالے سے دی گئی شکایت کے مطابق 25 فروری 2020 کو دہلی کے کھجوری خاص علاقے میں جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے ایک مسجد میں توڑ پھوڑکی گئی۔

مٹھن سنگھ اور ان کے بیٹے جانی کمار، جو مبینہ طور پر پرتشدد ہجوم کی توڑ پھوڑ میں ملوث تھے، کو ملزم بنایا گیا ہے۔ملزم نے اعتراف جرم نہیں کیا۔عدالت نے دونوں ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت فرد جرم عائد کی اور انہیں ان کے وکلاء کی موجودگی میں مقامی زبان میں وضاحت کی۔ اس نے جرم کا اعتراف نہیں کیا اور مقدمے میں ٹرائل کا کہا۔

ایک نظر اس پر بھی

بھیما کوریگاؤں معاملے کی ملزم سدھا بھاردواج کی مشکلات میں اضافہ، ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی این آئی اے

چھتیس گڑھ کی معروف سماجی کارکن اور وکیل سدھا بھاردواج کو ممبئی ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی ضمانت کے خلاف قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔