بغداد میں مسلح حملہ آوروں کے مظاہرین پرخونیں حملے کے باوجود احتجاج جاری

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 8th December 2019, 7:09 PM | عالمی خبریں |

بغداد /8 دسمبر (آئی این ایس انڈیا)عراق کے دارالحکومت بغداد میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں کے خونریز حملے کے باوجود مظاہرین نے حکومت مخالف احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور وہ جنوبی شہروں میں بھی اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔بغداد میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب نامعلوم حملہ آوروں نے مظاہرین پر دھاوا بول دیا تھا اور ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی۔انھوں نے مظاہرین سے ایک عمارت کو مختصر وقت کے لیے خالی بھی کرالیا تھا۔ان کی یہ کارروائی ہفتے کی صبح تک جاری رہی تھی۔سکیورٹی فورسز کے اہلکار ان مسلح حملہ آوروں کی اس کارروائی کے وقت نزدیک ہی موجود تھے، مگر انھوں نے کوئی مداخلت نہیں کی اور ان نقاب پوشوں کو آزادانہ خون کی ہولی کھیلنے دی ہے۔حکومت مخالف مظاہرین پر یکم اکتوبر سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران میں یہ سب سے بڑا خونیں حملہ تھا۔ عراقی حکام کے مطابق اس حملے میں مرنے والے مظاہرین کی تعداد پچاس ہوگئی ہے اور ایک سو تیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔طوائف الملوکی کا شکار اس ملک میں مظاہرین کی ایک دن میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔یورپی یونین، فرانس اور برطانیہ نے ہفتے کے روز الگ الگ بیانات میں اس حملے کی مذمت کی ہے۔واضح رہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکتے اور براہ راست فائرنگ کرتے رہتے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ سکیورٹی فورسز کے بجائے مسلح حملہ آوروں نے مظاہرین پر کھلم عام دھاوا بولا ہے اور ان کا عراقی سکیورٹی فورسز سے کوئی تعلق نہیں، تاہم کوئی گروپ اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہوا۔حملہ آوروں نے بغداد کے خیلانی چوک اور دریائے دجلہ پر واقع السنک پل پر مظاہرین پر حملہ کیا تھا۔ان دونوں کے درمیان واقع علاقہ بغداد میں احتجاجی مظاہروں کا مرکز ہے۔حکومت مخالف مظاہرین نے ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیاؤں پر اس حملے کا الزام عاید کیا ہے۔ان ملیشیاؤں کے جنگجو گذشتہ ہفتوں کے دوران میں بغداد اور عراق کے جنوبی شہروں میں مظاہرین پر ایسے ہی حملے کرتے رہے ہیں۔
 

ایک نظر اس پر بھی

اردغان کی معاہدے کی خلاف ورزی، ترک فوجیوں کی لیبیا آمد جاری

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی طرف سے لیبیا میں عدم مداخلت سے متعلق طے پائے برلن معاہدے کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔ ترکی کی طرف سے لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے مسلسل فوجی بھیجے جا رہے ہیں۔کل جمعہ کو ترک صدر نے ایک بیان میں کہا کہ لیبیا میں فائز السراج کی قیادت میں ...

عراق میں ایرانی حملوں سے 34 امریکی فوجی دماغی طورپر متاثرہوئے: پینٹاگان

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے جمعہ کے روز اعتراف کیا ہے کہ 8 جنوری کو عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملوں کے باعث 34 امریکی فوجی دماغی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ پینٹا گان کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں سے 34 فوجی اہلکاروں لگنے والی دماغی چوٹوں کی تشخیص ہوئی ہے اور ان ...

ترکی میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 18 افراد ہلاک، 500 زخمی

ترکی کے مشرقی علاقوں میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں18 افراد جاں بحق اور 500 سےزیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔

جرمنی: سی ایس یو کی طرف سے پہلا مسلمان میئر اُمیدوار

اسلام اور جرمنی کی سیاسی جماعت کرسچن سوشل یونین کے مابین تعلقات کو ایک حساس اور مشکل موضوع تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن اب اسی جماعت نے میئر کی سیٹ کے لیے ایک 37 سالہ مسلمان امیدوار اوزان ایبش کا انتخاب کیا ہے۔ اس مسلمان امیدوار کا انتخاب میونخ کے شمال میں واقع قصبے 'نوئے فارن‘ کی سی ...