لبنان دھماکہ: اموات کی تعداد 100 سے تجاوز، دو ہفتوں کے لئے ایمرجنسی نافذ

Source: S.O. News Service | Published on 5th August 2020, 9:02 PM | عالمی خبریں |

بیروت،5؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) لبنان کے دار الحکومت بیروت میں ہوئے شدید دھماکے کے مد نظر ملک میں دو ہفتے کے لئے ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ملک میں قومی سوگ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اس دھماکے میں اب تک 100 سے زیادہ افراد جان بحق ہو گئے ہیں جبکہ تقریباً 4000 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

صدر مشیل عون نے بدھ کے روز یہ اعلان کیا۔ بیروت بندرگاہ پر ایک ہینگر میں ذخیرہ کیے گئے تقریباً 2,750 ٹن امونیم نائیٹریٹ میں منگل کے شام ہوئے سلسلہ وار دو شدید دھماکوں نے پوری دنیا کو ہلا دیا۔وزیر اعظم حسن دیاب نے بدھ کے روز کو ’یوم تعزیت‘ کے طور منانے کی اپیل کی۔ دھماکے کی وجوہات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔

لبنانی ریڈ کراس سوسائٹی نے بدھ کے روز اس خدشے کا اظہار کیا۔ سوسائٹی کے سکریٹری جنرل جارج کیتنہ نے ایل بی سی آئی نیوز چینل کو بتایا کہ "ہمارے پاس چار ہزار سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کے اعداد ہیں، جن میں سے کچھ شدید زخمی ہیں۔ اس کے علاوہ اس واقعے میں مرنے والے افراد کی تعداد 100 سے زائد ہے۔ ابھی بھی کچھ لوگ تباہ حال عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسمار عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کے ہلاک، زخمی اور دفن ہونے کے بارے میں ریڈ کراس سوسائٹی میں مسلسل کالیں آرہی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ زخمیوں کو بیروت سے باہر کے اسپتالوں میں بھیجیں کیونکہ یہاں کے اسپتال زخمی لوگوں سے بھرگئے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کے وسط میں واقع ساحلی ویئرہاؤس کے علاقے میں دھماکہ ہوا تھا۔ سٹی گورنر نے بتایا کہ اس دھماکے کی وجہ سے متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور اسپتالوں میں زخمیوں کا رش ہے۔ وزارت صحت کے مطابق ، اس واقعے میں 100 افراد ہلاک اور چار ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

لیبیا : فائز السراج اکتوبر کے اختتام تک اقتدار سے دست بردار ہونے کے لیے تیار

لیبیا میں وفاق حکومت کی صدارتی کونسل کے سربراہ فائز السراج نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ اکتوبر کے اختتام تک اقتدار سے دست بردار ہونے اور اپنی ذمے داریاں ایگزیکٹو اتھارٹی کے حوالے کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ...