شاہین باغ اور جے این یو سے کیوں دوری اختیار کیے ہے ’ عام آدمی پارٹی‘: کانگریس

Source: S.O. News Service | Published on 24th January 2020, 9:07 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،24/جنوری(ایس او نیوز/ایجنسی) کوئی کہہ رہا ہے کہ 8 تاریخ کو دہلی میں ’ہندوستان بنام پاکستان‘ مقابلہ ہوگا، تو کوئی کہہ رہا ہے کہ مفت وائی فائی ڈھونڈتے ڈھونڈتے فون کی بیٹری ختم ہو گئی، کوئی یہ کہتا ہوا نظر آ رہا ہے کہ کم از کم انتخابات میں اسکول اور ہسپتال کی تو بات ہو رہی ہے۔ جیسے جیسے 8 فروری قریب آ رہی ہے ویسے ویسے انتخابی سرگرمیاں اور ایک دوسرے کے اوپر حملوں میں بھی تیزی آتی جار ہی ہے۔ جمعرات کو وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دہلی کی کیجریوال حکومت پر جم کر حملے کئے۔ شاہ نے کہا کہ پورے راستے مفت وائی فائی ڈھونڈتا رہا لیکن وائی فائی تو نہیں ملا، فون کی بیٹری اور ختم ہو گئی۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے جواب میں کہا ’’ہم نے مفت وائی فائی کے ساتھ مفت بیٹری چارجنگ کا بھی انتظام کیا ہے۔ دہلی میں 200 یونٹ تک بجلی مفت ہے۔‘‘

عام آدمی پارٹی کے اوپر جہاں ٹکٹ فروخت کرنے کے الزام لگ رہے ہیں جس میں ان کی پارٹی کے ہی رکن اسمبلی این ڈی شرما اور آدرش شاستری کا کہنا ہے کہ پارٹی نے اسمبلی انتخابات کے لئے ٹکٹ بیچے ہیں، وہیں عام آدمی پارٹی سے انتخابی منشور میں کئے گئے ان وعدوں کے بارے میں سوال کئے جا رہے ہیں جو وہ پانچ سال میں پورے نہیں کر پائی۔ بی جے پی اور کانگریس کیجریوال حکومت سے سوال کر رہی ہے کہ جو پانچ سال میں پانچ سو نئے اسکول کھولنے کا وعدہ کیا تھا اس میں سے ایک بھی کیوں نہیں کھولا گیا۔ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں جب اتنی اچھی پڑھائی ہو رہی ہے تو پھر طلباء کی تعداد کیوں کم ہو رہی ہے اور بورڈ امتحانات میں پاس ہونے کی فیصد میں کیوں کمی ہو رہی ہے۔ کانگریس کی راگنی نائک کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ شیلا دکشت حکومت نے جو اسکولوں کی مضبوط بنیاد ڈالی تھی، ان میں رنگ روغن کر کے ان کا رکھ رکھاؤ تو کیا ہے۔ لیکن نئے اسکول کھولے نہیں اور الٹا تعلیم کا معیار خراب کر دیا۔‘‘

بی جے پی یہ الزام لگا رہی ہے کہ محلہ کلینک کے نام پر وزیر ستیندر جین کی بیٹی کو ذمہ داری دینا سیدھی بد عنوانی تھی اور یہ بھی کہہ رہی ہے کہ اسکولوں کے ایک کمرے پر 20 لاکھ روپے سے زیادہ خرچ کرنا بھی بدعنوانی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اُدھر عآپ مفت بجلی، پانی اور خواتین کے لئے بس میں مفت سفر کو لے کر عوام کے پاس جا رہی ہے جس پر بی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ پیسہ عوام کا ہے اور عوام سے ہی وصول کیا جائے گا۔

کانگریس کا عام آدمی پارٹی سے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ ایک خاص طبقہ کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے شاہین باغ، جے این یو اور جامعہ سے خود کو دور رکھ رہی ہے۔ راگنی نائک کا کہنا ہے کہ ’’عام آدمی پارٹی کا جنم ایک تحریک سے ہوا ہے لیکن جب ملک کے آئین کے لئے خواتین سڑکوں پر تحریک چلا رہی ہیں تو وہ اس تحریک سے خود کو کیوں دور دکھا رہی ہے۔ جے این یو میں اتنا تشدد ہوا لیکن عام آدمی پارٹی سب جگہ سے نہ صرف غائب رہی بلکہ اس نے انتخابی فائدوں کی وجہ سے پوری خاموشی بنائی ہوئی ہے۔‘‘

بہر حال، 8 فروری تک یہ سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر ایسے ہی الزامات لگاتے رہیں گے اور ہر پارٹی کی یہی کوشش رہے گی کہ عوام ان کے حق میں بٹن دبائے۔اس سب میں بی جے پی کے کپل مشرا نے جو 8 تاریخ کو ’ہندوستان بنام پاکستان مقابلہ‘ کا نام دیا ہے وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان کو اس بیان کے لئے نوٹس ضرور جاری کیا ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے امیدواروں کو انتخابات کے لئے نا اہل قرار دینا چاہئے۔

ایک نظر اس پر بھی

دہلی: خفیہ بیورو کے افسر انکت شرما کا بہیمانہ قتل، لاش نالے سے برآمد

شمال مشرقی دہلی میں لوگ دہشت کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس درمیان خفیہ بیورو (آئی بی) کے ساتھ کام کرنے والے ایک 26 سالہ نوجوان کی لاش شمال مشرقی دہلی واقع چاند باغ سے برآمد ہونے کے بعد لوگوں میں مزید خوف دیکھنے کو مل رہا ہے۔

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کا ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا مطالبہ، اسمبلی میں ہنگامہ

  اترپردیش اسمبلی میں بدھ کو سماج وادی پارٹی(ایس پی) نے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کے مطالبے کے ساتھ ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے اسپیکر کو کارروائی کو ملتوی کرنی پڑی۔ جس کی وجہ سے وقفہ سوالات تقریباً 50 منٹوں تک متأثر رہا۔

دہلی کے موجودہ حالات پر ممتا بنرجی نے ’جہنم‘ کے عنوان سے لکھی نظم

وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے دہلی میں حالیہ تشدد کے واقعات پر ’جہنم‘ کے عنوان سے ایک نظم اپنے فیس بک پر پوسٹ کی ہے جس میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تشدد کے واقعات میں اموات پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ہولی سے قبل خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے“۔

دہلی تشدد: مسجد پر لہرایا گیا بھگوا جھنڈا، پولیس نے 24 گھنٹے بعد بھی نہیں اتارا!

راجدھانی کے شمال مشرقی ضلع میں منگل کے روز شدید تشدد کے دوران اشوک نگر علاقے میں زبردست ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ اس دوران علاقے کی گلی نمبر 5 میں واقع ایک مسجد پر شرپسندوں نے حملہ کیا اور اسے پوری طرح تباہ کر دیا۔ اتنا ہی نہیں کچھ شرپسند عناصر نے مسجد کے مینار پر چڑھ کر وہاں بھگوا ...

سپریم کورٹ کے معاملہ کو ملتوی کرنے پر شاہین باغ کی مظاہرین کا رد عمل

 قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے سپریم کورٹ کے روڈ کے معاملے میں سماعت کو 23 مارچ تک ملتوی کردینے کے بعد ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے معاملہ کو ملتوی کر دیا ہے، اگرچہ تاخیر کرنا مناسب نہیں۔