ایم جے اکبر کا صحافی پریا رمانی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ عدالت سے خارج

Source: S.O. News Service | Published on 18th February 2021, 12:01 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،17؍فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی کی ایک عدالت نے بدھ کے روز سابق مرکزی وزیر اور تجربہ کار صحافی ایم جے اکبر کی طرف سے دائر ہتک عزت کا مقدمہ خارج کرتے ہوئے صحافی پریا رمانی کو الزامات سے بری کر دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ایک خاتون کو اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے درد کو دہائیوں کے بعد بھی بیان کرنے کا حق ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ سماج میں عزت اور شہرت رکھنے والا شخص بھی جنسی ہراسانی کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ خیال رہے کہ صحافی پریا رمانی نے ایم جے اکبر پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد ایم جے اکبر نے ان کے خلاف فوجداری ہتک عزت کا مقدمہ درج کرا دیا تھا۔

یہ فیصلہ ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ رویندر کمار پانڈے نے سنایا۔ گزشتہ سماعت کے دوران انہوں نے اپنا فیصلہ یہ کہتے ہوئے محفوظ رکھ لیا تھا کہ ’’چونکہ معاملہ میں وکلا کی بحث کافی طویل ہے، لہذا فیصلہ سنانے میں مزید وقت درکار ہے۔‘‘ اس کے بعد اس معاملہ میں فیصلہ سنانے کے لیے 17 فروری کی تاریخ مقرر کی گئی۔

’لائیو لا‘ کی ویب سائٹ کے مطابق فیصلہ میں کہا گیا کہ ’’سماج کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جنسی ہراسانی سے متاثرہ کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے۔ آئین میں سبھی کو قانون کی نظر میں برابر رکھا گیا ہے اور متاثرہ جس پلیٹ فارم پر چاہے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے آزاد ہے۔‘‘

فیصلہ میں مزید کہا گیا، ’’وقت آگیا ہے کہ سماج اس بات کو سمجھے کہ متاثرہ کو نفسیاتی طور پر لگنے والے دھچکے کی وجہ سے بولنے میں برسوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ کوئی بھی عورت جنسی ہراسانی کے خلاف اپنی آواز اٹھانے کی بنا پر سزا کی مستحق نہیں ہو سکتی۔‘‘

واضح رہے کہ 2018 میں ہیش ٹیگ موومنٹ ’می ٹو‘ کے تناظر میں پریا رمانی نے اکبر کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ جس کے بعد اکبر نے رامانی کے خلاف فوجداری ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا اور مرکزی وزیر کے عہدے سے استعفی دے دیا۔ یہ مقدمہ 2019 میں شروع ہوا تھا اور اس میں تقریباً دو سال تک سماعت ہوئی۔

پریا رمانی نے 2017 میں ’ووگ‘ کے لئے ایک مضمون لکھا اور نوکری کے لیے انٹرویو کے دوران اپنے سابق باس کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے بارے میں بتایا۔ ایک سال بعد انہوں نے انکشاف کیا کہ مضمون میں ہراساں کرنے والا شخص ایم جے اکبر تھے۔

ایم جے اکبر نے عدالت کو بتایا کہ رمانی کے الزامات فرضی ہیں، ان کی ساکھ اور شبیہ کو اس سے نقصان پہنچا ہے۔ دوسری طرف، پریا رمانی نے کہا کہ وہ اعتماد اور عوامی مفاد کی خاطر ان حقائق کو عوام کے سامنے لائیں ہیں۔ اگر پریا رمانی قصوروار ثابت ہوتیں تو انہیں دو سال قید یا جرمانے یا دونوں کی سزا سنائی جا سکتی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

دہلی پولیس کا شری نیواس بی وی سے پوچھ گچھ کرنا سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایس ڈی پی آئی

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی جنرل سکریٹری کے ایچ عبدالمجید نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں دہلی میں کوویڈ وبائی مرض سے متعلق امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے انڈین یوتھ کانگریس کے صدر شری نیواس بی وی سے دہلی پولیس کی جانب سے پوچھ گچھ کا سخت نوٹس  ...

کورونا کا خاتمہ جولائی تک نہیں ہوگا: ایکسپرٹ

جس طرح کورونا کے نئے معاملوں کی تعداد میں کمی درج ہو رہی ہے اس سے یہ امید بنی ہے کہ ہندوستان میں کورونا کی دوسری لہر کا خاتمہ جلد ہو جائے گا لیکن وبائی بیماریوں کے ماہر شاہد جمیل کا کہنا ہے کہ بھلے ہی ابھی کچھ ریاستوں میں کورونا کے کیس کم ہوتے نظر آ رہے ہوں لیکن دوسری لہر کا ...

سادگی کے ساتھ عید منائیں اور چھوٹی جماعت کے ساتھ عید کی نماز ادا کریں ، سرکردہ مسلم رہنماوں کی مسلمانوں سے اپیل

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی ۔ جمعیت علماءہند کے صدر مولانا ارشد مدنی ۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی سمیت دیگر سرکردہ علماء اور مسلم قائدین مسلمانوں نے اپیل کی ہے کہ وہ کرونا کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر احتیاط کریں اور مختصر جماعت ...

لاک ڈاؤن پر ہو سختی سے عمل: اشوک گہلوت

راجستھان میں عالمی وبا کورونا کی دوسری لہر کی چین توڑنے کے لئے آج صبح 5بجے سے لے کر 24 مئی تک سخت لاک ڈاؤن نافذ ہوگیا ہے۔ اس مدت کے دوران، ہنگامی اور ضروری خدمات، میڈیکل، دودھ اور دیگر ضروری خدمات کے لئے رعایت رہے گی۔